• صارفین کی تعداد :
  • 3344
  • 9/11/2012
  • تاريخ :

اچھي تربيت اچھے ماحول سے ممکن ہے

اولاد

اولاد انسان کے ليے اللہ تعاليٰ کي طرف سے ايک بہت ہي عظيم تحفہ اور نعمت  ہوتي ہے جس کي تربيت اور حفاظت والدين کي ذمہ داري ہوتي ہے - اس ميں کوتاہي انسان کي پوري زندگي کے ليے وبال بن جاتي ہے - بچے کو ايک اچھا انسان اور خاص طور پر ايک اچھا مسلمان بنانے کے ليے اس کي نيک اور صالح تربيت انتہائي ضروري ہے تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ  نہ صرف وہ معاشرے کي تعمير وترقي ميں اپنا مثبت کردار ادا کرے بلکہ اسلامي طرز حيات اپناتے ہوئے دنيا و آخرت ميں سرخرو  ہو سکے -

ايک آرام و پرسکون خانداني زندگي ميں اچھے بچے ہي تربيت پاتے ہيں جس طرح کہ ايک اسکول کي اچھي اور بہترين تعليمي فضا ميں لائق و ہونہار بچے اور مستقبل ميں ملک کي تعمير کرنے والے طالب علم پرورش پاتے ہيں - ہر ماحول، افراد، چيزوں اور مختلف نظاموں سے مل کرتشکيل پاتا ہے- ماحول و فضا کو تشکيل دينے والے عناصر ، ان کے درميان باہمي رابطہ، ايک اجتماعي ماحول سے وابستہ افراد کا آپس ميں ميل ملاپ اور اجتماعي مسائل سے ان کا نتيجہ اخذ کرنا يہ سب ايک ماحول اور فضا کو تشکيل دينے والے عوامل شمار کئے جاتے ہيں اور ايک ماحول کو سالم اور صاف ستھرا رکھنے کے لئے ان پر توجہ دينے اور ان کي حفاظت کي اشد ضرورت ہے-

لہٰذا اگر کوئي يہ چاہتا ہے کہ وہ معاشرے کي اصلاح کرے اور اس معاشرے کے رہنے والوں کي اسلامي شريعت کي روشني ميں کہ جو تمام انسانوں کے کمال کي ضامن ہے ، سعادت جاويد کي جانب ہدايت و رہنمائي کرے تو اسے پہلے ہي مرحلے پر چاہيے کہ اس معاشرے کے افراد کے کمال اور سعادت کو فراہم کرنے اور ان کے رشد اور تربيت کے لئے ايک مناسب اجتماعي ماحول بنانے کي کوشش کرے -

انسان کي تکوين اور تغيير کا اہم ترين عامل مختلف ماحول کے حالات ہيں خواہ وہ زماني يا مکاني يا اجتماعي ماحول ہو- بہت سے مقامات ميں ماحول کي ترميم واصلاح سے تربيت کے لئے مساعد اورسازگار ماحول فراہم کرکے جس کي تربيت کي جاتي ہے اس کي عادتوں، خصلتوں، افکار اور رفتار کو بدلا جا سکتا ہے اور جديد خصوصيات کو اس کا جاگزين بنايا جا سکتا ہے، اس روش کي نفسياتي بنياد اس ماحول کے حالات سے انسان کے متاثر ہونے کي اصل ہے جو ماحول سازي ( بعض رفتار کي ہمراہي اور ہمنوائي بعض ديگر کے ساتھ ان کے ثابت کرنے کا باعث ہوتي ہے)، فعّال و کردار ساز ماحول سازي ( ايک ماحول ميں خاص طرز عمل ورفتار پر جزا دي جاتي ہے ) يا اجتماعي تعلّم وتربيت ( رفتارکے مشاہدہ سے خاص نمونوں کي پيروي) کے نظريات کے بيان ہوتي ہے ضمن ميں يہ روش خاص طور سے دوسروں کے ذريعہ اور انسان کے اولياء کے ذريعہ بروئے کار لائي جاتي ہے، ليکن انسان خود بھي کسي حد تک موثر ہو سکتا ہے، اس روش کو وجود ميں لانے کے جو طريقے لازم ہيں وہ ترتيب وار يہ ہيں:

مقدمہ سازي، نمونہ سازي، ماحول کو صحيح و سالم بنانا اور حيثيت اور ماحول کو بدلنا-

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

جہيز کے بارے ميں ايک غلط فہمي کا ازالہ