• صارفین کی تعداد :
  • 3890
  • 6/20/2010
  • تاريخ :

شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی

شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی

یہ عظیم الشان ادراہ ایران کے شہر تہران میں واقع ہے  جو سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بہت ہی اعلی معیار کے دانشمند پیدا کر رہا ہے جو ملک کے لیۓ مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں ۔ بنیادی طور پر اس یونیورسٹی کے قیام کے تین بڑے مقاصد ہیں ۔

٭ ایک ایسے ادارے کا قیام عمل میں لانا جہاں پر دور حاضر کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے  ہوۓ طالب علموں کو  سائنسی شعبوں میں تھیوری اور عملی  طور پر تربیت دی جا سکے ۔

٭ ایک ایسی جگہ کا قیام جہاں پر طالب کو جدید علم اور مہارات سکھائی جا سکیں  تاکہ وہ انجینرنگ و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تخلیقاتی کارھاۓ نمایاں انجام دے سکیں اور خود کو اعلی معیار کے سائنسدان منوا سکیں ۔

٭ ایسے انجینیرز  پیدا کرنا جو مستقبل میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیوں کا ادراک کرتے ہوۓ قومی جذبے کے تحت ملک و قوم کے لیۓ اپنی خدمات انجام دے سکیں اور خاص طور پر اپنے علم اور مہارتوں میں مزید ترقی کی بلندیوں کو چھونے کے جذبے سے سرشار ہوں ۔

شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اسلامی جمہوریہ ایران  میں موجود انجینرنگ یونیورسٹیوں میں ایک بڑا ادارہ ہے ۔ اس کا قیام 1966 ء میں عمل میں آیا ۔ اپنے قیام کے وقت اس ادارے میں 54 فیکلٹی ممبر تھے اور پہلے سال 412 طلباء کو اس یونیورسٹی میں داخلہ دیا گیا ۔ یونیورسٹی کے قیام کے وقت اس کا نام " آریا مہر " تھا جسے 1980 ء میں تبدیل کرکے " شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی " رکھ دیا گیا ۔ اس وقت اس ادارے میں موجود فیکلٹی ممبرز کی تعداد 300 کے لگ بھگ  ہے اس کے علاوہ 430 کے قریب پارٹ ٹائم فیکلٹی ممبرز بھی ہیں جو اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ یونیورسٹی اس وقت زیر تعلیم طلباء کی تعداد 8000 کے قریب ہے ۔ یونیورسٹی کیمپس 20 ہیکٹرز پر مشتمل ہے ۔ اس وقت یونیورسٹی کے اندر 10 ڈیپارٹمنٹ ہیں جو انجینرنگ کے شعبوں میں گریجوایشن ، پوسٹ گریجوایشن اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر تعلیم دے رہے ہیں ۔

شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بہت سے ریسرچ سنٹرز بھی قائم کیۓ گۓ ہیں جو یونیورسٹی کے کے قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوۓ  آزادانہ طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

مزید معلومات کے لیۓ یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے رجوع کریں ۔

شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ : https://www.sharif.ir/en/

تحریر و پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

بو علی سینا یونیورسٹی