• صارفین کی تعداد :
  • 2261
  • 5/22/2013
  • تاريخ :

حجر ابن عدي ، قرباني شقاوت و تعصب

حجر ابن عدی

مرج العذراء کي سرزمين وہ علاقہ ہے جسے خليفہ دوم عمر ابن خطاب کے زمانے ميں " حجر ابن عدي " نے فتح کيا تھا اور وہاں کے لوگوں کو اسلام کي دعوت دي تھي اورآج بھي اس سرزمين پر ان کي بے شمار يادگاريں موجود ہيں -جب حکومت کے اہلکار ان کا ہاتھ باندھ کر اس سرزمين پر لائے تو انہوں نے کہا : ميں سب سے پہلا مسلمان تھا جس نے اس علاقے ميں تکبير کہي تھي اور خدا کو ياد کيا تھا اور اس وقت يہ لوگ مجھے يہاں قيد کرکے لائے ہيں -

امير شام معاويہ ابن ابو سفيان کي نظر ميں حجر ابن عدي کا سب سے بڑا جرم ان کا محب علي   ہونا تھا- اسي لۓ اس نے ايک گروہ کو يہ ذمہ داري سونپي کہ وہ موجودہ شام کے علاقے  مرج العذراء جائيں اور حجر ابن عدي اور ان کے ساتھيوں کو قتل کرديں- جب امير شام معاويہ ابن سفيان کے سپاہيوں نے انہيں گرفتار کيا تو ان سے کہا : اگر تم لوگ علي سے اظہار برات اور دوري اختيار کرو اور ان کي شان ميں گستاخي کرو تو ہم تمہيں آزاد کر ديں گے اوراگر ايسا نہيں کرو گے تو تمہيں قتل کر ديں گے حجرابن عدي اور ان کےساتھيوں نے کہا : تيز تلوار کےمقابلے ميں صبر و رضا پر ايمان ہمارے لئے اس چيز سے بہت ہي آسان ہے جس کے بارے ميں تم ہميں دھمکياں دے رہے ہو- خدا و رسول اور حضرت امام علي عليہ السلام کے ديدار پر ايمان، دوزخ ميں داخل ہونے سے زيادہ محبوب تر ہے -اس وقت حجر ابن عدي نے کہا : کہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمايا تھا اے حجر تم علي کي محبت ميں ظلم و بربريت سے قتل کئے جاۆ گے اور جب تمہارا خون زمين پر گرے گا تو اس کے نيچے سے ايک چشمہ جاري ہو گا جو تمہارے سر کے زخموں کو دھو دے گا -

اور پھر يکے بعد ديگرے حجر ابن عدي کے باوفا ساتھي اپنے خون ميں غلطاں ہوئے اور انہوں نے شہادت کا جام پي کر اپني پاکيزہ زندگي کے نقوش کو تاريخ کے دامن ميں ہميشہ کے لئے ثبت کرديا اور آخر ميں حضرت حجر بھي شہيد ہو گئے -

پيغمبر اسلام (ص) کے عظيم صحابي حجر ابن عدي جواني کے دور ہي سے شجاعت و بہادري جيسي صفت سے مزين تھے اور جس دن سے وہ اسلام لائے تھے اسي دن سے مشرکوں اور کافروں سے بر سر پيکار تھے آپ حضرت علي عليہ السلام کي خلافت کے دوران فتح شام ، سرزمين مدائن اوراسلام کي اہم جنگوں ميں بڑي شجاعت ودليري کے ساتھ اسلام کا دفاع کرتے رہے اور مرج العذراء علاقے کے وہ سب سے پہلے مسلمان شہيد تھے جنہوں نے مصلي شہادت پر پہنچنے کے باوجود دو رکعت نماز پڑھنے کا ارادہ کيا تاکہ عظمت پروددگار کے حضور ميں راز ونياز کرکے اپني روح کو باليدگي بخشيں -چنانچہ آپ نے مصلي شہادت پر دو رکعت نماز پڑھنے کي مہلت طلب کي - دشمنوں کي نظرميں ان کي نماز طولاني ہونے لگي تو انہوں نےکہا : تم نے نماز کو بہت طول ديديا ہے کہيں ايسا تو نہيں کہ موت سے ڈر گئے ؟ حضرت حجر نے نہايت دليري سے کہا يقين کرو کہ ميري زندگي کي يہ سب سے کم وقت ميں پڑھي جانے والي نماز تھي جو ميں نے ابھي پڑھي ہے بالآخر حجر ابن عدي شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے اور جہاد کے سنگين بوجھ کو سرحد شہادت يعني آخري منزل تک پہنچا ديا ليکن تاريخ کے رنگين صفحات پر ہميشہ کے لئے امير شام کي ذلت وخواري کي داستان لکھ دي -

( جاري ہے )

 

بشکریہ اردو ریڈیو تھران


متعلقہ تحریریں:

عزادار حسين عليہ السلام کے آنسوۆں کي عظمت

کربلا کے متعلق تحقيقي مواد اور مدارس کي ذمہ داري