• صارفین کی تعداد :
  • 1338
  • 1/22/2013
  • تاريخ :

سوانح مولانا روم

سوانح مولانا روم

شبلي کا تصور سوانح نگاري

الغزالي (1902 ء)

" سوانح مولانا روم  " کا بڑا مقصد يہي ہے کہ  مولانا روم کو حکيم کي ميشيت سے   اور ان کي مثنوي کو عقائد اور کلام کي حيثيت سے پيش کيا جاۓ - محض سوانح عمري کي حيثيت سے يہ کتاب شبلي کي غالبا ناقص ترين تصنيف ہے -  جس طرح مولانا کے قديم سوانح نگار  سپہ سالار  نے   ان کي زندگي سے انصاف نہيں کيا  اسي طرح جديد محققين  کے سپہ سالار مولانا شبلي نے بھي ان کي سوانح نگاري کا حق ادا نہيں کيا - سپہ سالار  نے مولانا روم کي کرامتوں  اور خارق عادت  واقعات کے ذريعے  ان کو ايک مافوق البشر  ہستي  کي حيثيت سے پيش کيا ہے - شبلي نے  مواد کي قلت کي وجہ سے سپہ سالار  ہي کي روايتوں کو کانٹ چھانٹ کر ہمارے سامنے رکھ ديا ہے - البتہ يہ فرق ضرور ہے کہ سپہ سالار  نے انہيں ايک دلي اور  صوفي کي حيثيت سے ديکھا ہے اور شبلي نے ان پر حکيم اور ماہر علم کے نقطہ نظر سے بھي نگاہ  ڈالي ہے - 

شبلي يوں تو خوش اعتقادي کے مخالف ہيں مگر " سوانح مولانا روم " ميں بارہا انہوں نے پرانے تذکرہ نگاروں کے عقيدت مندانہ حوالتي کو تسليم کيا ہے - ہيچو خاں تا تاري کے سپاہيوں کا مولانا کو تک کر تيرباراں کرنا اور کمانوں کا نہ کھينچ سکنا ، قونيہ ميں مسلسل 40 دن تک زلزلے کا جاري رہنا - اسي طرح شمس تبريز کے سلسلے ميں بعض عجيب و غريب واقعات -  ان سب ميں شبلي نے " مشتہرہ " درايت پرستي سے کام نہيں ليا - اصل بات يہ ہے کہ مولانا روم کے سوانح کے ليۓ مستند مواد کي بڑي کمي ہے - اسي ليۓ ان کي کوئي مفصل لائف شايد لکھي بھي نہ جا سکتي تھي - البتہ ان کي لائف کے کچھ نماياں پہلو ايسے تھے جن کو روشن کرکے دکھايا جا سکتا  تھا - شبلي نے بھي يہي کيا ہے - ان کے ليۓ رومي کي زندگي کے جو پہلو باعث کشش تھے انہوں نے اپني کتاب ميں سب سے زيادہ  انہي کي طرف توجہ  کي ہے - اول رومي کي  پرشور جذباتي طبيعات جس کے زير اثر انہوں نے صلاح الدين  زر کوب ، حسام الدين چلسي اور شمس تبريز سے عاشقانہ اور والہانہ ربط پيدا کيا ہے ، دوم رومي کا فلسفانہ ذہن جس کي بدولت انہوں نے عرفان و حکمت کو پيوند دے کر زندگي کا ايک مثبت فلسفہ ايجاد کيا جو عام صوفيانہ مسلک کے منفيانہ فقر کي عين ضد ہے - يہ وہ فلسفہ ہے جو زندگي اور حيات کي پرورش کرتا ہے اور جذب و مستي  اور سعي و عمل کو بقا و قوت  کا ضامن قرار ديتا ہے - بس شبلي کا مقصد انہي دو پہلوğ کو روشن کرکے دکھانا تھا اور اس ميں وہ کامياب بھي ہوئے- رومي کي سوانح نگاري نہ ان کا نصب العين تھا نہ انہيں اس ميں کامياني ہوئي-

سيرت النبي

شبلي کي "سيرت النبي" جس کي پہلي دو جلديں ان کي اپني مرتب کردہ ہيں، سادہ بياگرافي نہيں بلکہ اسے اس کے بنيادي نصب العين کے اعتبار سے دايرة المعارف البنويہ کہنا چاہيئے- اپني مکمل صورت ميں سيرت کے موضوع سے نکل کر اسلام کي صداقت اور حقانيت کے موضوع پر ايک کتاب بن جاتي ہے، تاہم اس کا سوانحي حصہ اپني جگہ مکمل اور مفصل ہے-

"سيرت النبي" کي غايت بھي شبلي کي باقي تصانيف کي طرح يہي ہے کہ اس سے اخلاق کي اصلاحي اور تربيتي کا کام ليا جائے- شبلي کے نزديک اخلاق کا بہترين طريقہ يہ ہے کہ نفوس قدسيہ کي زندگيوں کو عوام کے سامنے پيش کيا جائے- کيونکہ " دنيا ميں آج اخلاق کا جو سرمايہ ہے سب انہيں نفوس قدسيہ کا پرتو ہے-

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان