• صارفین کی تعداد :
  • 6345
  • 10/27/2012
  • تاريخ :

خواجہ نصير الدين طوسي زمانہ تحصيل علم و اساتذہ  

خواجہ نصیر الدین طوسی

مولد و ولادت خواجہ نصير الدين طوسي

طوسي، سوس ميں

خواجہ نصير الدين نے اپنا بچپن و نوجواني طوس ميں گزارا- انہوں نے ابتدائي اسباق جيسے پڑھنا، لکھنا، قرات قرآن، عربي و فارسي قواعد معاني و بيان اور کچھ علم منقول جيسے حديث کو اپنے عالم و روحاني باپ محمد بن حسن طوسي سے حاصل کيا ساتھ ہي اس زمانے ميں خواجہ نصير قرآن خواني و فارسي شناسي ميں اپنے والد سے استفادہ کرتے رہتے تھے-

اتنا کچھ پڑھانے کے بعد باپ نے بيٹے کو منطق، حکمت، رياضي و طبيعات کے نامور استاد نور الدين علي بن محمد شيعي کے سپرد کر ديا جو خواجہ نصير کے ماموں بھي تھے- کچھ عرصے تک خواجہ طوسي نے ماموں سے درس اس لئے انہوں نے کہا کہ ان کو نيشا پور جانا چاہيے-

طوسي نے شہر طوس ميں اپنے استاد اور باپ کے ماموں، نصير، ليا ليکن بعد ميں انہيں ايسا لگا کہ ان کے علم کي پاس ماموں نہيں بجھا سکتے اس لئے اسي اثنا ميں وہ اپنے باپ کے مشہور پر رياضي کے مستند ماہر محمد حاسب سے متوسل ہوئے جو اس وقت طوس آئے ہوئے تھے- جن کے چشمہ علوم و دانش سے ان کي روحي و فکري تشنگي ايک حد تک دور بھي ہوئي ليکن کمال الدين محمد حاسب طوس ميں چند ماہ ہي رہے- اور چلتے چلتے خواجہ نصير کے والد سے بولے کے جتنا مجھے معلوم تھا ميں نے تمہارے بيٹے کو دے ديا مگر اب وہ ايسے سوالات کرتا ہے کہ کبھي کبھي ميں اس کے جواب سے عاجز ہو جتا ہوں-

اب محقق طوسي نے طوس ميں رہنے کا خيال ترک کر ديا اور اہل علم کي تلاش ميں نکل پڑنے کي سوچنے لگے اسي درميان ان کے والد کے ’’نصير الدين عبداللہ بن حمزہ ‘‘ طوس تشريف لائے اور خواجہ نصير کچھ عرصہ کے لئے ان سے فيض حاصل کرنے کي غرض سے طوس ميں ٹھہر گئے- ليکن ان کے والد کے ماموں بھي جو علوم حديث و رجال و درايہ کے ماہر دانشمند تھے خواجہ کي روح تشنگي کو سکون نہ بخش سکے-

خواجہ نصير الد ين ان نے سے زيادہ نئي باتيں سيکھ ليں- ليکن خواجہ نصير کي بے انتہا ذہانت و استعداد نے والد کے ماموں کو حيران کر ديا اور انہوں نے محسوس کيا کہ خواجہ نصير کا طوس ميں رہنا زيادہ فائدہ مند نہيں ہے ’’ الدين عبداللہ بن حمزہ‘‘ کے ہاتھ سے مقدس روحاني لباس زيب تن کيا اور خواجہ نصير کو ان کي طرف سے نصير الدين کا لقب عطا ہوا- ان کي اور ان کے والد کي تاکيد سے خواجہ کي طوس سے ہجرت کے خيال کو تقويت ملي-

شعبۂ  تحرير و پيشکش تبيان