• صارفین کی تعداد :
  • 1655
  • 1/22/2013
  • تاريخ :

شبلی کا تصور سوانح نگاری

شبلی کا تصور سوانح نگاری

شبلي کي اہم سوانحي تصانيف يہ ہيں: 1- المامون 2- سيرة المامون 3- الفاروق 4- الغزالي 5- سيرت البني.

ان ميں بعض اوقات "شعر العجم" کو بھي شامل کرليا جاتا ہے مگر اصولا اس کو تذکرع يا شاعري کي تاريخ ميں شامل سمجھنا چاہيئے-

سوانح نگار کا موضوع "شخص" ہوتا ہے اور مورخ کا موضوع "امر واقعہ" زمانے سے دلچسپي رکھتا ہے-

اب شبلي اس نقطہ نظر سُ ہميں سوانح نگار سے زيادہ ايک مورخ معلوم ہوتے ہيں-

"المامون" کے ديباچے ميں انہوں نے اپنے طريق کار کي تشريح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ميں نے کوشش کي ہے  کہ "لائف" ميں بھي تاريخ کا مذاق قائم رہے- شبلي نے سوانح عمريوں کو پھيلاکر تاريخ بناديا ہے- ان کي سواننح عمرياں اتني پھيل جاتي ہيں کہ سوانح عمرياں نہيں رہتيں- زمانے کي تاريخ بن جاتي ہيں- المامون، سيرة  النعمان، الفاروق، الغزالي -- يہادں تک کہ "علم الکلام" اور "شعر العجم" بھي ايک معني ميں تاريخيں ہيں-

شبلي اصولا مورخ ثابت ہوتے ہيں- مگر اس سے يہ ہرگز مقصود نہيں کہ ان کو سوانح نگاروں کي صف ميں رکھا نہيں جا سکتا- شبلي اردو کے ايک بلند پايہ سوانح نگار بھي ہيں- اس ليے انہوں نے سوانح نگار کي قالب اور سانچا اختيار کيا اور تاريخ نگاري اور سوانح نگاري کو باہم ملانے کي کوشش کي-

شبلي کا تصور سوانح نگاري

يورپ ميں سوانح عمري کے فن کو 18 ويں ، 19 ويں صدي ميں جو ترقي ہوئي اس کے اصول شبلي سے پوشيدہ نہ تھے اس زمانے کے باقي سوانح نگاروں کي طرح وہ ان اصولوں پر پورا عمل نہيں کر سکے-

سچائي اور صداقت

شبلي کي رائے ميں خود اعتقادي سوانح عمري کے محاسن پر پاني پھير ديتي ہے- ان کا خيال يہ ہے کہ جس شخص کے عام ل-گ عقيدت مند ہوں گے ان کي سوانح عمري لکھنا نہايت نازک کام ہے-پس ايسے شخص کے حالات پر کڑي نظر ڈالني چاہيئے اور واقعات کي چھان بين کرتے وقت عام ہيرو کے حالات کے سلسلے ميں صحيح واقعہ کے ليے کوئي "ايسي سند درکار رہے جس ميں ذرہ برابر بھي شبہ گنجائش نہ ہو"-

بشري خط و خال

پراني سوانح عمريوں ميں بزرگوں کے متعلق جو کچھ لکھاجاتا ہے، اس سے يہ شبہ ہوتا ہے کہ يہ کسي مافوق البشر ہستي کي تصوير ہے ليکن شبلي اس طرز کے مخالف ہيں اور کہتے ہيں کہ "ہيرو" کي تصوير سادہ اور بشري ہوني چاہيئے- يہ درست ہے کہ سادہ نگاري عوام کو پسند نہ تھي مگر بقول شبلي "روحاني اوصاف کے نکتہ شناس جانتے ہيں کہ يہ طرز زندگي جس قدر سادہ اور آسان ہے، در اصل اسي قدر مشکل اور قدر کے ناقابل ہے-" 

* شبلي کي سوانح عمريوں کو ان کي معنوي خصوصيات کي بنا پر تين اقسام ميں منقسم کيا جا سکتا ہے:

1-علمي شخصيتوں کي سوانح عمرياں مثلا سر- النعمان، الغزالي، سوانح مولانا روم

2- سيرت النبي

3- تاريخي شخصيتوں کي سوانح عمرياں مثلا المامون، الفاروق-

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

يہ نہ تھي ہماري قسمت کہ وصال يار ہوتا / اگر اور جيتے رہتے يہي انتظار ہوتا