• صارفین کی تعداد :
  • 1147
  • 5/23/2011
  • تاريخ :

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (چھٹا حصّہ)

پرانی کتاب

چار سدہ سے تعلق رکھنے والے ارشد سلیم اپنے والد سلیم راز کی طرح بچپن سے ہی قلمی دنیا سے وابستہ ہیں۔ گیارہ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو پیدا ہوئے۔ گیارہ سال کی عمر میں مشق سخن شروع کی جو بعد میں چکی کی مشقت کی وجہ سے چھوٹ گئی کیونکہ ارشد سلیم ساز و آواز (ریڈیو، ٹی وی) کی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔ ارشد نے کبھی اپنے نام سے اور کبھی قلمی نام (ابن راز) سے بچوں کے لئے بہت کچھ لکھا۔ بہت کم عمری میں ہی ان کی کہانیاں ملک میں شائع ہونے والے بچوں کے معیاری پرچوں کی زینت بنیں جو نوجوان قلمکار کی ملک گیر شہرت کا باعث بنیں۔

ان کی لاتعداد کہانیوں میں جن کہانیوں کو بچوں کے علاوہ بڑوں کے ہاں بھی زیادہ پذیرائی نصیب ہوئی ان میں "تم بچے نہیں رہے" (آنکھ مچولی اپریل ۱۹۹۳ء) ممتا کی موت (کھیل کھیل میں، نومبر ۱۹۹۹ء) احساس ندامت (انوکھی کہانیاں، ستمبر ۱۹۹۴ء) قائد میں شرمندہ ہوں (انوکھی کہانیاں، مارچ ۱۹۹۵ء) شیطان کی شکست (شاہین ڈائجسٹ، دسمبر ۲۰۰۲ء) شامل ہیں۔

ارشد کے ہاں کہانی ایک پورے پس منظر کے ساتھ پیش منظر میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ البتہ کبھی کبھی وہ ڈرامائی انداز میں کہانی کی ابتدا کرکے پڑھنے والے کو تھوڑی دیر کے لئے متحیر کردیتا ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ ایسے جملے تحریر کرکے سامنے لاتے ہیں کہ قاری کی مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ مصنف کی عمر کا بیشتر حصہ بچوں کے ادب کے خد و خال سنوارنے میں گزرا ہے۔ کبھی وہ بچوں کے کسی پرچے کی ادارت کرتے ہیں تو کبھی پاکستان ینگ رائٹرز فورم کے پلیٹ فارم سے سرگرم نظر آتے ہیں کبھی ریڈیو پاکستان سے ان کی صدائیں ہوا کے دوش پر گونجتی ہوئی سنائی دیتی ہیں۔ ان کے ہاں کہانی سے زیادہ الفاظ کی اہمیت ہے۔ وہ شعوری طور پر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ کہانی خود بخود ان کی گرفت میں آجاتی ہے لیکن بعض کہانیوں میں کرداروں کی یکسانیت کے علاوہ ایک جیسے جملے قاری کی طبیعت کو قدر مکدر کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کہانی "ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے" کا ایک کردار داود ہے، جس کے متعلق مصنف رقمطراز ہیں:۔

"فخر نے گہری سانس لی، پھر بولا، انہیں اپنے بیٹے کی آنکھوں کے علاج کے لئے پیسوں کی ضرورت تھی اور پرنسپل نے ان کی مالی مدد کی نہ اخلاقی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آنسووں میں بھیگا سر تنویر کا چہرہ اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔

"ہوں" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خاصا سنجیدہ مسئلہ ہے۔ دادو اپنی عینک اُتار کر صاف کرنے لگتے ہیں"۔

اسی طرح "مقدر کا ستارہ" میں لکھتے ہیں:۔

"تمہارے استاد صاحب کی باتیں واقعی لاجواب ہیں۔ بس ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ دادو اپنی عینک صاف کرتے ہوئے بولے"۔

