• صارفین کی تعداد :
  • 5462
  • 10/4/2008
  • تاريخ :

ایک گائے اور بکری

گائے

 

ایک چراگاہ ہری بھری تھی کہیں

 

تھی سراپا بہار جس کی زمیں

 

کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں

 

کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں

 

تھے اناروں کے بے شمار درخت

 

تھے اناروں کے بے شمار درخت

 

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں

 

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں

 

کسی ندّی کے پاس اک بکری

 

کسی ندّی کے پاس اک بکری

پاس اک گائے کو کھڑے پایا

پہلے جُھک کر اسے سلام کیا

پھر سلیقے سے یوں کلام کیا

 

کیوں بڑی بی ! مزاج کیسے ہیں!

 

گائے بولی کہ خیر اچھّے ہیں

کٹ رہی ہے بُری بھلی اپنی

 

ہے مصیبت میں زندگی اپنی

 

دیکھتی ہوں خدا کی شان کو میں

 

رو رہی ہوں بُروں کی جان کو میں

 

زور چلتا نہیں غریبوں کا

 

پیش آیا لکھا نصیبوں کا

 

آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے

 

اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے

 

دودھ کم دوں تو بُڑ بُڑاتا ہے

 

ہوں جو دُبلی، تو بیچ کھاتا ہے

 

ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے!

کن فریبوں سے رام کرتا ہے

 

اس کو بچوں کو پالتی ہوں

میں دودھ سے جان ڈالتی ہوں میں

 

بدلے نیکی کے یہ بُرائی ہے

میرے اللہ! تری دُہائی ہے

 

سُن کے بکری یہ ماجرا سارا

بولی، ایسا گِلہ نہیں اچھا

 

بات سچی ہے بے مزا لگتی

میں کہوں گی مگر خُدا لگتی

 

یہ چرا گہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا

 

یہ ھری گھاس اور یہ سایا

 

ایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں

 بکری

یہ کہاں، بے زباں غریب کہاں

 

لفط سارے اسی کے دم سے ہیں

 

اس کے دم سے ہے اپنی آبادی

 

قید ہم کو بھلی، کہ آزادی؟

 

سو طرح کا بنوں میں ہے کھٹکا

 

واں کی گزران سے بچائے خدا

 

ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا

ہم کو زیبا نہیں گلہ اس کا

 

قدر آرام کی اگر سمجھو

آدمی کا کبھی گِلہ نہ کرو

 

گائے سُن کر یہ بات شرمائی

 

آدمی کے گلے سے پچتائی

 

دل میں پرکھا بَھلا بُرا اُس نے

 

اور کچھ سوچ کر کہا اس نے

 

 

یُوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی

 

دل کو لگتی ہے بات بکری کی

 

شاعر کا نام: علامہ محمد اقبال

پیشکش: شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

 زميں پہ پھول آسماں پہ تارے

 ہماری زبان – ترانہ 

 خدا کي تعريف