• صارفین کی تعداد :
  • 1511
  • 11/10/2008
  • تاريخ :

دیکھ محبّت کا دستور  

نیلا دل

دیکھ محبّت کا دستور  
تو مجھ سے میں تجھ سے دور
تنہا تنہا پھرتے ہیں
دل ویراں آنکھیں بے نور
دوست بچھڑتے جاتے ہیں
شوق لۓ جاتا ہے دور
ہم اپنا غم بھول گۓ
آج کسے دیکھا مجبور
دل کی دھڑکن کہتی ہے
آج کوئی آۓ گا ضرور
کوشش لازم ہے پیارے
آگے جو اس کو منظور
سورج ڈوب چلا ناصر
اور ابھی منزل ہے دور

 

شاعر کا نام : ناصر کاظمی


متعلقہ تحریریں:

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی

 مایوس نہ ہو اداس راہی

 کیا دن مجھے عشق نے دکھاۓ

 رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ

 حاصلِ عشق ترا حُسنِ پشیماں ہی سہی