• صارفین کی تعداد :
  • 2589
  • 5/24/2013
  • تاريخ :

 حضرت حجر ابن عدي کي زندگي کے حالات

حضرت حجر ابن عدی کی زندگی کے حالات

حجر ابن عدي ، قرباني شقاوت و تعصب( حصّہ اوّل ) 

حضرت حجرابن عدي کي شہادت کے بعد معاويہ بن سفيان نے اعتراف کيا " اگر ميرے ساتھيوں ميں حجر ابن عدي جيسے چند افراد ہوتے تو ميں بني اميہ کي حکومت کو پوري دنيا ميں قائم کرديتا ليکن افسوس صد افسوس  ، ميں کس طرح حجر ابن عدي جيسے افراد کو، جو پوري شجاعت ودليري اور جذبہ ايماني کے ساتھ ميدان عمل ميں ڈٹےرہے ، اپنے پاس اکٹھا کرسکتا ہوں ؟

حجر ابن عدي کو شہيد کرنے کے بعد امير شام کو بہت سي مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اور جب حج کے ارادے سے مدينہ گئے تو ام المومنين عائشہ سے ملاقات کي خواہش ظاہر کي ليکن  حضرت عائشہ نے دو دليلوں کي بنياد پر ملنے سے انکار کرديا پہلے يہ کہ انہوں نے ان کے بھائي محمد ابن ابو بکر کو کيوں شہيد کيا دوسرے يہ کہ اس نے حجر ابن عدي کو کيوں شہيد کيا -امير شام نے حضرت عائشہ سے معافي مانگي ليکن انہوں نے مناقات کي اجازت نہ دي مگر جب اصرار زيادہ بڑھا تو حضرت عائشہ نے مجبورا ملاقات کي اجازت دے دي اور پھر پيغمبر اسلام (ص) کي يہ حديث پڑھ کر اسے سنائي کہ پيغمبر (ص) نے فرماياتھا کہ " سرزمين مرج العذراء پر ايک گروہ قتل ہوگا جن کے قتل سے پروردگار عالم اور اہل آسمان بہت زيادہ غضبناک ہوں گے " کہتے ہيں کہ امير شام زندگي کے آخري لمحے تک اس دلخراش منظرکو ياد کرتا رہا اور حجر ابن عدي کے قتل پر اظہار پشيماني کرتارہا -يہاں تک کہ موت کي ہولناک وادي ميں جا پہنچا مگر مرج العذراء ميں شہيد ہونے والے زندہ جاويد ہوگئے اور ان کا نام عشق و آزادي اور شرافت ميں سرفہرست درج ہوگيا -

يقينا حجر ابن عدي جيسے افراد کا ايمان ، انسان کي روحاني و باطني عظمتوں اور جلوۆں کو خاشع و خاضع بنا ديتا ہے يہي ايمان و شجاعت تھي جو پيروان حق کي جانب سے آشکار ہوئي جس نے باطل طاقتوں کو لرزہ براندام کرديا ايسا خوف، جو چودہ سو برسوں کے بعد آج بھي جاري ہے  کيونکہ پيغمبر اسلام (ص) ، اہل بيت طاہرين اور آپ کے عظيم صحابيوں کي حقانيت کے خلاف اہل باطل کے دلوں ميں آج بھي بغض و کينہ اور حسد بھرا ہوا ہے  اسي لئے کبھي وہ توہين آميز کارٹون بناکر ، کبھي توہين آميزمن گھڑت داستانيں لکھ کر، تو کبھي مضحکہ خيز فلم دکھاکر اپني عداوت و دشمني کا مظاہرہ کررہے ہيں -اور اب تو حد يہ ہوگئي ہے کہ حال ہي ميں انہوں نے ايک گھناۆنا اور بدترين کام انجام ديا ہے اور وہابيت کے ٹکڑوں پر پلنے والے ان کے ايجنٹوں نے پيغمبر اسلام کے جليل القدر صحابي حجر ابن عدي کے مرقد مطہر پر حملہ اور نبش قبر کرکے ان کي ضريح مبارک کو مسمارکرديا اور ان کے جسد اطہر کو جو چودہ سو برسوں کے بعد آج بھي تر وتازہ اور خون آلود تھا نامعلوم مقام پر منتقل کرديا - نبش قبر جيسے غيرانساني فعل کي نسبت کسي بھي مسلمان کي طرف نہيں دي جاسکتي- يہ وہي لوگ ہيں جو سينکڑوں بے گناہ بچوں ،جوانوں  اور بوڑھوں کا خون بہاتے ہيں صرف يہي نہيں بلکہ نوجوانوں کي گردنوں کو بڑي بے رحمي سے تلواروں سے اڑاکر موت کے گھاٹ اتار ديتے ہيں اور پھر ان لاشوں کي تصاوير کو انٹرنيٹ اور سيٹيلائٹ پر نشر کرتے ہيں اور خود کو مسلمان ثابت کرکے اسلام کا بدترين چہرہ دنيا والوں کے سامنے پيش کرتے ہيں- ( جاری ہے )

 

بشکریہ اردو  ریڈیو تھران


متعلقہ تحریریں:

عزادار حسين عليہ السلام کے آنسوۆں کي عظمت

اہميت زيارت اربعين