• صارفین کی تعداد :
  • 4542
  • 8/13/2011
  • تاريخ :

عورت کا مقام و مرتبہ ( حصّہ چهارم)

حجاب والی خاتون

عورت اور مرد کا برابراور مساوي ہونا

گزشتہ دونوں نظريوں کے مقابلے ميں ايک اور نظريہ بھي ہے اور انھوں نے نہج البلاغہ کے کلام کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے اس سے بالکل ہٹ کر ايک اور نظريہ ذ کر کيا ہے اس گروہ نے قرآن يا نہج البلاغہ نيز احاديث کو ديکھنے سے پہلے ہي ايک الگ قسم کا طرز فکر اختيار کيا ہے اور اس نظريہ کو آج کل کي موجودہ فضا اور روشن فکري کا نتيجہ کہہ سکتے ہيں اس گروہ کے مطابق مرد اور عورت کے وجود، ان کي ذات اور خلقت و غيرہ ميں کسي قسم کا فرق نہيں پايا جات اس گروہ کا عقيدہ يہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں انساني صفات کے حامل ہيں اور ان کي خلقت ميں کسي قسم کا فرق نہيں پايا جاتا. بلکہ اگر فرق ہے بھي تو ان کے کردار اور ان کي توليد مثل (نسل کشي) ميں اس بنا پر خانداني، اجتماعي، فکري، روحي مسائل اور حقوق يا مختلف کرداروں ميں ان دونوں کے درميان کوئي فرق نہيں ہے اور معاشرے ميں ہر طرح کا موجود فرق، ہماري نامناسب تربيت کا نتيجہ اور معاشرے ميں غلط رفتاري کا اثر ہے جہاں پر بھي ايک فکري يا ثقافتي انقلاب وجود ميں آيا ہے ياجب بھي عورتوں ميں ايک تغيير و تحول وجود ميںياہے وہاں پر اس قسم کے تمام اختلافات کو مٹايا گيا ہے، اور اس طرح کے معاشرے ميں عورتيں اعلي مقام و منزلت ہر فائز ہوئي ہيں اور صاحب نظر بھي بني ہيں

يہ نظريہ فيمينسٹوں کے ذريعہ وجود ميں آيا ہے اور انہوں نے ہي اس نظريہ کو رائج کيا ہے انٹرنيشنل سطح پر اقوام متحدہ کے کنونشنوں اور انساني حقوق کي تنظيموں نے بھي اس کي تائيد کي ہے اس نظريہ کے ماننے والے جب نہج البلاغہ اور مولا علي کے کلام مبارک پر نظر ڈالتے ہيں اور اسے اپنے نظريہ کے خلاف ديکھتے ہيں توامام کي کلام کي مختلف قسم کي تآويليں کرتے ہيں:

1 امام علي کي تعبيريں، محدود اور چند خاص عورتوں کے متعلق تھيں اس گروہ ميں بعض لوگوں کا عقيدہ ہے کہ نہج البلاغہ ميں عورتوں کي مذمت کے بارے ميں جو جملے وارد ہوئے ہيں صدر اسلام کي بعض خاص عورتوں کے متعلق ہيں کہ جن کے اشتباہات اور لغزشوں کي وجہ سے بعض مسلمان منحرف اور گمراہ ہوگئے اس بنا پر يہ جملے سب عورتوں کو شامل نہيں ہوتے ليکن قرآن کي طرح اور عربوں کي رسم کے مطابق ان کے نام ذ کر نہيں کيے گئے ہيں بلکہ عمومي الفاظ کے ذريعے سب کو مخاطب قرار ديا گيا ہے پس ان عبارتوں کا يہ مفہوم نہيں نکالنا چاہيے کہ اس سے مراد سب عورتيں ہيں

2 يہ ان لوگوں کا نظريہ ہے جو حضرت علي اور نہج البلاغہ کو نمونہ کے طور پر قبول کرتے ہيں اور اپنے عقائد ميں سختي سے پابند ہيں .ليکن دوسري طرف سے عورتوں اور مردوں ميں مساوات کے قائل ہيں لہذا مجبور ہوکر اس طرح کا نظريہ پيش کرتے ہيں تاکہ ان کے دين و ايمان ميں بھي خلل وارد نہ ہو اور اپنے نظريہ ميں بھي کسي قسم کي مشکل پيش نہ آئے

2 امام علي کي تعبيريں اپنے زمانے کي عورتوں سے مخصوص تھيں: ايک اور گروہ کا عقيدہ ہے کہ اس زمانے کي خواتين، اس وقت کي ثقافت اور تہذيب و تمدن کي وجہ سے ان صفات و خصوصيات کي حامل تھيں ان کے عقيدے کے مطابق اس زمانے ميں عورتوں کے بارے ميں تنگ نظري سے کام ليا جاتا تھ وہ عورتيں تہذيب و تمدن، تعليم و تعلم، تفکر و اجتماع سے اتني دور تھيں کہ ہم انھيں اس قسم کي تعبيروں کا مستحق اور مصداق کہہ سکتے ہيں در حقيقت وہ ايک ايسے بچے کے مانند تھيں جو کئي سالوں سے اجتماع اور معاشرے سے دور رہے اور پھر اچانک ايک اجتماع يا معاشرے ميں وارد ہوجائے جب اس قسم کے افراد اچانک ايک معاشرہ ميں وارد ہوں تو انہيں رشد و کمال کيلئے کافي وقت کي ضرورت ہوتي ہے اور ان کيلئے يہي بہتر ہے کہ انہيں ان کي مشکلات کے بارے ميں ياد دہاني کرائي جائے تاکہ دوسرے لوگ ان سے معاشرتي نمونہ اور ماڈل بننے کي اميد نہ رکھيں اور اس قسم کي صفات سے خود کو بھي دور کريں اس گروہ کي نظر ميں مولا علي کا کلام جزئي نہيں بلکہ کلي ہے ليکن فقط مولا علي اور صدر اسلام کے زمانے کي عورتوں تک محدود ہے اور آج کل کي عورتوں پر جوکہ فہميدہ، دور انديش اور روشن فکر ہيں اور ان نقائص سے دور بھي ہيں،يہ قول صدق نہيں کرتاہے

