• صارفین کی تعداد :
  • 3626
  • 9/27/2010
  • تاريخ :

لوگوں کے ایمان، سانحہ ہفتم تیر کے وقت بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے مستحکم رہنے کا راز

ایران کا پرچم
سانحہ ہفتم تیر ( اٹھائيس جون) کے بارے میں ایک جملہ عرض کروں کہ شاید اس سانحے کے متعدد جہات میں یہ جہت سب سے دلچسپ ہو کہ اس طرح کے ہولناک حملے اسلامی جمہوریہ ایران کے مستحکم قلعے میں جو لوگوں کے ایمان اور ان کے اعتماد پر استوار تھا، دراڑیں نہیں ڈال سکے۔

یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ ایسا واقعہ اگر دنیاکے کسی بھی کونے میں رونما ہوجاۓ تو ایک حکومت کا تختہ الٹنے کیلۓ کافی ہوتا ہے۔ اتنی زیادہ با اثر، اہم انقلابی شخصیات اور عظیم مفکر چشم زدن میں ختم ہو جائے اور حکومت میں تزلزل پیدا نہ ہو بلکہ نظام اس سانحے کے نتیجے میں اور زیادہ مستحکم بن جائے! یہ حیران کن بات تھی۔ یہ سب کچھ لوگوں کے ایمان اور ایقان، شعور و بیداری اور اسلامی حکومت کے اندرونی استحکام کی برکت اور خدا کے فضل و کرم یک نتیجہ تھا جو ہمیشہ ہمارے سروں پر سایہ ف‍گن رہے گا۔

انسان کو چاہیے کہ وہ مرضی پروردگار کو بنیاد قرار دے

آپ ملاحظہ فرمائیں اللہ تعالی نے اپنے حبیب کو ایک سخت امتحان میں ڈالا۔ ایسا امتحان جس میں سب سے زیادہ رسول خدا کی اپنی آبرو و عزت خطرے میں تھی۔ میرا مطلب وہ حادثہ ہے جو سورہ احزاب میں بیان کیا گیا ہے . "واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ و انعمت علیہ امسک علیک زوجک و اتق اللہ و تخفی فی نفسک مااللہ مبدیہ"

اس واقعے میں ممکن تھا کہ رای عامہ اور لوگوں کے جذبات رسول خدا کے خلاف بھڑک جائیں کیونکہ مسئلہ الزام کا تھا۔

"وتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ" خداوند عالم اپنے حبیب سے فرماتا ہے: تمہیں لوگوں کی باتوں کا ڈر ہے حالانکہ تمہیں خدا کا خوف ہونا چاہیے۔

رسول خدا نے اس واقعے میں خداوند منان کی پروا کی اور اس بڑی اور دشوار آزمایش میں سرخرو ہوۓ اور اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی "الذین یبلغون رسالات اللہ و یخشونہ ولا یخشون احدا الااللہ" خدا وند تعالی کی راہ میں تبلیغ کا لازمہ یہی ہے بعض لوگوں کو غلط فہمی اور غفلت مں ڈال کر خاص اہداف کے لئے انسان کے مد مقابل کھڑا کر دیا جاتا ہے ایسی صورت حال میں انسان کو چاہئے کہ صرف اور صرف اللہ تعای، اس کی مرضی اور اس کے حساب کتاب کو مد نظر رکھے، لہذا اسی سورے کے آخر میں ارشاد ہوتا : وکفی باللہ حسیبا ، خداوندعالم محاسبہ کرنے والا ہے۔ وہی فیصلہ کرے گا کہ ہم نے اس راستے میں صحیح قدم اٹھایا ہے یا نہیں ۔ اس کی راہ میں قدم رکھنے کے تعلق سے ایک خاص بات یہ ہے کہ اللہ تعالی اس انسان کے سلسلے میں لوگوں کے خیال کی اصلاح فرماتا ہے اور لوگوں سے متعلق اس کے امور کو بحسن و خوبی نمٹا دیتا ہے۔ ( من اصلح مابینہ و بین اللہ اصلح اللہ ما بینہ و بین الناس ) یہ ذمہ داری بھی اللہ تعالی نے قبول کی ہے؛ جیسا کہ رسول اکرم کے واقعے میں آپ نے مشاہدہ کیا کہ خدا نے خود یہ ذمہ داری نبھائی اور حقیقت کو روشن کردیا۔

ہمارے گرانقدر شہید بہشتی کی بھی سب سے بڑی آزمائش یہ تھی کہ اس تھوڑے سے عرصے میں خداوند متعال نے اس بزرگوار سید کو خدمت کا عظیم موقع دیا۔

 دشمن نے ان کے خلاف اتنا پروپیگنڈہ کیا کہ انقلاب اسلامی کی کسی اور شخصیت کے خلاف شائد ہی اتنا پروپیگنڈہ ہوا ہو۔ اور شائد ہی کسی کی شان میں اتنی گستاخیاں ہوئی ہوں. دشمنوں نے کہا کہ وہ مغرور ہیں، جاہ طلب ہیں، استبدادی مزاج کے ہیں، اقتدار کے خواہاں ہیں اور ان کے مزاج میں مطلق العنانیت شامل ہے، لیکن شہید بہشتی پوری تندہی سے خدمت میں مصروف رہے اور اپنا کام جاری رکھا اور اسی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے در حقیقت اس راستے میں پائیداری کے ذریعے اپنی شخصیت اپنی روح اور اپنی شناخت کو عرش اعلی تک پہنچایا . ان واقعات میں ہمارے لئے درس عبرت ہے .

سانحہ ہفتم تیر ( اٹھائیس جون) کے شہداء کے اہل خانہ اور عدلیہ کے عہدہ داروں سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس 2003-6-28 .

 شہدائے ہفتم تیر کا ملک و قوم پر احسان ہے

ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ملک ، انقلاب اور ہماری تاریخ پر ان کوششوں اور اس خون کا بڑا احسان ہے اور یہ کہ ہماری قوم اور ملک بالخصوص اس عظیم تحریک (اسلامی انقلاب) سے وابستہ فعال شخصیات کو کتنے خونخوار اور بے رحم دشمنوں کا سامنا تھا اور آج بھی ہے۔ وہی دشمن جنہوں نے شہید بہشتی کو ہم سے چھینا، آج بھی موجود ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے ہمارے دشمنوں کی پشت پناہی کی آج بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بعض کج فکریوں اور سادہ لوحی کی بنا پر ہم یہ سمجھنے لگیں کہ ہمارے دشمن اور ان کی دشمنیاں اب باقی نہیں ہیں۔ یہ بڑی خطرناک بھول ہوگی۔ جس انسان کو دشمن کا سامنا ہو اس کیلۓ سب سے خطرناک بات دشمن کو فراموش کرنا اور اس سے غافل ہوجانا ہے۔

 شہادت ، شہید بہشتی اور ان کے دوستوں کے لئے خداوند عالم کا انعام

بہرحال ان کو اپنا انعام ملا.یقینا مرحوم شہید بہشتی جیسی بڑی شخصیت کو جو اتنی بلند ہمت، غیور اور جفا کش تھی بستر کی موت زیب نہیں دیتی۔ بہشتی کو شہید ہونا ہی تھا۔ شہادت ایک بڑی جزا ہے جو ان کواور ان کے ساتھیوں کو ملی۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس وقت الہی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں گے۔ ان کے درجات میں روز بروز اضافہ ہو اور ہم بھی اسی راہ پر چلتےہوئے اور اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے انہی سے ملحق ہو جائیں۔

سانحہ ہفتم تیر ( اٹھائیس جون) کے شہداء کے اہل خانہ اور عدلیہ کے عہدہ داروں کے ساتھ ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس 1998-6-28

بشکریہ : خامنہ ای ڈاٹ آئی آڑ

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

شہدائے سانحہ ہفتم تیر (اٹھائيس جون 1981) اسلامی جمہوریہ ایران کی اساس اور اسلامی اقدار کی حاکمیت کی راہ کے شہید ہیں

خرمشہر کا یوم آزادی

امام خمینی (رح): خرم شہر کو خدا نے آزاد کیا

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا دن

یوم اسلامی جمہوریۂ ایران

شورائے نگہبان یا نگراں کونسل

12 بہمن سنہ 1357 ہجری شمسی

تہران میڈیکل یونیورسٹی

شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی

شہید بہشتی یونیورسٹی