• صارفین کی تعداد :
  • 2929
  • 1/28/2008
  • تاريخ :

تفسیر سورہ بقرہ آیہ 61

 

قرآن مجید

وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَن نَّصْبِرَ عَلَىَ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُواْ مِصْراً فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَآؤُوْاْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ (61)

اور وہ وقت بھى ياد كرو جب تم نے موسى سے كہا كہ ہم ايك قسم كے كھانے پر صبر نہيں كرسكتے_ آپ پروردگار سے دعا كيجئے كہ ہمارے لئے زمين سے سبزى ، ككڑي، لہسن، مسور اور پياز و غيرہ پيدا كرے _ موسى نے تمھيں سمجھايا كہ كيا بہترين نعمتوں كے بدلے معمولى نعمت لينا چاہتے ہو تو جاؤ كسى شہر ميں اتر پڑو وہاں يہ سب كچھ مل جائے گا _ اب ان پر ذلت اور محتاجى كى مار پڑگئي اور وہ غضب الہى ميں گرفتار ہوگئے _ يہ سب اس لئے ہوا كہ يہ لوگ آيات الہى كا انكار كرتے تھے اور ناحق انبياء خدا كو قتل كرديا كرتے تھے_ اس لئے كہ يہ سب نافرمان تھے اور ظلم كيا كرتے تھے _

1 _ بنى اسرائيل فقط ''من'' اور''سلوى '' پر اكتفا كرنے پر ناخوش تھے اور اس پر انہوں نے بے صبرى كا مظاہرہ كيا _

لن نصبر على طعام واحد

آيہ 57 كى روشنى ميں '' طعام واحد'' سے مراد '' من و سلوى ' ' ہے _

2 _ بنى اسرائيل نے اپنى غذا كے ايك طرح كے ہونے پر حضرت موسى (ع) سے شكايت كى _

و إذ قلتم يا موسى (ع) لن نصبر على طعام واحد

3 _ انسان تنوع چاہتاہے اور ايك ہى رنگ و ڈھنگ پر بے صبرى كرتاہے_

 

لن نصبر على طعام واحد

4 _ بنى اسرائيل نے حضرت مو سي(ع) سے درخواست كى كہ اللہ تعالى كى بارگاہ ميں ايك ہى طرح كى غذا كے خاتمے اور ان كے لئے متنوع غذاؤں كى دعا كريں_

لن نصبر على طعام واحد فادع لنا ربك

''لن نصبر'' كے قرينہ سے دعا كا مورد غذا كے ايك طرح كے ہونے كا خاتمہ اور '' يخرج لنا ...'' كى بناپر سبزيوں كا حصول ہے _ پس بنى اسرائيل كى خواہش دو طرح كى تھى 1 _ ايك طرح كى غذا ختم ہوجائے 2 _ سبزياں مل جائيں _

5 _بنى اسرائيل نے حضرت موسى (ع) سے چاہا كہ سبزياں حاصل كرنے كے لئے اللہ تعالى كى بارگاہ ميں دعا كريں _

فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الأرض

6 _ حضرت موسى (ع) كى قوم نے سبزيوں اور زمين سے اگى ہوئي چيزوں كى خواہش كى _

يخرج لنا مما تنبت الأرض من بقلہا و ... بصلہا

''مما تنبت الأرض _ وہ جو زمين اگاتى ہے '' يہ عبارت دلالت كرتى ہے كہ حضرت موسى (ع) كى قوم ايسى غذاؤں كو چاہتى تھى جو سبزياں اور زمين سے اگى ہوئي ہوں_ بقل اور بصل كا ضمير '' ہا'' كى طرف اضافہ جس كا مرجع ''الأرض'' ہے (زمين كى سبزياں اور ... زمين كى پياز)يہ اضافہ طلب كى گئي غذاؤں كے زمينى ہونے پر تاكيد ہے_

7 _ زمانہ بعثت پيامبر اسلام (ص) كے بنى اسرائيل خصوصيات ميں اپنے اسلاف كى طرح تھے_