لیکن ان فنی خامیوں کے باوجود ارشد سلیم نے بچوں کے ادب میں اپنے اختراعی ذہن اور طبع زاد کہانیوں سے گراں قدر اضافے کیے ہیں "شیطان کی شکست" ان کی ایک لاجواب کہانی ہے۔ جس میں ایک چھوٹا بچہ نعمان شیطان کو شکست دے کر بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی طرح "تم اداس مت ہونا" بھی ایک فکر انگیز کہانی ہے۔ جس میں ممتا کی محبت اور انسان کے فنا ہونے کا فلسفہ پیش کرکے کہانی کار نے چھوٹی عمر میں اپنی انفرادیت کی جھلکیاں دکھائیں ہیں۔ اس کے آغاز میں منظر نگاری مصنف کے اختراعی ذہن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی ایک اور اہم تحریر ہمدرد نونہال کراچی کے شمارے نومبر ۲۰۰۱ء میں شائع ہوئی جس کا عنوان ہے "مچھروں کا ہنگامی اجلاس"۔ اس میں اُنہوں نے اس انسان دشمن چیز کی انسان دشمنی دکھاکر بچوں بلکہ بڑوں کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

مجموعی طور پر ارشد سلیم کی تحریریں ایک کم سن نوجوان کی ذہنی پختگی کی عمدہ نظیریں ہیں۔ جن میں مکارمِ اخلاق کو سنوارنے کے ساتھ اپنے قرب و جوار کو صاف ستھرا رکھنے اور اپنے ماحول بلکہ اپنے دیس سے سچی محبت کا جذبہ بچوں میں اُجاگر کرنے کی تلقین بین السطور میں موجود ہے۔ یہی جذبہ وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کا ضامن ہے اور مستقبل کا آئینہ دار ہے۔

اختر منیر عقاب (۸ اکتوبر ۱۹۷۴) ایک ایسا نوجوان ہے جس میں عقابی روح تو بیدار ہوئی تھی لیکن وہ اپنی منزل آسمانوں میں تلاش نہ کرسکا اور اپنے بریدہ پروں سے صرف چند کوس کا فاصلہ طے کرکے تھک ہار کر بیٹھ گیا۔ انہوں نے بچوں کے لئے بہت کم لکھا لیکن اچھا لکھا اور آج کل ان کے لکھنے کا مشغلہ بند ہے کیونکہ وہ غم دوراں کے ہاتھوں اپنی روحانی اذیتوں سے مکمل طور پر سنبھلنے نہیں پائے ہیں۔

اختر منیر کی پہلی کہانی "انسان دشمن لوگ" ایک ڈراما کے انداز میں لکھی گئی ہے۔ یہ چھے مناظر پر مشتمل ہے اس میں ان لوگوں کو انسانیت کا دشمن قرار دیا گیا ہے جو ملک و قوم کے معصوم لوگوں کو ہیروئن کے کاروبار کو دوام دیتا ہے اور آدھی سے زیادہ بستی اس تباہ کن وبا کا شکار ہو جاتی ہے تو دونوں بہت خوش ہوتے ہیں لیکن اسی دوران میں جب سیٹھ رشید کا اپنا لخت جگر بھی اس زہر قاتل کی وجہ سے قربانی کی بھینٹ چڑھتا ہے تو وہ حواس باختہ ہو جاتا ہے اور مائیکل سے لڑنے پر تل جاتا ہے۔

"سیٹھ رشید؛ مائیکل! تم نے میرے بیٹے کو بھی یہ زہر پلا دیا ہے میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا"۔

مائیکل؛ آہاہاہا۔ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تم نے دوسروں کو تباہ کرنا چاہا مگر خود  بھی برباد ہوگئے، میں یہی چاہتا تھا کہ تم لوگ ایک دوسرے کے خلاف لڑو"۔

ان کی دیگر اہم کہانیوں میں "دوستی" انوکھی مہمان نوازی، واپسی، مصالحہ دار روٹی، وغیرہ میں بچوں کے ننھے افکار کو مہمیز کرنے کی بھر پور کوشش کے ساتھ اہل وطن سے گہری عقیدت کا اظہار بھی نمایاں ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بچوں میں پاکستانیت کا جذبہ بیدار کرنے میں ان کہانیوں کا بہت اہم کردار ہے۔

سلمٰی ناز کی بچوں کے لئے لکھی گئی کہانیوں میں زیادہ تر اخبارات میں شائع ہوئیں۔ طبع زاد کہانیوں کے مقابلے میں ان کے ہاں تاریخی واقعات کو کہانی میں پیش کرنے کا رجحان نمایاں ہے۔ روزنامہ اوصاف بچوں کے ایڈیشن میں ان کی تحریروں نے بچوں کے علاوہ بڑوں کو بھی متاثر کیا۔ ان کی قابل ذکر کہانیوں میں شہزادی کا تاج، وفادار نوکر اور "پرچم سے محبت" شامل ہیں۔ آخرالذکر کہانی ایک ایسے بچے کی ہے جو قومی پرچم کو زمین بوس ہونے سے بچانے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیتا ہے۔

