• صارفین کی تعداد :
  • 3943
  • 5/10/2009
  • تاريخ :

اک پگھلتی ہوئی روشنی کے تلے

آگ

اک پگھلتی ہوئی روشنی کے تلے
سب دیے بجھ بھی گۓ دور ہو بھی گۓ

 

دیکھ لو آ کہ تم کب سے خاموش ہوں

درد بھی سب پرانے نۓ ہو  گۓ

 

گھپ اندھیرا ہمیں راس آ بھی گیا

روشنی لے کے تم گھر سے چل بھی پڑے

 

دھول پچھلے سفر کی بھی بالوں میں تھی

پھر نۓ اک سفر پہ نکل بھی پڑے

 

وہ سکندر ابھی تک تو راہوں میں تھا

آریا اس دفعہ سب فتح  کر گۓ

 

ہم بھی کتنے عجیب اپنی راہوں میں تھے

وار سب سیہہ گۓ اور بے سدھ رہے

 

ایک پتھر کی طرح رہے  عمر بھر

اس نے آ کر جھنجھوڑا تو ہم رو پڑے

 

اک کہانی پڑی مل گئی روڈ پر

ہم نے جب سے پڑی کھوکھلے ہو گۓ

 

اس کہانی کے ہر اک نۓ موڑ پر

اپنے بستر میں لیٹے رہے سوچتے

 

ہم سدھارت ہیں شاید نۓ دورکے

یہ بھی ممکن ہے اک روز بدھ  بن چلیں

 

شاعر کا نام : ڈاکٹر کاشف سلطان

کتاب کا نام : محبت بانجھ رشتہ ہے

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

حوس پرست ہوں اتنا کہ سانس لیتا ہوں

ازل سے بستی حیراں پہ ایک سایہ تھا