• صارفین کی تعداد :
  • 993
  • 1/22/2013
  • تاريخ :

شبلي کا اسلوب بيان

پرانی کتاب

شبلي کا تصور سوانح نگاري

الغزالي (1902 ء)

سوانح مولانا روم

شبلي کي سوانح نگاري کي خصوصيات

شبلي کے اسلوب کي نمايان صفت اس کي وہ قوت اور جوش بيان ہے جو ان کے احساس کمال اور احساس عظمت کي پيداوار ہے-

شبلي کي تحريروں کا دوسرا خاصہ ايجاز و اختصار ہے-

شبلي کي تحريروں ميں تشبيہيں کم ہيں اور جو ہيں وہ بھي خاص خاص موقعوں پر اور زيادہ تر انتدائي کتابوں ميں! وہ محمد حسين آزاد کي طرح مرکب تشبيہات اور مراعات النظير کے طويل سلسلوں ميں بہت کم الجھتے ہيں- مولانا حالي کي طرح ان کي عبارتوں ميں تمثيلوں کي بھرمار نہيں-

ان کي تقريروں ميں فارسي کي رنگين تراکيب اور اردو کے برمحل محاورے ايک ساتھ چلتے ہيں-

شبلي کي نثر کا ايک خاص امتياز اس کي شعريت ہے- ايک خاص رنگ کے شاعرانہ عناصر مولانا محمد حسين آزاد کي نثر ميں بھي ہيں مگر نثر شبلي کي شعريت کي خاص بات يہ ہے کہ اس ميں وہ عناصر زيادہ ہيں جو غزل سے مخصوص ہيں- ان کي تحريروں کو پڑھ کر يہ احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ کسي اور زمانے ميں يا کسي اور ماحول ميں ہوتے تو شايد دوسرے غالب يا دوسرے فغاني يا نظيري ہوتے-

ان کي نثر شعريت ميں بھي ايمائيت ايجاز اور اجمال کے عناصر زيادہ ہيں - اس کے علاوہ شديد جذباتي معاني کي ترجماني بھي پائي جاتي ہے - ان کي ترکيبيں بيشتر فارسي شاعري خصوصا ہندوستان کي تازہ گويوں کے کلام سے ماخوذ ہوتي ہے- ان ميں شباب و شراب، بہار و موسم گل، مستي و بےخودي ، رنگيني و رغنائي کے تصورات پاۓ جاتے ہيں - لطيف، خوش آواز، شيريں، سبک، جذبہ انگيز اور حسين الفاظ اور بے خود کردينے والي ترکيبيں سب شاعري کي دنيا سے حاصل کرتے ہيں اور  نثر ميں بڑي سليقہ مندي اور خوش مذاقي سے کھپا ديتے ہيں -

شبلي اپني نثر ميں شاعرانہ فضا پيدا کرنے کا بڑا اہتمام کرتے ہيں - وہ استعارہ و کنايہ اور مطالب کي رنگين اور مختصر اور دلکش انداز ميں  ادا کر ديتے ہيں - ان کي اکثر کتابيں اشعار سے شروع ہوتي ہيں - وہ اشعار کے استعمال سے طنزو تعريض کا کام بھي ليتے ہيں - ان کي اکثر کتابيں اشعار سے شروع ہوتي ہيں - وہ اشعار کے استعمال سے طنز و تعريض کا کام بھي ليتے ہيں - شايد ان کي بہترين اشعار سے شروع ہوتي ہيں- وہ اشعار کے استعمال سے طنز و تعريض کا کام ليتے ہيں- شايد ان کي بہترين تعريفيں وہي ہيں جو اشعار کے وسيلے سے لائي گئي ہيں - فخريہ مضامين کے ليۓ بھي شعر  ہي کام ليتے ہيں -

شبلي کي نثر بظاہر سادہ ہوتي ہے مگر اس ميں حسن کاري کي ايک خاص شان پائي جاتي ہے - جو ان کے شاعرانہ طرز بيان کے ساتھ ان کي نثر کو صوتي اور ظاہري اعتبار سے بھي اثر ، حسن اور لطف کا نادر  مجموعہ بنا ديتي ہے مگر يہ صنعت گري آزاد کي صنعت گري سے مختلف ہے کيونکہ يہاں تکلف کے مقابلے ميں بےساختہ پن ہے -

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان