• صارفین کی تعداد :
  • 4379
  • 4/28/2009
  • تاريخ :

حوس پرست ہوں اتنا کہ سانس لیتا ہوں

گلوب

حوس پرست ہوں اتنا کہ سانس لیتا ہوں
اسی نشے کے لیۓ جسم کے میں اندر ہوں

 

تری شکست سے میری فتح نہیں منسوب

نہ تو ہے آریا کوئی نہ میں سکندر ہوں

 

میں وہ زمیں نہیں جس پہ تو حکمراں ہے

میں اس زمیں کے نیچے کوئی سمندر ہوں

 

اتار دوں گا تجھے شال کی طرح خود سے

تو جانتا ہے میں تیرے بنا قلندر ہوں

 

شاعر کا نام : ڈاکٹر کاشف سلطان

کتاب کا نام : محبت بانجھ رشتہ ہے

پیشکش : شعبۂ تحریرو پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

لکھتا ہوں کہ شاید کوئی افکار بدل دے

رات بھر اکیلا تھا اور دن نکلتے ہی