3 حضرت علي کے کلام سے مراد دين ميں مرد کي حکومت ہے:

ايک اور گروہ کا عقيدہ ہے کہ حضرت علي کے زمانے ميں عورتوںکو معاشرے ميں کسي قسم کامقام و منزلت يا حيثيت حاصل نہيں تھي، دين ميں مرد ہي اصلي محور اور مرکز تھ لہذا حضرت نے بھي ناچار ہو کر ان حالات کے تحت عورتوں کے بارے ميں اس طرح کي تعبيريں استعمال کي ہيںظاہر ہے کہ يہ ايسے لوگوں کا نظريہ ہے جو آئمہ اطہار کے علم قدسي و علم لدني يا عصمت کے منکر ہيں ورنہ کوئي بھي اس قسم کا عقيدہ نہيں رکھ سکتا کہ ايک امام معصوم زمانے کے حالات اور شرائط سے متآثر ہوکر اوردباو ميں آکر ايسے بيانات جاري کر دے جو اس کي عصمت يا علم کے منافي ہوں. اور اس نظريہ سے يہ نتيجہ نکلتا ہے کہ اہل بيت ، خاص کر مولا علي عليہ السلام کا کلام ہمارے ليے تربيتي لحاظ سے نمونہ عمل اور آئيڈيل نہيں ہو سکت

4 نہج البلاغہ کے جملات اور روايات ميں تحريف کا احتمال:

ايک اور گروہ ايسا بھي ہے کہ جس کا عقيدہ يہ ہے کہ احاديث و روايات منجملہ نہج البلاغہ ميں تحريف واقع ہوئي ہے ان لوگوں کا اصرار ہے کہ ہماري بعض روايتيں اسرائيليات کا جزئ ہيں يا جھوٹ، و افترائ و بہتان ہيں. جن کي آئمہ کي طرف نسبت دي گئي ہے اور چونکہ حضرت امير کا عورتوں کے بارے ميں کلام بھي حقيقت سے دور ہے لہذا کہہ سکتے ہيں کہ اس ميں بھي تحريف واقع ہوئي ہے نتيجہ يہ کہ اس نظريہ کے مطابق بھي نہج البلاغہ کے کلام کو تربيتي لحاظ سے اپنے لئے نمونہ عمل قرار نہيں دے سکتے . کيونکہ تحريف شدہ اور غلط حديثوں پر مشتمل اور ناقابل تشخيص کلام ہے

5 جس دين ميں اس قسم کي تعبيريں ہوں وہ تہذيب و تمدن سے خالي ہے:

ايک اور گروہ جو زيادہ روي کا شکار ہے اور ايک خاص غرض سے اس کلام کو ديکھتا ہے، اس کي نطر ميں (معاذ اللہ) حضرت علي کي يہ تعبيريں اسلام کي پسماندگي اور دقيانوسي اور تھذيب و تمدن سے دورہونے کي علامت ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ اسلام اپنے زمانے ميں ايک ترقي يافتہ اور انساني دين مانا جاتا تھا ليکن آج کل کے دور ميں ذہنوں ميں ايجاد ہونے والے سوالات اور مشکلات کو ہر گز حل نہيں کر سکتا .لہذا ہميں چاہيے کہ جو دين ہمارے اصولوں سے دور ہو اس سے ہم بھي پرہيز کريں اور اس سے ہر گز کسي قسم کا کوئي رابطہ نہ رکھيںپس تيسرے نظريہ کے مطابق مرد اور عورت، لڑکي اور لڑکے ميں کوئي فرق نہيں ہے بلکہ دونوں ہر لحاظ سے برابر ہيں

عورت اور مرد کا شرافت اور کمالات ميں مساوي اور برابر ہونا

اس نظريہ ميں گزشتہ نظريوں کے تمام مثبت نکات موجود ہيں. جب کہ يہ نظريہ منفي نکات سے خالي اور عاري ہے اس کے علاوہ يہ نظريہ قرآن و سنت سے ليا گيا ہے جس کے مطابق نہج البلاغہ ميں عورتوں کے بارے ميں موجود روايات سے بحث کي جاسکتي ہے

تحریر: سيد ارشد حسين موسوي کشميري


متعلقہ تحريريں :

خواتين پرمغرب کا ظلم و ستم اور اسلام کي خدمات ( دوسرا حصّہ)

خواتين پرمغرب کا ظلم و ستم اور اسلام کي خدمات

تربيت اولاد

ايران کي تاريخ ميں عورت

اسلام ميں عورت کا حق وراثت ( حصّہ دوّم )