• صارفین کی تعداد :
  • 666
  • 7/21/2013
  • تاريخ :

لبنان اب لقمہ تر نہيں رہا

سید حسن نصر الله

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سيدحسن نصراللہ نے کہا ہے کہ اسرائيل آئندہ جنگ ميں بيروت پرحملہ کرنے سے پہلے شمالي مقبوضہ فلسطين ميں اپنےاڈوں کي فکر کرے-

سيدحسن نصراللہ نے اسلامي استقامت کے وفود کي افطار پارٹي سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ جنگ ميں صيہوني حکومت بيروت پر بمباري کرنے سے پہلے الجليل کي فکر کرےگي-

انھوں نے تاکيد کے ساتھ کہا کہ کوئي بھي قيمت چکائےبغير لبنان کےخلاف جارحيت نہيں کر سکتا-

حزب اللہ لبنان کےسربراہ نے کہا کہ حزب اللہ، لبناني عوام کي حمايت کےلئے ميدان ميں اتري ہے اور غاصب صيہوني حکومت جو لبنان ميں حزب اللہ کي ہر جگہ موجودگي سے تشويش ميں مبتلا ہے مختلف سازشوں سے اسےکمزور کرنے کے اقدامات کرتي رہي ہے ليکن وہ ناکام رہي ہے-

حزب اللہ لبنان کےسربراہ نے لبنان ميں حزب اللہ کي پوزيش کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ، لبنان ميں مضبوط ہے اور اسے عوامي حمايت حاصل ہے اور  حزب اللہ ٹوٹنے والي نہيں ہے اور جو بھي اسے توڑنا چاہتے ہيں يا اسے تنہا کرنا چاہتے ہيں وہ ناکام ہوں گے کيونکہ حزب اللہ ايک تنظيم نہيں بلکہ عوامي عزم کا نام ہے -

سيدحسن نصراللہ نے کہا کہ لبنان کا دفاع صرف حزب اللہ پر منحصر نہيں ہونا چاہئےبلکہ قوم کے ہر طبقے کو ملکي اور غيرملکي دشمن کےسامنے اپنے ملک کے قومي اقتدار اعلي کي حمايت کرني چاہئے -

حزب اللہ لبنان کےسربراہ نے اس بات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حزب اللہ نے تينتيس روزہ جنگ ميں امريکہ کے نئے مشرق وسطي کےمنصوبے کو خاک ميں ملا ديا کہا کہ حزب اللہ ، انيس سو بياسي ميں اپني تشکيل کے زمانے سے ہي تمام الزامات کےباوجود لبنان پرقبضے کے امريکہ واسرائيل کے مقاصد کو ناکام بناتي رہي ہے-

انھوں نے تاکيد کےساتھ کہا کہ اسرائيل کو معلوم ہے کہ لبنان اب لقمہ تر نہيں رہا کيونکہ حزب اللہ نہايت مضبوط دفاعي پاور کي حامل ہے اور لبنان کےخلاف کسي بھي جارحيت کو پسپا کرنے کي طاقت رکھتي ہے-

حزب اللہ لبنان کےسربراہ نے لبنان ميں داخلي اختلافات کے خاتمے اور ملک ميں پائدار قيام امن کے بارے ميں کہا کہ حزب اللہ تمام سياسي گروہوں سے بات چيت کےلئے ہر وقت تيار ہے-

لبنان ميں مختلف سياسي ومذہبي شخصيتوں نے حزب اللہ کے استقامت و پائداري نيز اتحاد وجمہوريت سے سرشار جذبات وکردار کو سراہا ہے -

لبنان کے جمعيت قولناوالعمل کےسربراہ اور عالم اہلسنت احمد القطان نے سيدحسن نصراللہ کے بيانات کا جائزہ ليتے ہوئے کہا ہے کہ سيدحسن نصراللہ  کے بيانات لبنان کي عظيم قوم کےمطالبات کےمطابق ہيں اور لبنان ميں امن وسکون کا ماحول قائم کرنے ميں اہم کردار ادا کر سکتے ہيں-احمدالقطان نے لبنان کي مختلف پارٹيوں اور گروہوں سےمطالبہ کيا ہے کہ وہ حزب اللہ کےسربراہ کي جانب سے دوسرے گروہوں کےساتھ تعاون کے رجحان کا مثبت جواب ديں -

احمد القطان نے کہا کہ علاقے کےحالات کو ديکھتے ہوئے ملت لبنان کو اس وقت ہميشہ سے زيادہ امن و استحکام کي ضرورت ہے- انھوں نے کہا کہ مذاکرات اور صلاح ومشورہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے اور ديکھنا يہ ہے کہ دوسرے گروہ بھي سيدحسن نصراللہ کي نيک نيتي کا مثبت جواب ديتے ہيں يا نہيں -

حزب اللہ کے تابناک ماضي وحال کے مدنظر سيدحسن نصراللہ کے بيانات پر مختلف ردعمل سامنے آيا ہے حتي مقبوضہ فلسطين ميں صيہوني حکومت نے بھي سيدحسن نصراللہ کےانتباہ  پر ردعمل ظاہر کيا ہے اسرائيل کےانسپيکٹر جنرل ژوزف شاپيرا سميت مختلف صيہوني حکام نے حزب اللہ لبنان کے مقابلے ميں اس حکومت کي عاجزي و ناتواني کا اعتراف کيا ہے-

يہ ايک حقيقت ہے کہ مشرق وسطي ميں مسلمان ممالک کےخلاف سامراج اور صيہوني سازشوں کےمدنظر حزب اللہ لبنان کےسربراہ کا يہ بيان نہايت اہميت کا حامل ہے کيونکہ لبنان اور صيہوني حکومت کےدرميان تينتيس روزہ جنگ ميں تل ابيب کي شکست کے بعد سامراج کا نيامشرق وسطي وجود ميں لانے کا خواب شرمندہ تعبير رہ گيا جس کے بعد سامراج نے ايک طرف فلسطين کے ہمسايہ ممالک شام اور مصر ميں بحران کھڑا  کرکے صيہوني حکومت کو فائدہ پہنچانے اور اس کےغاصبانہ قبضوں نيز صيہوني کالونيوں کي توسيع کا موقع فراہم کيا اور دوسري جانب لبنان ميں داخلي سطح پر سياسي ومذہبي اختلافات کو ھوا دے کر عدم استحکام پيدا کرنا چاہ رہا ہے تاکہ غاصب صيہوني حکومت کواپني توسيع پسندانہ پاليسيوں پرعمل کرنے کا پورا پورا موقع حاصل ہو جائے ليکن حزب اللہ لبنان کےسربراہ کےبيانات سے پتہ چلتا ہے کہ صيہوني حکومت اپنے مذموم عزائم ميں ہرگز کامياب نہيں ہو گي -

 

بشکریہ اردو ریڈیو تھران

متعلقہ تحریریں:

عالمي طاقتيں جمہوريت کي دشمن

پاکستان ميں طالبان کے ہاتھوں ايک اسکول تباہ