• صارفین کی تعداد :
  • 2926
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

شيخ کي شاعري کي شہرت اس کي زندگي ميں

شیخ سعدی کی شاعری

شيخ کي تعليم کا حال

سعدي کے زمانے ميں مسلمانوں کے بے شمار مدرسے بلاد  اسلام ميں کھلے ہوئے تھے

شيخ سعدي اور علامہ ابوالفرج عبدالرحمن ابن جوزي

شيخ کو بچپن سے فقر اور درويشي کي طرف زيادہ ميلان تھا

شيخ کي جادو بياني اور فصاحت و بلاغت کا چرچا اس کي زندگي ہي ميں تمام ايران، ترکستان، تاتار اور ہندوستان ميں اس قدر پھيل گيا تھا کہ اس زمانے کي حالت پر لحاظ کرنے کے بعد اس پر مشکل سے يقين آتا ہے- خود شيخ بھي گلستان کے ديباچے ميں کہتا ہے "ذکر جميل سعدي کہ در افواہ افتادہ وصيت سخنش کہ در بسيط زمين رفتہ"- شيراز اور کاشغر ميں کچھ کم سولہ سو ميل کا فاصلہ ہے- پہلے اس سے کہ کاشغر ميں پہنچے، وہاں کے چھوٹے بڑے اس کے کمالات سے واقف تھے-

جس زمانے ميں شيخ کاشغر پہنچا ہے، غالبا يہ وہ زمانہ ہے کہ چنگيز خان چيني تاتار کو خوارزميوں سے فتح کر چکا ہے اور سلطان محمئ خوارزم شاہ کے ساتھ چند روز کے ليے اس کي صلح ہو گئي ہے- جب شيخ کاشغر کي جامع مسجد ميں گيا تو وہاں ايک طالب علم مقدمہ زمخشري ہاتھ ميں ليے زبان سے کہ رہا تھا کہ "ضرب زيد عمروا" شيخ اس سے چہل کي باتيں کرنے لگا" اور کہا کيوں صاحب! خوارزم و خطا ميں صلح ہو گئي مگر زيد اور عمر کي خصوصيت بدستور چلي جاتي ہے؟ طالب علم ہنس پڑا اور شيخ کا وطن پوچھا- فرمايا "خاک پاک شيراز"- اس نے کہا "کچھ سعدي کا کلام ياد ہے؟" شيخ نے بطريق مزاح کے بعد کہا " سعدي کا زيادہ تر کلام فارسي ہے، اگر کچھ اس ميں سے ياد ہو تو پڑھے جن ميں سے ايک يہ ہے- شعر

اے دل عشاق بدام تو صيد

ما بتو مشغول تو با عمرو زيد

صبح کو جب شيخ نے کاشغر سے چلنے کا ارادہ کيا، کسي نے اس طالب علم سے کہ ديا کہ سعدي يہي شخص ہے- وہ بھاگا ہوا شيخ کے پاس چلا آيا اور نہايت افسوس کيا کہ پہلے سے آپ نے اپنا نام نہ بتايا کہ ميں آپ کي خدمت گذاري سے سعادت حاصل کرتا- اگر اب بھي چند روز شہر ميں چل کر قيام کيجيے تو ہو لوگ خدمت گذاري سے مستفيد ہوں- اس کے جواب ميں آپ نے يہ اشعار پڑھے-

بزرگے ديدم اندر کوہسارے

قناعت کردہ از دنيا بغارے

چرا گفتم بہ شہر اندر نيائي

کہ بارے بند از دل بر کشائي

بگفت آنجا پري رويان نغزند

چو گل بسيار شد پيلان بلغزند

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان