• صارفین کی تعداد :
  • 905
  • 8/3/2013
  • تاريخ :

يوم القدس اور مسلمان

یوم القدس اور مسلمان

دنيا بھر ميں   اس سال بھي  قبلہ اول کي آزادي اورفلسطيني مسلمانوں سے اظہارِ يکجہتي کے ليے يوم القدس منايا  گيا ہے- اس موقع پراسلامي جمہوريہ ايران،پاکستان، ہندوستان، لبنان، عراق، بحرين اور فلسطين سميت دنيا کے کئي ممالک ميں القدس ريلياں نکالي گئيں -  اسلامي جمہوريہ ايران کے دارالحکومت تہران سميت پورے ايران ميں  عظيم الشان القدس ريلياں نکالي گئيں جن ميں کروڑوں افراد نے ‎ شرکت کي- ريلي کے شرکاء امريکہ، اسرائيل اورعالمي استکبار کے خلاف فلگ شگاف نعرے لگا رہے تھے- پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد،لاھور، کراچي، پشاور، کشمير اور گلگت بلتستان سميت کئي شہروں ميں القدس ريلي نکالي گئي ہندوستان کے داراحکومت دھلي، کشمير، لکھنوحيدرآباد اوربمبئي سميت کئي شہروں ميں القدس ريلياں نکالي گئيں جن ميں لاکھوں افراد نے شرکت کي-

ارض فلسطين انبياء کي سرزمين بيت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اوّل اس وقت غاصب صہيوني رياست کے قبضے ميں ہے.مسئلہ فلسطين امت مسلمہ کے ان اساسي اور بنيادي مسائل ميں سے ايک ہے جس نے گزشتہ کئي عشروں سے امت مسلمہ کو بے چين کررکھا ہے - ارض فلسطين جسے انبياء کي سرزمين کہا جاتا ہے اور بيت المقدس جو مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے اس وقت سے غاصب صہيوني رياست کے قبضے ميں ہے جب سے ايک عالمي سازش کے تحت برطانيہ اوراسکے ہم نواۆں کي کوششوں سے دنيا بالخصوص يورپ کے مختلف علاقوں سے متعصب يہوديوں کو فلسطين کي زمين پر بسايا گيا - صہيونيوں کے اس سرزمين پر آتے ہي وہاں کے مقامي فلسطيني باشندوں کو کنارے لگاديا گيا اور آہستہ آہستہ فلسطينيوں پر ظلم و ستم اس سطح پر پہنچ گئے کہ فلسطينيوں کو ہاتھ اپنے ہي ملک ميں تيسرے درجے کا شہري بننا پڑا يا مجبور ہوکر انہيں ترک وطن کرنا پڑا -فلسطين کا مسئلہ شروع ميں تو ايک علاقائي مسئلہ رہا ليکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فلسطين کي مخلص اور مجاہد قيادت کو يہ ادراک ہونے لگا کہ دشمن صرف زمين اور علاقائي مسئلہ سمجھ کر فلسطين پر قابض نہيں ہونا چاہتا بلکہ اس کے پيچھے ديني اور نظرياتي مسائل ہيں - فلسطين کے مسئلے کے حل کے لئے گزشتہ چھ عشروں ميں کئي کوششيں ہوئيں ايک دور تھا کہ فلسطين ميں ياسرعرفات کا طوطي بولتا تھا اور فلسطين اور فلسطينيوں کي قسمت کا فيصلہ پي ايل او اور ياسر عرفات کے ہاتھوں ميں تھا- ( جاري ہے )

 

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

 


متعلقہ تحریریں:

ايران کےسائنسي مقالوں کي اشاعت پر پابندي

لبنان اب لقمہ تر نہيں رہا