إذ قلتم يا موسى لن نصبر على طعام واحد

زمانہ بعثت كے بنى اسرائيل كو ان كے اسلاف كے كردار و گفتار سے نسبت دينا اور '' اذقالوا'' كى بجائے '' إذ قلتم'' كہنا گويا ايسا ہے كہ بعدكے زمانوں كے بنى اسرائيل سماجى معاملات يا نفسياتى و فكرى مسائل ميں اپنے اسلاف كى طرح تھے_

8 _ حضرت موسى (ع) كى قوم كو آپ (ع) كى دعا كى قبوليت كا يقين تھا_

فادع لنا ربك يخرج لنا

''يخرج'' مجزو م ہے جو دلالت كرتاہے كہ اس كى شرط مقدر ہے يعنى '' ادع لنا ربك ان تدع يخرج ...'' دعا كرو اگر دعا كروگے تو خداوند متعال نكال دے گا _ يہ كلام دلالت كرتاہے كہ حضرت موسى (ع) كى قوم كو دعا كى قبوليت كا اطمينان حاصل تھا_

9 _ انسان كا زمين سے ا ستفادہ كرنا ايك فطرى رغبت و رجحان ہے _

فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الأرض

بنى اسرائيل كو غذا ميں تنوع نہ ہونے كى شكايت تھى انہوں نے غذاؤں كا جو تقاضا كيا تو ان ميں زمين سے اگنے والى غذاؤں كى انواع و اقسام شامل تھيں_ يہ امر اس بات كى نشاندہى كرتاہے كہ انسان زمين سے استفادہ كرنا چاہتاہے اور اسكى طرف تمايل ركھتاہے_

 

10_ حضرت موسى (ع) كى قوم صحرائے سينا ميں زمين سے اگنے والى غذاؤں سے بہرہ مند نہ تھي_

فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الأرض

11 _ زمين سے پودوں كے اگنے كا عمل خداوند متعال كے اختيار ميں ہے _

فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الأرض

12 _ عالم طبيعات كے عوامل و اسباب پر اللہ تعالى حاكم ہے _

يخرج لنا مما تنبت الأرض

13_ اللہ تعالى كى ربوبيت اور عالم طبيعات پر اس كى حاكميت پر حضرت موسى (ع) كى قوم اعتقاد ركھتى تھي_

فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الأرض

14 _ حضرت موسى (ع) كى قوم نے جن غذاؤں كو طلب كيا وہ يہ تھيں _ سبزى جات ، كھيرے ، گندم ، مسور ، پياز _

يخرج لنا مما تنبت الأرض من بقلہا ... و بصلہا

'' فوم '' كا معنى لہسن ہے نيز اس كا معنى گندم بھى كيا گيا ہے يا ايسى چيزيں جن سے روٹى تيار ہوتى ہے_

15 _ حضرت موسى (ع) كى قوم جن چيزوں كے حاصل كرنے كے درپے تھى ان كے مقابل '' من و سلوى '' بہتر غذا تھى _

قال أتستبدلون الذى ہو ادنى بالذى ہو خير

''ادني'' ، ''دنو'' سے ہے جس كا معنى ہے نزديك ترين البتہ ''خير'' كے قرينہ سے اس سے مراد پست ترين ہے _ بعض كے نزديك ''ادني'' ''دنائة_ پست '' سے ماخوذ ہے _ بنابريں ''ادني'' كا حقيقى معنى پست ترين ہوگا_

16_ حضرت موسى (ع) نے اپنى قوم كے بہتر غذا كے مقابل پست تر غذا مانگنے پر ان كى سرزنش كى _

قال أتستبدلون الذى ہو ادنى بالذى ہو خير

'' اتستبدلون '' ميں استفہام، انكار توبيخى ہے _ قال كى ضمير ممكن ہے ''ربك ''كى طرف پلٹى ہو اور يہ بھى ممكن ہے كہ حضرت موسى (ع) كى طرف لوٹتى ہو _ مذكورہ بالا مفہوم دوسرے احتمال كى بنياد پر ہے _

