• صارفین کی تعداد :
  • 721
  • 7/3/2013
  • تاريخ :

خود کش حملے حرام اورطالبان دورحاضر کے خوارج

پشاور میں  نمازیوں پر حملے کے خلاف احتجاج

سني اتحاد کونسل پاکستان کے علماء نے کہا ہے کہ اسلام ميں خود کش حملے حرام ہيں اور پاکستاني طالبان دورحاضر کے خوارج ہيں جو بے گناہ مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار ديتے ہيں-

لاہور سے جاري سني اتحاد کونسل کے پچاس علماء کے متفقہ فتوے ميں قرارديا گيا ہے کہ شرک کے بعد قتل سب سے بڑا گنا ہ ہے ، مساجد ، مزارات ، اسپتالوں ، جنازوں ،تعليمي اداروں ، مارکيٹو ں اورسيکيورٹي فورسز پر حملے جہاد نہيں فساد ہيں ،بے گناہ طالبات ، اوربے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغي ہيں ،مسلم رياست کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والوں کو کچلنا حکومت پر لازم ہے ،دہشت گردوں کے خلاف جہاد ميں حکومت سے تعاون ہرشہري کا فرض ہے-

پچاس علماء کے متفقہ فتوےميں کہا گيا ہے کہ امريکا کے خلاف جہاد کا اصل ميدان پاکستان نہيں افغانستان ہے ، پاکستاني طالبان دور حاضر کے خوارج ہيں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار ديتے ہيں- فتوے ميں کہا گيا ہے کہ ڈرون حملے عالمي قانون کي خلاف ورزي اور امريکہ کا ظالمانہ فعل ہيں -

 

متعلقہ تحریریں:

پاکستان ميں20نمازيوں کي شہادت کے خلاف احتجاجي ريلياں

پاکستان کے قبائلي علاقوں ميں دہشت گردوں کے خلاف آپريشن