• صارفین کی تعداد :
  • 1853
  • 8/5/2011
  • تاريخ :

منير نيازي

منیر نیازی

منير نيازي کي غزل کئي دکھوں سے تعمير ہوئي اس ميں محبت کے دکھ بھي ہيں اور سماجي در د بھي - کہيں کہيں يہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ہاں سماج کے بہت سے اندروني دکھ محبت کے دکھ ميں مل گئے ہيں- اور يہ دونوں دکھ مل کر کوئي اکائي تشکيل دے رہے ہيں-

اُس آخري نظر ميں عجب درد تھا منير

جانے کا اس کے رنج مجھے عمر بھر رہا

جانتا ہوں ايک ايسے شخص کو ميںبھي منير

غم سے پتھر ہو گيا ليکن کبھي رويا نہيں

صبح کاذب کي ہوا ميں درد تھا کتنا منير

ريل کي سيٹي بجي تو دل لہو سے بھر گيا

منير کے ہاں دو الفاظ بہت زيادہ ہيں ايک شہر اور ايک سفر - ايسا لگتا ہے کہ منير کي غزل کي غزل کا مسافر اندھيرے ميں کھو گيا ہے - اور شہر کے سارے مناظر اندھيرے ميں کھو گئے ہيں - اس ليے اُن کے ہاں سايے اور دھند کي کيفيت ملتي ہے- اُن کے ہاں تنہائي اور خوف کي فضاء موجود ہے- جو اُس دور کے نئے ماحول کو ظاہر کرتي ہے-

ملتي نہيں پناہ ہميں جس زمين پر

اک حشر اس زمين پہ اٹھا دينا چاہيے

ميري ساري زندگي کو بے ثمر اُس نے کيا

عمر مير ي تھي مگر اس کو بسر اُس نے کيا

شہر کو برباد کرکے رکھ ديا اُس نے منير

شہر پر يہ ظلم ميرے نام پر اُس نے کيا


 متعلقہ تحريريں :

بے قراري سي بے قراري ہے

پيار کا پہلا شہر (حصّہ سوّم)

مولانا محمد علي جوہر

پيار کا پہلا شہر (حصّہ دوّم)

صوبہ سرحد ميں بچوں کا ادب (چھٹا حصّہ)