17 _ حضرت موسى (ع) كى قوم اپنے غذائي انتخاب كى مصلحتسے ناآگاہ تھي_

قال أتستبدلون الذى ہو أدنى بالذى ہو خير

18 _ بنى اسرائيل اپنى من پسند غذاؤں ( سبزى جات و غيرہ ) كے حصول كى صورت ميں ''من و سلوى '' سے محروم ہو جاتے_

أتستبدلون الذى ہو ادنى بالذى ہو خير

اگر چہ بنى اسرائيل كے كلام ميں يہ معنى موجود نہ تھا كہ ہميں '' من و سلوى '' نہيں چاہيئے ليكن اللہ تعالى يا حضرت موسى (ع) نے ان كے جواب ميں فرمايا '' اتستبدلون_ تم كيوں تبديل كرنا چاہتے ہو'' يہ اس نكتہ كى طرف اشارہ ہے كہ ان غذاؤں كے حصول سے تم ''من و سلوى '' سے محروم كرديئے جاؤگے_

19_ بنى اسرائيل اللہ تعالى كى انتہائي عظيم نعمتوں (من

 

و سلوى ) كے مقابل ناشكرى قوم تھي_

لن نصبر على طعام واحد ... قال أتستبدلون الذى ہو ادني

20 _ اللہ تعالى نے جو كچھ تقدير ميں ركھاہے اسى پر راضى اور صابر رہنا انسان كى حقيقى خير ، مصلحت اور سعادت كى ضمانت فراہم كرتاہے_

لن نصبر على طعام واحد ... قال أتستبدلون الذى ہو ادنى بالذى ہو خير

21_حضرت موسى (ع) نے اپنى قوم كے تقاضے ( زمين كى اگى ہوئي غذاؤں كى خواہش) كے بعد ان سے چاہا كہ كسى ايك شہر ميں آجائيں اورشہرى زندگى اختيار كريں_

قال أتستبدلون ... اہبطوا مصراً فان لكم ما سألتم

اگر '' قال كى ضمير '' ،''ربك '' كى طرف لوٹتى ہو تو '' اہبطوا ...'' اللہ تعالى كا كلام ہے اور اگر حضرت موسى (ع) كى طرف پلٹتى ہو تو يہ جملہ حضرت موسى (ع) كا ہوگا مذكورہ بالا مفہوم دوسرے احتمال كى بنياد پر ہے_

22 _ حضرت موسى (ع) كا اپنى قوم كو شہروں كى سكونت سے دور ركھنا اس لئے تھا كہ آپ (ع) كى نظر ميں اسكے انتہائي عظيم اہداف تھے_

اہبطوا مصراً فان لكم ما سألتم

'' اہبطوا مصراً'' ''كسى ايك شہر ميں آجاؤ تو جو چاہو گے مل جائے گا '' يہ جملہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ حضرت موسى (ع) كى قوم كا بيابانوں سے شہروں كى طرف منتقل ہونا نہايت سہل اور آسان كام تھا صحرانوردى ناگزير نہ تھى پس صحرانوردى كو حضرت موسى (ع) نے اپنى قوم كے لئے خود انتخاب فرمايا تھا _ اس سے يہ مطلب بہت واضح ہوجاتاہے كہ انبياء (ع) اگر اپنى قوم كے لئے كسى معاملے كا انتخاب كريں خصوصاً جبكہ اس ميں مشكلات كا سامنا ہو تو در حقيقت يہ انتخاب بہت عظيم اہداف تك پہنچانے كے لئے ہوتاہے_

23 _ بنى اسرائيل كے متجاوز افراد كى تقدير ميں خوارى ، فقر و بيچارگى كو اٹل قرار دے ديا گيا_

و ضربت عليہم الذلة والمسكنة

'' مسكنة'' كا معنى فقر و درماندگى ہے _ '' ذلة'' اور'' مسكنة'' كى تشبيہ '' قبہ _ گنبد'' وغيرہ سے دى گئي ہے پس '' ضربت لكھى گئي يا لگادى گئي '' كا استعمال اسى لئے ہوا ہے يعنى ذلت و خوارى اور درماندگى نے قبہ كى طرح انكا احاطہ كيا ہوا ہے اور ان پر خيمہ زن ہے_

