• صارفین کی تعداد :
  • 4159
  • 5/2/2009
  • تاريخ :

رات بھر اکیلا تھا اور دن نکلتے ہی

رات

رات بھر اکیلا تھا اور دن نکلتے ہی
چل پڑا اسی جانب ہوش کے سنبھلتے ہی

 

خواب ایک دھوکہ ہے رات بھر کا رشتہ ہے

پھر بھی نیند کی خواہش آفتاب ڈھلتے ہی

 

یہ زہر تو سمجھے تھے ایک بار پینا ہے

روگ لگ گیا جی کو ایک گھونٹ پیتے ہی

 

سگرٹوں کے رشتے بھی زندگی کے رشتے ہیں

یہ بھی بجھ سی جاتی ہے ہونٹ کے سلگتے ہی

 

یہ کہاں محبت ہے کس جہاں کی چاہت ہے

سب ہی چھوڑ جائیں گے راہ سے بھٹکتے ہی

 

شاعرکا نام : ڈاکٹر کاشف سلطان

کتاب کا نام : محبت بانجھ رشتہ ہے

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ  تحریریں:

ازل سے بستی حیراں پہ ایک سایہ تھا

حوس پرست ہوں اتنا کہ سانس لیتا ہوں