• صارفین کی تعداد :
  • 2300
  • 8/2/2011
  • تاريخ :

خواتين پرمغرب کا ظلم و ستم اور اسلام کي خدمات

حجاب

الف: پہلي خدمت،انساني اقدار کے سودا گروں کا ظلم اور اسلام کي پہلي خدمت

حضرت فاطمہ زہرا عليھا السلام کي ولادت باسعادت اور اُن کا تذکره مسلمان خواتين کيلئے بہترين فرصت ہے تاکہ اسلامي افکار وتعليمات کي روشني ميں ايک مسلمان عورت اورخواتين کي قدر وقيمت اور اہميت پر بھсور توجہ دي جا سکے- ديگر امور کي طرح ،خواتين بھي انساني اقدار کے سوداگروں کے ہاتھوں ايک جنس بے متاع بن گئي ہے-

وہ افراد جو صنفِ نازک، خود انسان ، انساني اقدار اورکرامت و بزرگي کيلئے مال و دولت کے علاوہ کسي اور چيز کے قائل نہيں ہيںکہ افسوس ناک بات يہي ہے کہ يہ افراد مغرب کے موجودہ تمدن ميں بہت اہم کليدي کردار ادا کررہے ہيں، انہوں نے خواتين کے مسئلے کو زندگي کے مختلف شعبوں ميں اپنے ليے ايک سرمائے اور تجارت و سوداگري کے وسيلے ميںتبديل کرديا ہے-  يہ افراد آئے دن اس پر بحث کرتے ہيں ، اپني رائج ثقافت اور تہذيب و تمدن ميں اسے ايک جائز مقام دينے کي کوششوں ميں مصروف ہيں ، اس کے لئے پروپيگنڈا کرتے ہيں اور يوں دنيا کے تمام مردوں اور عورتوں کے اذہان کو ايک بڑي گمراہي اور وسوسے سے دوچار کر رہے ہيں- يہ وہ مقام ہے کہ جہاں ايک مسلمان عورت کو چاہيے کہ اسلامي تعليمات اور عورت سے متعلق اسلامي اقدار و احکامات ميں غور و فکر اور مرد و خواتين کي پيشرفت کيلئے اسلامي نظام ميں وضع کيے گئے قوانين اور راہنما اصولوں ميں سنجيدگي سے تآمل کے ذريعے اپنے تشخص کا ازسر نو جائزہ ليتے ہوئے اپنے وجود کو دوبارہ حاصل کرے- اُسے چاہيے کہ بے بنياد مفروضوں و سفسطوں اورصيہونزم، سرمايہ داروں اورثروت اندوز افراد کے وسوسوں ميں دبے ہوئے اپنے حقيقي اور اصلي وجود کو نکالے-

ب: دوسري خدمت،عورت کے معنوي کمال، اجتماعي فعاليت اور خانداني کردار پر بھсور توجہ

اسلام نے زمانہ جاہليت ميں خواتين پر ہونے والے ظلم و ستم کا ڈٹ کر مقابلہ کيا ہے، خواہ يہ ظلم عورت کي روحانيت و معنويت ، فکر اور اسلامي اقدار پر ہو يا سياسي ميدان ميں اُس کي فعاليت پر يا اُس سے بھي بڑھ کر گھر اور خانداني نظام زندگي ميں اُس کے موثر ترين کردار پر - مرد و عورت دونوں مل کر معاشرے ميں ايک چھوٹے سے اجتماع کو تشکيل ديتے ہيں جسے ’’خاندان‘‘ يا ’’گھرانہ‘‘ کہا جاتا ہے-  چنانچہ اگر اس مختصر سے اجتماع کيلئے معاشرے ميں اقدار ، احکام اور راہنما اصولوں کو صحيح انداز سے بيان نہ کيا جائے تو عورت پر سب سے پہلا ظلم خود اُس کے اپنے گھر ميں ہوگا-  يہي وجہ ہے کہ اسلام نے عورت کے معنوي کمال، اجتماعي فعاليت اور گھرانے ميں اُس کے بنيادي کردار پر بہت زيادہ توجہ دي ہے-