24 _ بنى اسرائيل اللہ تعالى كے غيظ و غضب ميں مبتلا ہوگئے _

و باء وا بغضب من اللہ

'' باء وا '' كا معنى لوٹنا ہے وہ لوٹ گئے_ بغضب كى '' بائ'' ملابست يا مصاحبة كے لئے ہے_ يعنى وہ لوٹ گئے اس حالت كے ساتھ كہ غيظ و غضب الہى نے انہيں گھيرا ہوا تھا_

25 _ بنى اسرائيل نے آيات الہى كا انكار كيا اور كفر اختيار كيا_

كانوا يكفرون بآيات اللہ

 

قرآن مجید

 

26_ بنى اسرائيل كے لئے بہت سے انبياء (ع) مبعوث ہوئے _

و يقتلون النبيين بغير الحق

''النبيين'' ميں الف و لام استغراق كا ہے يہاں اس سے مراد كثرت ہے_

27_ بنى اسرائيل نے بہت سے انبياء (ع) كو قتل كيا _

و يقتلون النبيين بغير الحق

28_ انبياء (ع) كو قتل كرنے كا بنى اسرائيل كے پاس كوئي عذر يا بہانہ نہ تھا_

و يقتلون النبيين بغير الحق

انبياء (ع) كا قتل چونكہ ہرگز حق نہيں ہے اس لئے '' بغير الحق'' توضيحى قيد ہے تا كہ اس مفہوم كى طرف اشارہ كيا جائے كہ بنى اسرائيل كے پاس كوئي بھى بہانہ نہ تھا مثلاً يہكہ انبياء (ع) كى نبوت كے بارے ميں جہالت يا خطا و غيرہ گويا انبياء (ع) كے قتل كو حق ظاہر كرنے كے لئے كوئي بھى عذر نہ ركھتے تھے _

29_آيات الہى كا انكار اور انبياء (ع) كا قتل بنى اسرائيل كى ہميشہ ہميشہ كے لئے خوارى و درماندگى كا باعث بنے_

ذلك بانہم كانوا يكفرون بآيات اللہ و يقتلون النبيين

''ذلك'' اشارہ ہے ذلة ، مسكنة اور غضب الہى كى طرف اور بانہم ميں '' بائ'' سببيت كے لئے ہے_

30_ بنى اسرائيل آيات الہى كا كفر اختيار كرنے اور انبياء (ع) كے قتل كرنے سے غضب خداوندى كا شكار ہوئے_

ذلك بانہم كانوا يكفرون بآيات اللہ و يقتلو ن النبيين

31_بنى اسرائيل ہميشہ سے گناہگار اور متجاوز تھے_

ذلك بما عصوا و كانوا يعتدون

32_ بنى اسرائيل كا كفركى طرف تمايل و رجحان اور ان كى انبياء (ع) كے قتل پر جرا ت ان كى نافرمانى اور تجاوزگرى كى بنياد تھے_

يكفرون بآيات اللہ ... ذلك بما عصوا و كانوا يعتدون

'' ذلك بما عصوا'' ميں ذلك كا مشاراليہ آيات الہى كا كفر اور انبياء (ع) كا قتل ہے _ البتہ بعض مفسرين نے ''ذلك'' كا مشاراليہ '' ذلت ...'' كو سمجھا ہے _نتيجہ يہ كہ نافرمانى اور تجاوز گرى كو '' ذلت ...'' كى دليل تصور كيا ہے_

33_ آيات الہى كا انكار اور انكا كفر اختيار كرنا انسان كى ذلت وخوارى اور درماندگى كا باعث ہوتاہے_

و ضربت عليہم الذلة ... ذلك بانہم كانوا يكفرون بآيات اللہ

34_ آيات الہى كا انكار اور ان كا كفر اختيار كرنا اللہ تعالى كے غيظ و غضب كا ذريعہ بنتاہے_

و باء وا بغضب من اللہ ذلك بانہم كانوا يكفرون بآيات اللہ

35_ الہى قائدين كا قتل ذلت و بے چارگى اور غضب الہى كا باعث بنتاہے_

 

