• صارفین کی تعداد :
  • 513
  • 1/29/2014
  • تاريخ :

اوباما کا خطاب، عالمي رائے عامہ کي نفرت کم کرنے کي کوشش

اوباما کا خطاب، عالمی رائے عامہ کی نفرت کم کرنے کی کوشش

امريکي صدر بارک اوباما نے اسٹيٹ آف دي يونين سے اپنے خطاب ميں کہا ہے کہ رواں سال کے آخر تک افغانستان ميں واشنگٹن کا مشن پورا ہوجائيگا- انھوں نے کہا کہ بارہ سال سے جاري افغان جنگ ختم ہونے والي ہے اور عراق سے تمام امريکي فوجي واپس بلائے جاچکے ہيں افغانستان سے بھي 60 ہزار سے زائد امريکي فوجي واپس جاچکے ہيں اور افغانستان ميں افغان سيکيورٹي فورسز نے ذمہ دارياں سنبھال لي ہيں-امريکي صدر نے کہا کہ اگر افغانستان نے سيکيورٹي معاہدے پر دستخط کرديئے تو کچھ امريکي فوجي وہاں رہ سکيں گے جو افغان فورسيز کو تربيت ديں گے- بارک اوباما نے  ڈرون حملوں کا بھي ذکر کيا اور کہا کہ يہ حملے محدود کر ديئے گئے ہيں-واضح رہے کہ امريکي صدر کا يہ بيان ايسي حالت ميں آيا ہے کہ دنيا کے مختلف ملکوں ميں امريکہ کي فوجي موجودگي کے خلاف ان ملکوں کے عوام کي جانب سے شديد احتجاج کيا جاتا رہا ہے اور ڈرون حملوں پر بھي خاصطور سے پاکستان اور افغانستان کي حکومتوں اور عوام کي جانب سے نہ صرف شديد مذمت کي جاتي رہي ہے بلکہ بارہا اعلان کيا جاتا رہا ہے کہ ان حملوں ميں زيادہ تر عام شہري مارے جارہے ہيں جس سے رائے عامہ ميں امريکہ سے نفرت بھي بڑھتي جارہي ہے-


متعلقہ تحریریں:

پاکستان: کوئٹہ تفتان راستہ زائرين کے لئے بند

ايران،صدر مملکت سے کوفي عنان کي ملاقات