"عامر کی جونہی نظر پڑی کہ یہ اڑتا ہوا سبز ہلالی پرچم زمین پر گرنے والا ہے۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے اس کی پیچھے لپکا اور اپنے پرچم کو ہوا میں ہی پکڑلیا۔ اگلے ہی لمحے ایک ناقابل فراموش منظر سامنے آیا۔ ہوا سے باتیں کرتے ہوئے ایک لینڈ کروزر نے عامر کو ٹکر ماری اور اسے کچلتا ہوا فرار ہوگیا۔ ٹریفک رک گئی، کرن اور حارث عامر کے پاس گئے۔ پرچم کو ابھی تک اس نے ہاتھوں میں پکٹرا تھا اور دونوں ہاتھ سینے پر تھے"۔

اطفال ادب سے تعلق رکھنے والے جن حضرات و خواتین کے نام میں نے لکھے ہیں اور ان کی تخلیقات پر تبصرہ کیا ہے ان کی کاوشیں اور جگر کا ویاں اپنی جگہ بہت اہم ہیں لیکن افسوس کہ ان کی قدرو منزلت کسی ادارے نے نہیں کی، نہ کسی سرکاری انجمن نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ یہی وجہ کہ آنے والے دور میں تو کیا موجودہ دور میں بھی کوئی ایسا جوہر قابل نظر نہیں آتا جس کو علامہ اقبال شانِ کئی دینے پر کمربستہ ہوگئے تھے۔ کم از کم بچوں کے ادب کے سلسلے میں تو لکھنے کی شرح فی زمانہ مایوس کن حد تک انحطاط پذیر ہے۔

جناب سعید لخت نے اپنے مضمون میں اس کا بہت بے باکانہ انداز میں جائزہ لیا ہے۔

"ہمارے ہاں ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ کوئی ادیب بچوں کے ادب میں متخصص     (Specialized) ہونے کی کوشش کرے۔ ایک تو اسی میدان میں کچھ زیادہ مالی منفعت نہیں، دوسرے محض بچوں کے لئے لکھنے والوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ابھی یہ امید موہوم ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان میں ہائنزکرسچیئن اینڈرسن اور لانگ فیلو توکجا، اسمٰعیل میرٹھی اور الیاس مجیبی کی ٹکر کا بھی کوئی ادیب یا شاعر پیدا ہوسکے"۔

سعید لخت نے یہ اندازہ تقریباً نصف صدی پہلے لگایا تھا کہ ہمارے ہاں بچوں کا ادب زوال آمادہ ہے۔ ان کی یہ پیشنگوئی آج حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی ہے بلکہ آج تو صورتحال کچھ اور بھی زیادہ تکلیف دہ اور خوں رلانے والی ہے۔ ہمارے جوانوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے بلکہ ٹیلنٹ کی فراوانی ہے۔ ان کی صحیح تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی بھی انتہائی ضرورت ہے۔ ہمارے بزرگ اور نوجوان ادیب اگربچوں کی تربیت کا بارگراں اُٹھانے کی کوشش کریں تو ہماری یہ ہانپتی کانپتی اور بھولی بھٹکی ہوئی نوجوان نسل یقیناً سچے پاکستانی اور اچھے مسلمان بن سکتے ہیں۔ غم یار اور غم روزگار کے سنگین اور رنگین تذکروں سے واہ واہ کی داد پانے والوں کا فرض ہے کہ وہ اس اہم طبقے کی راہنمائی کے کار خیر میں مدد دیں تاکہ نہ صرف ان کے اردگرد امن و شانتی کا دور دورہ ہو بلکہ پورے دیس میں ترقی و کامرانی کی وہ فصل گل کھلے جسے کبھی بھی اندیشہ زوال نہ ہو۔

ختم شد۔

تحریر: گوہر رحمان نوید


متعلقہ تحریریں :

شعر  حضرت زهرا (عليهاالسلام) کی شان میں

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (پانچواں حصّہ)

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (چوتها حصّہ)

گنڈاسا (حصّہ سوّم)

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (تیسرا حصّہ)