ضربت عليہم الذلة ... ذلك بانہم ... يقتلون النبيين

36_ تجاوز گرى اور گناہوں كا ارتكاب انسان كو كفر كى ترغيب اور الہى قائدين كے قتل پر آمادہ و لاپرواہ بناديتے ہيں _

يكفرون بآيات اللہ ... ذلك بما عصوا و كانوا يعتدون

37_ بنى اسرائيل كى شہر نشينى اور رفاہ و آسائشے كا ملنا ان كى نافرماني، تجاوز ، انبياء (ع) كے قتل اور كفر كا باعث بنے_

لن نصبر على طعام واحد ... اہبطوا مصراً ... و ضربت عليہم الذلة

يہ مفہوم اس بناپر ہے كہ آيت كا دوسرا حصہ ''ضربت عليہم الذلة'' آيت كے پہلے حصے كے ساتھ مربوط ہو_

38_ بنى اسرائيل كى ''من و سلوى '' پر ناشكرى ، شہر نشينى كا انتخاب اور كفرو تجاوز كى طرف رجحان كا واقعہ سبق آموز اور ياد ركھنے كے لائق ہے _

إذ قلتم يا موسى لن نصبر ... و ضربت عليہم الذلة ... و كانوا يعتدون

''اذ قلتم''،'' اذكروا'' كے لئے مفعول ہے _

39_عن ابى عبداللہ و تلا ہذہ الآية_ ذلك بانہم كانوا يكفرون بآيات اللہ و يقتلون النبيين بغير الحق ذلك بما عصوا و كانوا يعتدون قال: واللہ ما قتلوہم بايديہم ولا ضربوہم باسيافہم و لكنھم سمعوا احاديثہم فاذا عوہا فاخذوا عليہا فقتلوا فصار قتلاً و اعتداء و معصية (1)

امام صادق (ع) نے مذكورہ آيہ مباركہ كى تلاوت فرمائي اور فرمايا خدا كى قسم بنى اسرائيل اپنے ہاتھوں سے انبياء (ع) كو قتل نہ كرتے تھے نہ ہى اپنى تلواروں سے انہيں قتل كرتے تھے ليكن ان كى احاديث كو سنتے اور ان كے راز فاش كرتے نتيجتاً انبياء (ع) گرفتار ہوتے اور قتل كرديئے جاتے تھے اس اعتبار سے راز فاش كرنے كو ہى قتل، تجاوز اور معصيت كہا گيا ہے _

--------------------------------------------------

آيات الہى :

آيات الہى كو جھٹلانے كے نتائج 29،33،34; آيات الہى كو جھٹلانے والے 25

اللہ تعالى :

اللہ تعالى سے مخصوص امور 11; افعال خداوندى 11; حاكميت الہى 12،13; ربوبيت خداوندى 13; اللہ تعالى كى طرف سے مقدرات پر راضى رہنا 20; غضب الہى 24; غضب الہى كے موجبات 30،34،35

انبياء (ع) :

انبياء (ع) كو جھٹلانے كے نتائج 30; انبياء (ع) كو قتل كرنے كے نتائج 29،30، انبياء (ع) كے قاتل 27

--------------------------------------------------------------------------------

1) كافى ج/2 ص 371 ح /6 ، نورالثقلين ج/1ص84 ح 221_ 

انسان:

انسان كى بے صبرى 3; انسانى مصلحتوں كى تكميل20) انسان كا تنوع طلب ہونا 3;انسانى رجحانات 9

بنى اسرائيل:

بنى اسرائيل كے تجاوز كے نتائج 32; بنى اسرائيل كى آسائشے و رفاہ كے نتائج 37; بنى اسرائيل كى شہرنشينى كے نتائج 37; بنى اسرائيل كى نافرمانى كے نتائج 32; بنى اسرائيل كے قتلوں كے نتائج 29; بنى اسرائيل كے انبياء (ع) 26; بنى اسرائيل صحرائے سينا ميں 10; صدر اسلام كے بنى اسرائيل 7; بنى اسرائيل اور انبياء (ع) كے راز فاش كرنا 39; بنى اسرائيل اور سلوى كى غذا 1،18،19; بنى اسرائيل اور سبزيوں كى غذا 10; بنى اسرائيل اور '' من'' كى غذا 1، 18 ،19; بنى اسرائيل اور پياز كى خواہش 14; بنى اسرائيل اور سبزى جات كى خواہش 14; بنى اسرائيل اور مسور كى خواہش 14; بنى اسرائيل اور گندم كى خواہش 14; بنى اسرائيل اور دعا 5; بنى اسرائيل اور حضرت موسى (ع) كى دعا 8; نبى اسرائيل اور انبياء (ع) كا قتل 27، 28، 32 ، 37 ، 39; بنى اسرائيل اور حضرت موسى (ع) 4، بنى اسرائيل كى بے صبرى 1; بنى اسرائيل كى تاريخ 1، 2، 4،5، 10،14،16،21،23،27،38; بنى اسرائيل كى تجاوز گرى 31،38; بنى اسرائيل كى تنوع طلبى 2،4; بنى اسرائيل كے جرائم 27; بنى اسرائيل كى جہالت 17; بنى اسرائيل كى خواہشات 4،5، 6، 14 ،15،21; بنى اسرائيل كى پودوں كى شكل ميں غذائيں 14; بنى اسرائيل كى غذائيں 2،4،15،17; بنى اسرائيل كى ذلت 23،29; بنى اسرائيل كى تجاوز گرى كا سرچشمہ 37; بنى اسرائيل كى نافرمانى كا سرچشمہ 37; بنى اسرائيل كے كفر كا سرچشمہ 37; بنى اسرائيل كى سرزنش 16; بنى اسرائيل كا شكوہ 2; بنى اسرائيل كى شہر نشينى 21،38; بنى اسرائيل كى صفات 7; بنى اسرائيل كا عقيدہ 23; بنى اسرائيل كے مغضوب ہونے كے اسباب 30; بنى اسرائيل كے متجاوزين كا انجام 23; بنى اسرائيل كے متجاوزين كا فقر 13; بنى اسرائيل ميں قتل كى داستان 27، 30،32; بنى اسرائيل كا كفران 19،38;بنى اسرائيل كاكفر 25، 30، 38; بنى اسرائيل كا گناہ 31; بنى اسرائيل كى مصلحتيں 17; بنى اسرائيل كا مغضوب ہونا 24; بنى اسرائيل كى شہرنشينى سے ممانعت 22; بنى اسرائيل كے كفر كا منبع 32; بنى اسرائيل كى ناراضگى 1

پودے:

پودوں كے اگنے كا حقيقى سبب 11

تجاوز:

تجاوز كے نتائج 36

جرائم:

جرائم كے نتائج 29،30،35; جرائم كے اسباب 32،36،37

 

حضرت موسى (ع) :

حضرت موسى (ع) كى دعا كى قبوليت 8; حضرت موسى (ع) كے اہداف 22; حضرت موسى (ع) كى سرزنشيں 16; حضرت موسى (ع) كا واقعہ 16، 21; حضرت موسى (ع) اور بنى اسرائيل 16،21،22

دينى قائدين:

دينى قائدين كے قتل كے نتائج 35; دينى قائدين كے قتل كى زمين ہموار ہونا 36

ذكر:

ذكر تايخ 38

ذلت:

ذلت كے عوامل 29،33،35

روايت: 39

زمين:

زمين سے استفادہ 9

طبيعاتى اسباب:

طبيعاتى اسباب كا عمل 12

ظلم:

ظلم كے نتائج 32

غذائيں:

پودوں كى شكل ميں غذاؤں كى درخواست 5،6

فقر:

فقر كے اسباب 35

كفر:

آيات الہى كے كفر كے نتائج 30،33،34; كفر كى زمين ہموار ہونا 36; آيات الہى كا كفر 25

كفران :

كفران نعمت 19

گناہ :

گناہ كے نتائج 36

گناہ گار لوگ : 31

متجاوزين 31

اللہ كے ہاں مغضوب لوگ 24، 30