• صارفین کی تعداد :
  • 686
  • 7/8/2013
  • تاريخ :

عالمي طاقتيں جمہوريت کي دشمن

عالمی طاقتیں جمہوریت کی دشمن

مصر ميں سياسي غيريقيني (حصّہ اوّل)  

پاکستان ميں امريکہ نے جب بھي فوج کو کسي دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنا ہوتا ہے اس وقت وہ فوج کي حمايت کرنا شروع کر ديتا ہے اور فوجي حکومت کو استعمال کرکے علاقے ميں اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے -  چونکہ سي آئي اے نے سوويت يونين کيخلاف پراکسي جنگ لڑنا تھي لہٰذا فوج اور ملاۆں کے باہمي گٹھ جوڑ سے بھٹو کو تخت دار تک پہنچا ديا گيا- مصر ميں جمال عبدالناصر، انور السادات اور صدر مرسي جيسے آزادانہ ذہن رکھنے والے ليڈر حکمران ہوں- اگرچہ جمال عبدالناصر اور انور السادات بالآخر امريکہ اور برطانيہ کے سامنے کسي حد تک جھک گئے تھے- جمال عبدالناصر نے نہر سويز کے مسئلے پر اور انور السادات نے سوويت يونين سے مايوس ہو کر اپنے ملکي مفادات ميں کيمپ ڈيوڈ سمجھوتہ کے تحت اسرائيل کے ساتھ امن معاہدہ کر ليا مگر بھٹو يا شاہ فيصل، ليبيا کے معمر قذافي کو بالاآخر عالمي سامراجي طاقتوں کے ہاتھوں عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑا- ايک سال پيشتر جب مصر ميں 28 سال سے حکومت کرنے والے آمر حسني مبارک کو عہدے سے معزول ہونا پڑا تو ايسا دکھائي دينے لگا کہ مصر ميں جمہوريت کو فروغ ملے گا اور محمد البرادي صدر بن جائے گا مگر مصر کے عوام نے اخوان المسلمون کي فريڈم اينڈ جسٹس پارٹي کو صدارتي اور پارليماني انتخابات ميں بھاري اکثريت سے کاميابي دلائي- اخوان المسلمون کے سياسي ونگ فريڈم اينڈ جسٹس پارٹي نے حکومت قائم کر لي اور اپنے ساتھ حکومت ميں سلفيوں اور عيسائي قبطيوں کو بھي اہم وزارتيں ديں مگر محمد مرسي نے فلسطيني اتھارٹي کي حمايت کرنا شروع کر دي اور اسکے ساتھ ہي ايران سے تعلقات کي بحالي کي طرف رجوع کيا -

 محمد مرسي کے ہٹ دھرم مزاج کو ديکھتے ہوئے ان کيخلاف بيروني حمايت سے مصر کي اسٹيبلشمنٹ نے ان کو ناکام بنانے کيلئے ريشہ دوانيوں کا سلسلہ شروع کر ديا- محمد مرسي کو چاہئے تھا کہ وہ ترکي کے صدر طيب اردگان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آہستہ آہستہ فوج کے اثر و رسوخ کو کم کرتے مگر اقتدار سنبھالتے ہي انہوں نے 30 جون 2012ء کو اس وقت کے طاقتور آرمي چيف محمد حسين طنطاوي کو برطرف کر ديا اور جنرل عبدالفتح خليل السيسي کو متعدد سينئر جنرلوں پر ترجيح ديکر آرمي چيف مقرر کر ديا مگر صدر مرسي کو اپنے پسنديدہ آرمي چيف کے ہاتھوں اسي طرح معزول ہونا پڑا جس طرح ضياالحق کے ہاتھوں بھٹو اور مشرف کے ہاتھوں نواز شريف کو اقتدار سے معزول ہونا پڑا- بھٹو کو ضياالحق نے پھانسي ديدي، نواز شريف کو پرويز مشرف کے ہاتھوں ملک سے جلا وطن ہونا پڑا، اب ديکھنا ہے کہ مصري آرمي چيف اپنے محسن صدر مرسي سے کيا سلوک کرتے ہيں مگر يہ حقيقت ہے کہ اقتدار کي ہوس ميں محسن کشي ايک عام روايت ہے-صدر محمد مرسي کے ترجمان نے کہا کہ صدر مرسي اپني جان ديدينگے مگر کسي غير آئيني طريقے سے اقتدار نہيں چھوڑيں گے مگر محسن کش آرمي چيف نے کہا کہ وہ دہشت گردوں اور بے وقوفوں کي حمايت نہيں کرينگے- اس نے محمد البرادي اور سيکولر پارٹيوں سے حکومت کا تختہ الٹنے کے معاملے پر طويل مذاکرات کئے اور منگل کي رات مصر کي اپوزيشن پارٹيوں نے صدر مرسي کي طرف سے مخلوط نظام حکومت قائم کرکے اسکے تحت انتخابات کرانے کو مسترد کر ديا - مصر کي آئيني حکومت کا سربراہ پہلے ہي اسلامي حکومت کيخلاف تھا- حد تو يہ ہے کہ سرکاري مُلا جامعہ الازہر کے شيخ احمد الطيب نے فوجي اقدام کي حمايت کر دي ہے اور حکومت ميں موجود مذہبي طبقے جو ہمارے ہاں جمعيت علمائے اسلام کہلاتے ہيں وہاں کے سلفيوں کي النور پارٹي بھي غير جانبداري کي آڑ ميں صدر مرسي کي حمايت سے پيچھے ہٹ گئي- سرکاري مولويوں نے ان مظاہرين کي حوصلہ افزائي ميں فتوے دئيے- ( جاري ہے )

 

متعلقہ تحریریں:

دنيا ميں آمر حکومتوں کا خاتمہ

مصر ميں پہلے شيعہ ديني مدرسے كا قيام