• صارفین کی تعداد :
  • 1468
  • 1/22/2013
  • تاريخ :

"عجائب فرنگ" (تاريخ يوسفي)

تاریخ یوسفی

سفرنامہ کيسي صنف ادب ہے؟

سفرنامہ کي تيکنيکي صورتيں

اردو سفرنامے کي ابتدا

اردو سفرنامے کي اولين روايت

اردو سفرناموں ميں اب تک يوسف خان کمبل پوش کا سفرنامہ "عجائب فرنگ" (تاريخ يوسفي) قديم ترين شمار ہوتا ہے- يوسف خان ايک فطري سياح تھا- اس کا سفر لندن در حقيقت اس کے من کي ترنگ تھا اور اس کے ساتھ کاروباري، مذہبي يا سياسي مقصد وابستہ نہيں تھا- يوسف خان حيدرآباد کا رہنے والا تھا-وہ نصيرالدين حيدر کے زمانے ميں رسالہ خاص سليماني ميں جمعدار بھرتي ہوا اور پھر ترقي پاکر صوبے دار کے عہدے پر فائز ہوگيا- ليکن جب اس کے دل ميں ذوق سياحت پيدا ہو تو وہ سب کچھ چھوڑکر عازم لندن ہوگيا- ولايت کي سياحت اس کي پہلي سياحت نہيں تھي- "عجائب فرنگ" کي ابتدا ميں اس نے اپنے حالات زندگي بھي لکھے ہيں- ان کے مطابق وہ 1828 ميں اپنے وطن سے روانہ ہوا اور عظيم آباد، ڈھاکہ، مچھلي بندر، مندراج، گورکھپور، نيپال، اکبرآباد اور شاہجہان آباد دکھتا ہوا- بيت السلطنت لکنو روانہ ہوا لندان روانے ہونے سے قبل اندرون ہند مشہور مقامات کي سير کي اور رزق معاش کي سہولت بھي حاصل ہوئي ليکن وہ لکنو ميں بھي ٹک کر بيٹھنے پر آمادہ نہ ہوا- {اس زمانے ميں انگريزوں نے لکنو پر دندان آز تيز کر رکھے تھے اور يہ شہر سازشوں کي آماجگاہ بنا ہوا تھا-} قياس غالب ہے کہ يوسف خان بھي انگريزوں کي حکومت عملي سے متاثر ہوا اور اسي تاثر نے اسے حاکم قوم کا ملک ديکھنے پر آمادہ کيا ہوگا- چنانچہ قرآئن بنا کے ہيں اس نے اس سفر کے ليے پوري تياري کي تھي- انگريزي زبان سيکھي- تاريخي کتابوں سے اس ملک اور اس کے شہروں کے بارے ميں معلومات جمع کيں اور پھر ايک روز جب اس کے جي ميں آئي کہ ايران، استنبول، روس اور مازندران و غيرہ کي سير کرني چاہيئے گھر سے نکلا اور بالاخر انگلستان پہنچ گيا-

وہ طبعا درويش تھا سفرنامے ميں خود کو عاجز، فقير، خطاپوش اور اميدوار رحمت پروردگار کہہ کر متعارف کروايا- انکسار کي يہ کيفيت اس کي ہر بات کو سچ معلوم کرتي ہے-

يوسف خان کا اسلوب انيسويں صدي کي نثر کا ايک اچھا نمونہ ہے- اس ميں پڑھے جائے کي عمدہ صلاحيت ہے- سفرنامہ کے دلچسپ واقعات اور ذاتي کرشمہ تاثر کے سبب سے فسانہ اور ناول کا سا لطف پيدا ہوگيا ہے-

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان