• صارفین کی تعداد :
  • 7120
  • 10/24/2011
  • تاريخ :

قيصر امين پور کے حالات زندگي

ڈاکٹر قیصر امین پور

قيصر امين پور 2 ارديبہشت 1338 ہجري شمسي کو ايران کے شہر دزفول ميں پيدا ہوۓ - انہوں نے اپني ابتدائي تعليم اپنے آبائي علاقے ميں ہي مکمل کي اور پھر اعلي تعليم کي غرض سے تہران تشريف لے آۓ جہاں انہوں نے تہران يونيورسٹي سے  فارسي ادب ميں ڈاکٹريٹ کي ڈگري حاصل کي -

انہوں نے 1376 ہجري شمسي ميں تہران يونيورسٹي سے ڈاکٹريٹ کي ڈگري مکمل کي پھر حوزہ انديشہ و ہنر اسلامي ميں 1358 ہجري شمسي سے کام کرنا شروع کر ديا -

سن 1367 ہجري شمسي ميں وہ ايک مجلھ بنام " سروش "  کے  ايڈيٹر بنے اور اسي سال سے الزھرا يونيورسٹي اور تہران يونيورسٹي ميں تدريس کا کام بھي شروع کر ديا -

سن 1382 ہجري شمسي ميں ايک ثقافتي مرکز بنام " فرھنگستان ادب و زبان فارسي " کے ممبر بنے -  انہيں شعرو شاعري ميں بےحد دلچسپي تھي اور يوں انہوں نے شعر بھي کہے - ان کا سب سے پہلا شعري  مجموعہ " تنفس صبح " کے عنوان سے 1363 ہجري شمسي ميں منشتر ہوا - اس مجموعے  کا زيادہ حصّہ غزل پر مشتمل تھا اور پھر اسي سال ان کا دوسرا شعري مجموعہ " در کوچہ آفتاب " کے نام سے سازمان تبليغات اسلامي سے وابستہ ادارے کي مدد سے " انتشارات حوزہ ہنري " نے شا‏ئع کيا - 

سن 1365 ہجري شمسي ميں وزارت فرھنگ و ارشاد اسلامي سے وابستہ ايک ادارے " انتشارات برگ " نے ان کا  " مظمومھ ظھر روز دھم " شائع کيا - اس مجموعے ميں انہوں نے 28 صفحات  عاشورا اور کربلا کے متعلق شعر کہے - سن 1369 ہجري شمسي ميں ان کے دو مجموعے تنفس صبح اور در کوچہ آفتاب شعري شکل ميں "سروش " پبلشر کي طرف سے شا‏ئع ہوا -

" آينه ھاي ناگھان "  نے امين پور کے ارتقاء کو کيفيت اور مقدار کے لحاظ سے چمکا ديا - اس مرحلے ميں امين پور نے شعر و ادب کو گہرائي سے سمجھنا شروع کر ديا تھا - اس عرصے ميں کہے جانے والے اشعار  ان کي فکر ميں جدّت کو ظاہر کرتے ہيں -

امين پور کي شاعري انقلاب کےابتدائي ہنرمندوں پر بہت تاثيرگذار ثابت ہوئي اس لحاظ سے  ان کي شاعري نسل جديد کي شاعري تصور ہوتي ہے -

ستر کي دھائي کے وسط ميں ان کا دوسرا شعري مجموعہ " آينھ ھاي ناگہان " شائع ہو گيا - اس شعري مجموعے کے اشعار بعد ميں درسي کتابوں کا حصّہ بنے - ان کے انہيں اشعار کو انقلاب ميں کامياب ہونے والوں نے بھي پڑھا تھا -

اسي زمانے ميں ان کے  بعض اشعار گانوں کي شکل اختيار کر گۓ اور موسيقي کے ساتھ ان کے يہ اشعار ہر عمر کے افراد ميں بےحد مقبول ہوۓ - ان کي سب سے آخر ميں شا‏ئع ہونے والي کتاب کا نام " گل‏ها همه آفتابگردانند" ہے جو 1381 ہجري شمسي ميں مرواريد پبلشر کے تعاون سے بازار ميں آئي -

ڈاکٹر قيصر امين پور نے سن 1382 ہجري شمسي کو مجلہ " سروش " کے ايڈيٹر کي  حيثيت سے استعفا دے ديا اور ابھي تک شعبۂ  زبان اديبات فارسي تہران يونيورسٹي اور الزھرا يونيورسٹي ميں تدريس کے فرائض انجام دے رہے  ہيں - اس کے ساتھ ساتھ وہ ادب ميں تحقيقي کاموں ميں بھي مشغول ہيں -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

پيشکش : شعبۂ  تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

رومي کے حالات زندگي

امير کبير کي خدمات ( حصّہ دوّم )

امير کبير کي خدمات

مصطفي زماني کي زندگي پر مختصر نظر

وحشي بافقي يزدي