• صارفین کی تعداد :
  • 3215
  • 9/6/2011
  • تاريخ :

ضحّاک کي کہاني پانچواں اور چھٹا نظارہ 

ضحّاک کی کہانی

(گذشتہ افراد. فرہاد)

پرويز- (فرہاد کے پاس جا کرآہستہ ) ابّا ! ابّا! ديکھئے تو وہ ------اِس عورت کو کيا تکليف ہے؟ يہ ہميشہ اِسي طرح غمگين رہتي ہے! صبح سے اب تک برابر رو رہي ہے! ميں جب اِسے روتاديکھتاہوں ، ميرے دل پرچوٹ سي لگتي ہے! مگر ابّاجان! ميں اِس کے پاس جانے اور تسلّي دينے کي جرات نہيں کر سکتا- آپ اس غريب کو تسلّي ديجئے!

فرہاد - اچّھا! تم اندر جاؤ!(اپنے آپ) غريب لڑکا! اگر اُس کي تکليف جان لے!------ اگر اُس کا بھيد سُن لے!------ آہ! تقدير!------ تقدير کيا چاہتي ہے------؟

پرويز- ( جاتے ہوئے اپنے آپ) خداجانے کيا بات ہے کہ ميرے دل ميں اِس عورت کي محبت پيدا ہوگئي ہے! اتني محبت جتني مجھے اپني ماں سےہوتي!------ شايد اِس لئے کہ مجھے خوب چہر سے محبت ہے! يا کوئي اور وجہ ہوگي! جب ميں اِسے رنج وغم کي حالت ميں ديکھتا ہوں تو مير ا دل پاش پاش ہو جاتاہے!!

(آنسو پونچھتا ہوا چلا جاتا ہے)

 (فرہاد . فرہاد)

فرہاد - ( مہرو کے پاس جا کرغمگين نگاہوں سے ديکھ کر اپنے آپ ) آہ! ميرا دل بے چين ہے! غريب عورت! آج اٹھارہ سال سے رات دن آنسو بہارہي ہے! اور مجھے وہ رازمعلوم ہے جو اِسے اِس عذاب سے نجات دلاسکتاہے! مگر کيا کروں؟ ميں اُس کے چُھپانے پرمجبور ہوں! بے شک! اِس بدنصيب کي خوشي اورخوش نصيبي کاسامان ميرے ہاتھ ميں ہے مگر ابھي وقت نہيں آيا کہ ميں اِس راز کو فاش کردوں! اگر فاش کردوں! تو يقينا يہ ايک دو لمحہ کے لئےخوش ہو سکتي ہے! مگر يہ خوشي وقتي، عارضي چيز ہوگي! اِس کے بعد مايوسي کے سوا کچھ نہيں! ہاں!اِن ايک دو لمحوں کے بعد، اِس عورت کے لئے! تمام وطن کيلئے ، تمام ملک کےلئے ، مايوسي کے سوا کچھ نہيں!------نہيں! نہيں! ميں اِس راز کي، اپني جان کے برابر حفاظت کروں گا! کچھ شک نہيں کہ اِس کے آنسو جو اٹھارہ سال سے بہہ رہے ہيں! پتھر ميں بھي سُوراخ کر سکتے تھے! ليکن ميرا دل پتھر سے زيادہ سخت رہاہے!------ اور ايسا ہي ہوناچاہيےتھا------! آہ ! کس قدر تکليف کا سامناہے! ----- ( مہرو سے بلند آواز ميں ) ديکھو! ديکھو! خدارا! تم يہ کيا کر رہي ہو؟ کيا اپنے آپ کو ہلاک کر لوگي؟

مہرو- ( سر اونچا کر کے آنسو پونچھتے ہوئے) کون؟ فرہاد!! آہ! فرہاد! مجھے رونے سے منع مت کرو! آنسوؤ ں  کے سوا مجھے کسي چيز سے تسکين نہيں ہوتي!

فرہاد - اٹھارہ سال! غضب خدا کا، اٹھارہ سال سے آنسو بہارہي ہو! کيا يہ کافي نہيں!

مہرو - نہيں! يہ کافي نہيں! ميں روğ گي جب تک کہ موت نہ آجائے گي! برابر رو ؤ ں گي! اور اِسي طرح روتي رہوں گي

رات دن رويا کئے! شام و سحر رويا کئے!

کچھ نہ  روئے آہ! گر ہم عمر بھر رويا کئے!

فرہاد - اِس طرح تم اپنے آپ کوہلاک کرلوگي!------ خدا نہ کرے!تم زندہ رہوگي! تمہيں زندہ رہنا چاہيئے!

مہرو - بے شک! ميں زندہ رہوں گي! ميں زندہ رہوں گي ! صرف اِس لئے زندہ رہوں گي کہ ايک دن اپنے لختِ جگر کا ديدار ديکھوں گي! ہاں! ميں بھي ظاہري آنکھوں سے اپنے لڑکے کو ديکھوں گي!------آہ اگر کوئي کہدے کہ اب سے بيس سال بعد بھي ميں اُس کو ديکھ سکونگي تو ميں اس پر بھي راضي ہوں! ہاں! مجھے اِس سے بھي تسلّي ہوجائےگي! مگر------ صرف مايوسي! !کاش کہ ميں پوري پوري مايوس ہي ہوتي! ------مايوسي بھي ايک قسم کي تسلّي ہے! مگر ہائے! ياس و اُميد کي بھول بھلياں! ------ہائے! ميں اپنے لختِ جگر کي زندگي اور موت کا حال نہيں جانتي! اگر زندہ ہے تو کسے معلوم ؟ کہاں ہے؟ ------اگر مرگيا ہے! توخداجانے کس طرح مرا ہوگا------؟

(رونے لگتي ہے)

فرہاد - ( متاثر ہو کر اپنے آپ ) آہ! بيچاري! دُکھياري! آہ ! ميں برداشت نہيں کر سکتا!------ ميں ڈرتاہوں! کہيں کسي دن بے اختياري ميں ميري زبان سے کوئي لفظ نہ نکل جائے!------ ( مہرو کو روتا ديکھ کر ) آہ! مظلوم عورت! ( اپنے آنسو پونچھتاہے)

مہرو - (سر اُٹھا کرفرہاد کو روتےديکھ کر) کيا؟ کيا؟تم بھي رو رہے ہو؟تم بھي متاثر ہو رہے ہو؟؟

فرہاد - رونا اچّھاہے! مگر رونے سے اِس درد کا علاج نہيں ہو سکتا!------ يہ درد لاعلاج ہے!!

مہرو - کيوں؟ لاعلاج کيوں ہے؟ اِس کا علاج ضرور ہوگا! فرہاد! ميں اُس کي موت کي خبر برداشت کرسکتي ہوں! ميں اُس کي ہڈيوں کو! اُس کي مٹي کو! اُسکي قبر کو------

(رونے لگتي ہے)

فرہاد - (اپنے آپ ) آہ! تقدير! کيا کسي دن اِس راز کو کھولنےکي اجازت نہ دے گي؟؟

مہرو - فرہاد! تمہيں معلوم ہے کہ ہمارے خاندان ميں، تمہارے سوا کوئي نہيں بچاہے! آہ! تمہارے سوا کوئي نہيں! جس کے آگے ميں اپنا دُکھڑا روğ! (فرہاد يہ خيال کرکے کہ کہيں کوئي يہ باتيں سُن نہ رہا ہو، اِدھر اُدھرديکھتاہے) ميرے لڑکے کا حال تمہيں ضرور معلوم ہے! بس ميں اُس کے متعلق صرف اِک، آخري خبر چاہتي ہوں! وہ زندہ ہے يا مرگياہے؟ کياہوگا؟ اگرتم بتلادوگے تو کياہوگا؟

فرہاد - ميں پھر کہتا ہوں کہ وہ زندہ نہيں ہے!

مہرو - (آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے ) ہائے! ميرا لڑکا!!

فرہاد - (اپنے آپ ) آہ! کتنا درد ناک منظر ہے! خدا نہ کرے اِس عورت کا خون ميري گردن پر ہو!

مہرو - ( فرہاد کا سر اونچا کرکے ) نہيں! نہيں! ميں يقين نہيں کروں گي! ميرا لڑکا مرا نہيں ہے! تم مجھے چُپ کرانے کو جھوٹ بول رہے ہو! ------فرہاد! ساري دُنيا کہتي ہے کہ تم نے جمشيد کے خاندان سے نمک حرامي کي اور ضحاک کا ساتھ ديا! تم نے جمشيد کا پاک مذہب چھوڑديا اور دلي لگاؤ سے اِن ہولناک کيڑوں کي پرستش شروع کردي! ------تمہارے متعلق برسوں سے لوگوں کا يہي خيال تھا! مگر مجھے يقين نہيں آتاتھا! اور ميں تمہيں بدستور اپنے والد کي جگہ خيال کرتي تھي! ليکن اب چُپکے چُپکے، تمہارے خيالات اِس طرح بدلتے رہتے ہيں کہ ميں اُنہي لوگوں کو حق بجانب سمجھتي ہوں، کچھ شک نہيں کہ تم نے ہميں چھوڑ ديا اور تہِ دل سے ضحاک کي رفاقت اختيار کرلي!------ آہ! آج اٹھارہ سال! ہونے آئے! ميں رات دن اپنے لخت جگر کي ياد ميں آنسو بہاتي رہي ہوں! مگر تمہارے پتھر دل پر ذرہ بھر اثر نہ ہوا ، اور تم نے اُس کي خير خبر معلوم کرنے کے ليے مطلق کوشش نہ کي! ميں جانتي ہوں کہ اگر تم چاہتے تواِس معاملہ ميں ضرور کچھ نہ کچھ معلوم کر سکتے تھے! ( فرہاد اِدھر اُدھر ديکھتا ہے کہ کوئي آتا نہ ہو) ديکھو!ديکھو!ہاں اچھّي طرح ديکھو! کہيں تمہارے يہ مقدّس معبود! تمہيں مجھ سے باتيں کرتے نہ ديکھ ليں!------ آہ! ميں اب سمجھي! اِس دُنيا ميں صداقت محض ايک خيالي چيزہے! اور زمانہ کو صرف دولت اوراقبال ہي عزيز ہے!! خير! خدا مالک ہے!

( ايک طرف جانے لگتي ہے)

فرہاد - ( اپنے آپ ) چلو! يہ بھي اچّھا ہوا، اِس کے اِس طرح فکر مند ہونے سے ميرا مقصد پورا ہوگا!------ آج وہ مجھے نمک حرام!غدّار! اور خداجانے کيا کچھ سمجھ رہي ہے! مگر ايک دن اُس کو معلوم ہوجائيگا کہ ميں کس قسم کا آدمي ہوں؟ ہاں! وقت آنے پر سارا حال کُھل جائيگا! وقت ہر ايک چيز کي تصحيح کرلےگا! اگر قسمت نے مدد کي تو ميں ايک دن اُس کو اچھّي طرح بتلا سکوں گا کہ ميں کيسا آدمي ہوں ؟------ اب وہ مجھ سے بدگمان ہے! مگر اُس کي بدگماني سے کوئي نقصان نہيں------!

(پرويز آجاتا ہے)

تحرير: اختر شيراني


متعلقہ تحريريں :

ضحّاک کي کہاني

امانتداري کي رسم

جادو کي بوتل

دادا جان ، تسبيح اور چمگادڑ (دوسرا حصّہ)

دادا جان ، تسبيح اور چمگادڑ