• صارفین کی تعداد :
  • 3764
  • 8/1/2011
  • تاريخ :

سورۂ رعد کي آيت  نمبر  10-6 کي تفسير

بسم الله الرحمن الرحيم
و يستعجلونک بالسّيّئۃ قبل الحسنۃ و قد خلت من قبلہم المثلات و انّ ربّک لذو مغفرۃ لّلنّاس علي ظلمہم و انّ ربّک لشديد العقاب"يعني يہ ( کفار) جو قبل اس کے کہ الہي رحمت اور نيکي کي جستجو کريں، عذاب الہي کے نزول کے سلسلے ميں جلد بازي دکھا رہے ہيں حالانکہ اس سے پہلے مختلف قوميں الہي عذاب کا مزہ چکھ چکي ہيں يقينا" آپ کا پروردگار لوگوں کي نسبت ان کے تمام مظالم کے باوجود، نہايت ہي غفور و مہربان ہے اگэہ آپ کا پروردگار بڑے ہي سخت عذاب ميں مبتلا کرنے والا بھي ہے -

 خدا کے تمام نبيوں نے آگاہ و خبردار کرنے کي صورت ميں لوگوں کو خدا کے احکام کي نافرماني سے منع کيا ہے کہ برے کام نہ کرو اللہ ناراض ہوگا اور تم کو سزا ملے گي اچھے کام کيا کرو، خدا خوش ہوگا اور اچھا بدلا دے گا - اس کے جواب ميں کچھ لوگ نبيوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کفر سے کام ليتے تھے اور جان بوجھ کرانبياء (ع) کي مخالفت اور دشمني ميں نزول عذاب کا مطالبہ کرتے تھے - کہتے: ہم کو وہ جنت نہيں چاہئے کہ جس کا آپ وعدہ کيا کرتے ہيں البتہ اگر آپ سچے ہيں تو اپنے خدا سے کہئے وہ ہم پر اپنا عذاب نازل کردے اور ہم تباہ ہوجائيں ورنہ قبول کيجئے کہ آپ جو کچھ بھي کہتے ہيں سب جھوٹ اور فريب ہے ان ہي کفار کي باتوں پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے نبي اکرم(ص) کے توسط سے خدا فرماتا ہے: تم گزشتہ اقوام کي سرگذشت پر نظرکيوں نہيں ڈالتے؟ کہ وہ کيسے سخت عذاب ميں مبتلا ہوکر نابود ہوئے ہيں ان کي سرنوشت سے عبرت حاصل کرو خدا کا عذاب تماشا کرنے کي ضدذہن سے نکال دو، تمہارا پروردگار بڑا ہي رحيم و غفور ہے عذاب کے بجائے رحمت کي جستجو کرو اور ايمان لے آؤ ورنہ پچھلي قوموں کي طرح تم بھي عذاب ميں مبتلا ہوکر تباہ و برباد ہوجاؤگے کيونکہ تمہارا پروردگار بڑے ہي سخت عذاب ميں مبتلا کرديتا ہے- سرکشي کي صورت ميں اس کي رحمت و مغفرت اس کے عذاب کي سختي ميں رکاوٹ نہيں بنتي- اگэہ وہ لوگوں کے ظلم اور گناہ کے باوجود سزا ميں جلدي نہيں کرتا توبہ و استغفار کي مہلت ديتا ہے اور کبھي کبھي عذاب کو آخرت پر چھوڑديتا ہے اور يہ اس کي رحمت و غفران کا نتيجہ ہے ليکن جب عذاب ميں مبتلا کرتا ہے تو روئے زمين پر کسي چوپائے کو زندہ نہيں چھوڑت( سورۂ فاطر/45) اس کا قہر و غضب بھي عدل پر استوار ہے مطلب يہ ہے کہ ايک انسان کو الہي رحمت و غفران کي اميد و توقع ميں وقت اطاعت جري و دلير اور نافرمان نہيں بننا چاہئے کيونکہ اللہ، قہار و جبار بھي ہے اور الہي قہر و غضب کے خوف اور وحشت ميں پڑکر اس کي رحمت و مغفرت سے مايوس و نااميد بھي نہيں ہونا چاہئے کيونکہ اس کي رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتي ہے- پھربھي اگر کوئي اس کي رحمت واسعہ سے بھاگ کر عذاب شديد ميں تعجيل کا مطالبہ کرے تو واقعا" حيرت وتعجب کا مقام ہے- اور اب سورۂ رعد کي ساتويں آيت ارشاد ہوتا ہے -و يقول الّذين کفروا لو لا انزل عليہ آيۃ مّن رّبّہ انّما انت منذر و ّ لکلّ قوم ھاداور ( يہ ) کفار کہتے ہيں کہ ان کے پروردگار کي جانب سے کوئي معجزہ اور نشاني ان پر کيوں نہيں نازل ہوتا؟ ( اے ہمارے نبي! کيا انہيں نہيں معلوم) آپ تو صرف اور صرف خبردار کرنے والے ہيں اور ( ہم نے) ہر قوم کے لئے ہادي( مقررکئے ) ہيں - کفار و مشرکين کي ايک بڑي جماعت مرسل اعظم حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلّم اور ان پر نازل شدہ قرآن حکيم کي دشمني اور مخالفت ميں ضد اور ہٹ دھرمي کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے ہي بچکانہ قسم کے بہانے اور مطالبے کيا کرتي تھي -مثال کے طور پر کہتي تھي: کہ آپ بھي حضرت موسي (ع) اور حضرت عيسي (ع) کي مانند( عصاؤ يد بيضا کي طرح کے) معجزے اور نشانياں کيوں نہيں پيش کرتے؟! قرآني آيات پڑھنے کے بجائے ہم آپ سے جن معجزوں کے مطالبے کرتے ہيں پورے کيوں نہيں کرتے؟!ظاہر ہے ، قرآن حکيم ميں متعدد مقامات پر اس کي وضاحت کي گئي ہے کہ اللہ اپنے نبيوں کو قوم و ملت کي سماجي اور ثقافتي حالت اور ضرورت کے مطابق معجزے عطا کرتا ہے جس زمانے ميں سحر و جادو کا دور دورہ تھا اور مصر کے جادوگر عروج پر تھے  حضرت موسي (ع) کو اسي کے مناسب حال " عصا" کا معجزہ ديا گيا جس کے سامنے دربار فرعون کے تمام جادوگروں کي جادوگري دھري رہ گئي ، حضرت عيسي(ع) کے دور ميں علم طب ميں کمال رکھنے والے عروج پر تھے اس لئے انہيں لاعلاج بيماريوں کے علاج اور مردوں کو زندہ کردينے کا معجزہ عطا کيا گيا نبي اکرم(ص) کے زمانے ميں بھي عربوں کو اپني زبان اور فصاحت و بلاغت پر ناز تھا اور دوسروں کو وہ "عجم" يعني گونگا خيال کرتے تھے لہذا اللہ نے آپ کو قرآن کي شکل ميں ايک عظيم ترين معجزہ عطا کيا ليکن آپ کے مخالفين کو قرآن کي عظمت و اہميت سے انکار ہے اس لئے بہانے بناکر طرح طرح کے مطالبے کيا کرتے ہيں جبکہ معجزہ دکھانا آپ کے ہاتھ ميں نہيں ہے، خدا کے ہاتھ ميں ہے اب اگر خدا ان کے مطالبے پورے کرديتا تو بھي وہ کچھ اور بہانے بناتے اسي لئے اللہ نے اپنے نبي (ص) سے فرمايا ہے کہ آپ کفار کے مطالبات کي فکر نہ کيجئے ان سے کہديجئے کہ آپ کو " انذار " و تبليغ کے لئے بھيجا گيا ہے اور آپ ان کو آگاہ و خبردار کرتے رہيں گے مانيں يا نہ مانيں؛ رسول کا کام صرف ہدايت و رہنمائي ہے اور اللہ نے جيسے تمام قوموں کے درميان اپني طرف سے ہادي و رہنما بھيجے ہيں آپ کو بھي ہادي بناکر بھيجا ہے - ہدايت پر عمل کرنا نہ کرنا قوم کا کام ہے جو عمل کرے گا نجات ملے گي جو عمل نہيں کرے گا گمراہي ميں رہ کر جہنم ميں جائے گا-اور اب سورۂ رعد کي آيات آٹھ نو اور دس خدا فرماتا ہے:

"اللہ يعلم ما تحمل کلّ انثي و ما تغيض الارحام و ما تزداد و کلّ شيء عندہ بمقدار ، علم الغيب و الشّہادۃ الکبير المتعال ، سواء مّنکم مّن اسرّ القول و من جہر بہ و من ہو مستخفّ باللّيل و سارب بالنّہار"يعني خداوند عالم ہر ايک حاملہ کے ( شکم ميں ) جو کچھ بھي ہے اچھي طرح جانتا ہے اور رحم ميں جو کچھ وہ ( جذب کرکے) کم کرتي يا اضافہ کرتي ہے (سب کچھ جانتا ہے ) اس کے پاس ہر چيز کي ايک مقدار اور اندازہ معين ہے - وہ تمام پوشيدہ اور آشکارا امور سے باخبر ہے اور سب سے عظيم اور سب سے بلند ہے اس کے لئے آپ کے درميان کوئي چھپکر يا چپکے سے بات کرے يا آشکارا طور پر کھل کے کچھ کہے دونوں برابر و يکساں ہے کوئي خود کو رات کے اندھيرے ميں چھپائے يا دن کے اجالے ميں چلتا پھرتا نظر آئے -

يہ آيات خداوند عالم کے لامتناہي علم و قدرت کو بيان کرتي ہيں کہ وہ تمام امور ظاہري و باطني کا علم اور ان پر نظر رکھتا ہے ان ہي ميں سے ايک" رحم مادر" ميں ايک جنين کي حالت و کيفيت ہے جس سے خودماں بھي پوري طرح آگاہ و باخبر نہيں ہوتي جنين کا وجود اور نشو و نما کے مراحل اسي وقت سے کہ جب نطفہ اور اسپرم ايک مادہ کے رحم ميں داخل ہوکر ٹہرتا ہے اور محفوظ ہوجاتا ہے پھر وہ خون جو رحم مادر ميں جاکر جنين کي غذا بنتا ہے اور وہ خون جو حمل کے دوران کبھي کبھي يا ولادت کے وقت خارج ہوتا ہے جنين کي تمام ضروريات و کيفيات کا خدا کو علم ہے اور مدت حمل کي تمام کميوں اور اضافوں سے خدا آگاہ و باخبر ہوتا ہے خدا نے حمل کے ايام ميں تمام امور سے متعلق ايک حساب و کتاب کے تحت قاعدے اور قانون بنائے ہيں کب حمل ساقط ہوجاتا ہے اور کب جنين ناقص الخلقت وجود ميں آتا ہے اور کب صحيح و سالم يا ضعيف و کمزور ، چھٹواسا، ستواسايا جڑواں پيدا ہوتا ہے ان تمام امور کے سلسلے ميں ايک اصول اور ضابطہ معين ہے جو بدلا نہيں جا سکتا خدا ہي سب کچھ جانتا ہے - کيونکہ اللہ تمام ظاہري اور باطني امور سے باخبر ہے اس کا علم بڑا ہي وسيع و محيط ہے پوري کائنات اس کے احاطۂ علم ميں ہے سب کچھ اس کے سامنے ہے اور مطلق طور پر وہ غيب کي باتوں سے آگاہ ہے وہ دنيا جو ہم اور آپ حواس پنجگانہ سے محسوس کرتے ہيں اور وہ دنيا بھي جو ہم حواس خمسہ سے محسوس نہيں کر سکتے وہ سب کچھ جانتا ہے ظاہر و غائب گزشتہ و آئندہ ہر چيز سے واقف ہے غيب و شہود کا تعلق صرف ہم جيسوں سے ہے خدا تو ہر شےء کاخالق ہے اور اس پرسب کچھ ظاہر و باہر ہے -"ان اللہ علي کلّ شيء شہيد" ( حج/17) اور " الا انّہ بکلّ شيء محيط ( حم سجدہ/54) نيز لايعزب مثقال ذرّۃ ( سبا/ 3) يعني خدا ہر چيز پر ناظر ہے، ہر چيز پر محيط ہے اور کچھ بھي ذرہ برابر اس سے چھپا ہوا نہيں ہے اسي مفہوم کو بيان کرنے کے لئے ہے چنانچہ ہر گفتار و کردار اس پر ہويدا اور آشکار ہے دھيمے سے بات کريں يا زور سے دن ميں کھل کر کام کريں يا رات ميں چھپ کر وہ ہر قول اور ہر عمل سے آگاہ ہے سب کچھ اس کے لئے يکساں اور برابر ہے - اور اب زير بحث آيات سے جو سبق ملتے ہيں ان کا ايک خلاصہ: انسان کو گزشتہ قوموں کے حالات سے عبرت حاصل کرنا چاہئے اور گناہ و معصيت ميں اضافہ کرکے الہي عذاب ميں تعجيل کي خواہش کے بجائے اللہ کي رحمت و مغفرت سے وابستہ ہوکر توبہ و  استغفار ميں جلدي کرني چاہئے - اللہ کي سنت يہ ہے کہ وہ عذاب ميں تاخير کے ذريعہ توبہ و استغفار کي مہلت ديتا ہے اور رحمت کے دروازے کسي پر بند نہيں کرتا اور جب عذاب نازل کرتا ہے تو اس کا عذاب بہت ہي شديد ہوتا ہے -

نبيوں کا کام ہدايت و انذار ہے وہ لوگوں کي فرمائش پر معجزے نہيں دکھايا کرتے، معجزے اور کرامتيں الہي منشا ؤ ارادے کے تابع ہوتي ہيں - خدا نے ہر زمانے ميں ہر قوم کے درميان ہادي و رہنما بھيجے ہيں چنانچہ آج اگر چہ سلسلۂ نبوت ختم ہوچکا ہے مگر نبي اکرم (ص) کے جانشينوں کي صورت ميں سلسلۂ امامت قائم ہے اور غيبت کے زمانے ميں علماء امام غائب (عج) کي نيابت کے فرائض انجام دے رہے ہيں-

خدا ہر شے کا علم رکھتا ہے اور اس کا علم ہر شے پر محيط ہے تمام جزئيات کو جانتا ہے حتي رحم مادر ميں ايک جنين کي تمام حالتوں سے آگاہ و باخبر ہے - خداوند عالم پوري کائنات کے ہر نقص و کمال سے واقف ہے وہ سب سے عظيم و برتر اور ہر نقص و عيب سے منزہ و مبرہ ہے - اللہ کا علم تمام موجودات کے بارے ميں يکساں ہے اور وہ زمان و مکان اور حالات و کيفيات کا تابع نہيں ہے -

بشکريہ آئي آر آئي بي


متعلقہ تحريريں:

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 111- 110 کي تفسير

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 109-107کي تفسير

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 105-102 کي تفسير

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 101-100 کي تفسير

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 99-96 کي تفسير