• صارفین کی تعداد :
  • 2236
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

سعدي کے زمانے ميں مسلمانوں کے بے شمار مدرسے بلاد  اسلام ميں کھلے ہوئے تھے

شیخ سعدی

شيخ سعدي کا نام، نسب، ولادت اور بچپن

شيخ کي تعليم کا حال

اس زمانے ميں مسلمانوں کے بے شمار مدرسے بلاد  اسلام ميں جا بجا کھلے ہوئے تھے جہاں دور دور سے طالب علم آ آ کر علم تحصيل کرتے تھے- ہرات، نيشابور، اصفہان، بصرہ اور بغداد ميں خواجہ نظام الملک طوسي وزير الپ ارسلان کے بنائے ہوئے مدرسے آباد اور معمور تھے- ان کے سوا شام، عراق اور مصرہ و غيرہ ميں جگہ جگہ مدرسے جاري تھے ليکن سب سے زيادہ شہرت نظاميہ بغداد نے حاصل کي تھي جس کو خواجہ نظام الملک طوسي نے سنہ 459 ھ بنوايا تھا- ہزاروں جليل القدر عالم اور حکيم اس مدرسے سے تعليم پا کر نکلے ہيں، جن کي تصنيفات اب تک مسلمانوں ميں موجود ہيں- يہ مدرسہ اس قدر نامور تھے کہ جو علما يہاں کے پڑھے ہوئے مشہور ہوجاتے تھے پھر ان کے مستند اور ذي اعتبار ہونے ميں کسي کو شبہ نہ رہتا تھا- امام ابو حامد غزالي ، شيخ عراق عبد القادر سہروردي اور بڑے بڑے جليل القدر عالموں نے اسي مدرسے ميں تعليم پائي تھي- شيخ کو اس مدرسے ميں آنے کي ترغيب اس سبب سے اور بھي زيادہ ہوئي ہوگي کہ اس کا ہم وطن شيخ ابو اسحاق شيرازي جس کا علم و فضل شہرہ آفاق نے بغداد ميں يہ مدرسہ قائم کيا تھا مدت تک اس مدرسے کا متولي رہا تھا- جس وقت نظلم الملک نے بغداد ميں يہ مدرسہ قائم کيا تھا تو سب سے اول يہاں کا متولي شيخ ابو اسحاق کو مقرر کيا تھا اور اس سبب سے اہل شيراز کو اس مدرسے سے ايک خاص نسبت لگاۆ تھا-

الغرض شيخ نے مدرسہ نظاميہ ميں جا کر تحصيل علم شروع کي اور جيسا کہ بوستان ميں اس نے تصريح کي ہے وہاں سے اس کے ليے کچھ وظيفہ بھي مقرر ہوگيا تھا- بغداد ميں جن لوگوں سے شيخ نے   پڑھا ہے ان ميں سب سے زيادہ مشہور اور نامور شخص علامہ ابوالفرج عبدالرحمن ابن جوزي ہے جس کا لقب جمال الدين ہے-

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان