• صارفین کی تعداد :
  • 3405
  • 10/1/2012
  • تاريخ :

اسلامي تربيت کے ليۓ ماحول

اسلامی تربیت

 تربيت ميں  " نمونہ سازي "   کي اہميت

ماحول اور " مقدمہ سازي"

اچھي تربيت اچھے ماحول سے ممکن ہے

اسلامي معاشرے کے ماحول کو ايسا ہونا چاہيے کہ جو اس کي اجتماعي زندگي کے تمام مظاہر، اس معاشرے کے تمام مسلمانوں کي شخصيت کي عظمت، رفيع منزلت اور سربلندي کا اس طرح سبب قرار پائيں کہ اس معاشرے کے تمام نوجوان لڑکے اور لڑکياں اپنے بچپنے ہي سے اس معني کو درک کريں- يعني اپنے دل کي گہرائيوں سے اس بات کا احساس کريں کہ اسلام يعني انسان کي عزت و سربلندي- البتہ يہ معاشرے کے رہبر کي ذمہ داري ہے کہ معاشرے ميں فوجي طاقت اور دفاعي قوت کو بڑھانے ، ايمان کو مضبوط بنانے اور اس معاشرے کے افراد کے دفاعي جوش و خروش اور ان ميں دفاعي روح کو اجاگر کرنے کے ذريعے اس ہدف کو عملي جامہ پہنائے کہ کوئي بھي مخالف طاقت و قدرت، مسلمان ممالک کي سرحدوں کو ٹيڑھي نگاہوں سے ديکھنے کي معمولي سي بھي جرات نہ کر سکے اور اس بات کي ہرگز اجازت نہ دے کہ مسلمان کسي بھي حالات ميں دشمنوں کي جانب سے تحقير و اہانت کا شکار ہوں - اس لئے کہ تحقير و اہانت کئے جانے والے معاشرے کا ماحول انساني رشد و ترقي کے لئے سازگار نہيں ہوتا-

پس اسلامي معاشرے کي عزت و سربلندي کي حفاظت کي ايک دليل يہ ہے کہ زندگي کے ہر ميدان ميں اس معاشرے کے افراد کے رشد و باليدگي اسي عزت و سربلندي اور عظمت کے احساس کے سائے ميں ممکن ہے- اس کے برخلاف ايک ذليل و رسوا معاشرہ جو خود کو کافروں کے تسلط و قبضے اور ان کے استثمار کي زنجيروں ميں جکڑا ہوا پائے تو وہ بتدريج اپنے اسلامي تشخص اور انساني منش و راہ و روش کو کھودے گا اور اپني آنے والي نسلوں کي تباہي و بربادي اور ان کي پستي کے اسباب کا سامان فراہم کرے گا -

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان