• صارفین کی تعداد :
  • 7672
  • 5/3/2011
  • تاريخ :

وحشی بافقی یزدی

وحشی بافقی یزدی

کمال الدین آپ کا نام یا لقب تها۔ زندگی کے ایام بافق اور یزد میں  بسر کیے۔ قصائد لکهے مگر زور دار نہیں ۔ مثنوی اور غزل میں  آپ بڑا مقام پایا ہے۔

آپ کی مثنوی خلد برین بے حد دلآویز ہے اور چهپ چکی ہے فرهاد و شیرین نامی مثنوی کو وحشی نے نا تمام چهوڑ دیا ۔ اور مدتوں بعد وصال شیرازی نے اسےمکمل کیا۔

وحشی نے اپنے مخافین کی بے حد عریان ہجویں بهی لکهی ہیں۔ شاعر، شراب و شاہد کا دلداده بتایا جاتا ہے۔ اور بظاہر کثرت مے نوشی اس کی موت واقع ہوئی ۔ وحشی کا دیوان بارہا چهپ چکا ہے ۔

وحشی اور واسوخت

واسوخت شاعری میں غزل کی ضد واقع ہوا ہے۔ اشعار واسوخت، میں محبوب سےاظہار بیزاری کیا جاتا ہے۔ اردو ادب کےاکثر مورخ اس صنف کا موجد وحشی کو قرار دیتے ہیں جب کہ بعض نے فغانی کا نام بهی لیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وحشی کے دیوان میں کئی واسوخت نما غزلیات موجود ہیں ۔ (فغانی  کے ہاں واسوخت نادر و شاذ ہیں) مگر وه اس موضوع سخن کا بانی ہرگز نہیں چهٹی صدی ہجری سے اب تک متعدد ایرانی شعرا نے واسوخت لکهے ہیں ۔ اس کے با وجود وحشی کے سوز و گداز کے حامل واسوخت، قدیم شعرا کے ہاں زیاده نہیں ملتے غالبا اسی خاطر اردو کے واسوخت گو شعرا نے اس دل جلے عاشق کو اپنا پیشرو مانا ہے۔

یہاں ہم نمونے کی خاطر ایک واسوخت نما غزل کے چند اشعار پیش کر رہے ہیں۔

روم به جای دگر ، دل دهم به یار دگر    هوای یار دگر دارم و دیار دگر

به دیگری دهم این دل که خوار کرده‌ی تست     چرا که عاشق تو دارد اعتبار دگر

میان ما و تو ناز و نیاز بر طرف است      به خود تو نیز بده بعد از این قرار دگر

خبر دهید به صیاد ما که ما رفتیم        به فکر صید دگر باشد و شکار دگر

خموش وحشی از انکار عشق او کاین حرف     حکایتیست که گفتی هزار بار دگر

 

ترتیب و پیشکش : سید اسداللہ ارسلان

 


متعلقہ تحریریں:

جلال آل احمد

جامی سرہ  السامی

نظامی گنجوی

حکیم سنائی

نیما یوشیج