معنوي مسائل ميں بھي خواتين ،انسان کي معنوي حرکت ميں وہ دستہ ہيں جو پيشرفت اور ترقي کے لحاظ سے آگے آگے ہے-  قرآن جب مومن انسانوں کيلئے مثال بيان کرنا چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ’’وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً لِّلَّذِينَ آمَنُوا امرَآَتَ فِرعَونَ‘‘  اور جہاں اسلام، ايمان، صبر صداقت، اور اسلامي ، معنوي اور انساني اقدار کے حصول کيلئے جد و جہد کي بات کرتا ہے تو فرماتا ہے ’’اِنَّ المُسلِمِينَ وَالمُسلِمَاتِ وَالمُومِنِينَ وَ المُومِنِاتِ وَالقَانِتِينَ وَالقاَنِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَ الصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ ‘‘

ج: تيسري خدمت،اسلامي نظام ميں خواتين کي جداگانہ بيعت کي اہميت

آپ ملاحظہ کيجئے کہ مغربي دنيا اوريوсي ممالک ميں حقوق نسواں کے دفاغ ميں ان بلند و بانگ نعروں اور اتنے مدعيوں کے باوجود جو تقريباً سب کے سب ہي جھوٹے ہيں، گزشتہ صدي کي ابتدائي دہائيوں تک خواتين کوووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہيں تھا ، و ہ نہ صرف يہ کہ اپني بات آزادانہ طور پر کہنے اور انتخاب کے حق سے محروم تھيں بلکہ انہيں مالکيت کے بھي حق سے محروم رکھا گيا تھا- يعني عورت اپني ميراث ميں ملنے والے مال و ثروت کي بھي مالک نہيں تھي، اُس کا تمام مال و دولت اُس کے شوہر کے اختيار ميں ہوتا تھا- جبکہ اسلام ميں خواتين کے بيعت کرنے، اُس کے حق مالکيت اورسياسي اوراجتماعي ميدانوں ميں اُس کے فعال اورموثر ترين کردار کو ثابت کيا گيا ہے- ’’اِذَا جَائَکَ المُوْمِنَاتُ يُبَايِعنَکَ عَليٰ اَن لَا يُشرِکنَ بِاللّٰہِ‘‘ - خواتين پيغمبر اکرم  (ص) کي خدمت ميں آتي تھيں اوربيعت کرتي تھيں- پيغمبر اکرم (ص) نے يہ نہيں فرمايا تھا کہ صرف مرد آکر بيعت کريں اور اِس بيعت کے نتيجے ميں وہ جس چيز کے بارے ميں اپنا حق رائے دہي استعمال کريں ، اظہار نظر کريں اورجس چيز کو بھي قبول کريں تو خواتين بھي مجبورہيں کہ اُن کي بات کومن وعن قبول کريں، نہيں ! انہوں نے کہا کہ خواتين بھي آکر بيعت کريں اور اس حکومت اور اِس اجتماعي اور سياسي نظام کو قبول کرنے ميں شرکت کريں- اہل مغرب اس معاملے ميں اسلام سے تيرہ صدياں پيچھے ہيں اورآج بڑھ چڑھ کر يہ دعوے کر رہے ہيں (کہ گويا يہ سب انہي کا ديا ہوا نظام ہے)- مالکيت کے مسئلے ميں بھي ايسا ہي ہے اور سياسي اوراجتماعي مسائل سے مربوط ديگر شعبوں ميں بھي يہي صورتحال ہے-

جاری ہے

کتاب کا نام  : عورت ، گوہر ہستي 

تحرير   :حضرت آيت اللہ العظميٰ امام سيد علي حسيني خامنہ اي دامت برکاتہ 

ترجمہ  :  سيد صادق رضا تقوي 

 پيشکش : شعبۂ تحرير  و پيشکش تبيان 


متعلقہ تحريريں :

شريک حيات کے حقوق

گرمي‘ لُو‘ حفاظت اور سدابہار تندرستي

بہتر ين روش کا تسلط

 بے پردہ معاشرے ميں عورتوں کي مشکلات ( حصّہ دوّم )

بے پردہ معاشرے ميں عورتوں کي مشکلات