• صارفین کی تعداد :
  • 1068
  • 5/23/2011
  • تاريخ :

پيار کا پہلا شہر (حصّہ دوّم)

پيار کا پہلا شہر

شائز جيسا کہ اس سرک کو اہل پيرس پيار سے پکارتے ہيں 1212 ميں ماري ڈي ميڈيکا کے بنائے ہوئے نقشے کے مطابق تعمير ہوئي۔ سرک کے دونوں طرف پيدل چلنے والون کے لئے وسيع فٹ پاتھ ہيں جن کے گرد ہرے بھرے درختوں کي طاريں دور تک چلي گئي ہيں۔ فٹ پاتھ کے پہلو ميں پيرس کي بہترين فيشن کي دکانيں اور قہوہ خانے ہيں جہاں لوگ مشروب نے کي خاطر کم اور فٹ پاتھ پر رواں فيشن پريڈ ديکھنے کے لئے زيادہ بيٹھے ہيں۔  ايک ميل سے زيادہ طويل يہ سرک کا نکورد چوک کے درجنوں عاليشان فواروں پر ختم ہوئي ہے جہاں انقلاب فرانس کے دوران ميں گلو ٹين گاڑ کر تين ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے سر قلم کر ديئے گئے تھے۔ ان ميں لوئي سائز دھم کے علاوہ ملکہ ماري انتونيت غريبوں کے پاس اگر روٹي ہيں تو وہ کيک کيوں نہيں کھاتے?واتين اور گوردے بھي شامل تھے۔

سنان بھي ايک عام سياح کي مانند ايک قہوہ خانے کے باہر بيٹھ کر کافي پينے لگا اور فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے گوں کا جائزہ لينے لگے تھوڑي دير بعد وہ اس مشغلے سے اکتا گي۔ اس نے سوچا کہ کيوں نہ دنيا کے بہترين عجائب گھر لودر ميں جا کر مصوري کا شاہکار مونا ليزا اور وينس کا خوبصورت مجسمہ ديکھا جائے۔ چنانچہ اس نے ويٹر سے کافي کا بل لانے کو کہا بل کي آمد نے پيرس کي خوبصورتي ميں زہر گھول دي۔ پانچ فرانک کافي کے دو فرانک سروس چارج يعني مبلغ چودہ روپے پاکستاني کافي پ اٹھ گئے؟

فتح کي محراب کے ميٹرو اسٹيشن سے وہ گاري ميں سوار ہو کر الودر عجائب گھر کے اسٹيشن اتر گي۔ يہ استيشن يقينا ماسکو کے زير زمين شيشنوں کے ہم پلہ تھا جنہيں دنيا ميں خوبصورت ترين مانا جاتا ہے۔ لودر اسٹيشن کا وسيع پليٹ فارم ہلکي روشني سے منور تھے ديواروں ميں جا بجا اطالوي اور يوناني مجسمے رکھے ہوئے تھے۔ چھت سے درجنوں بيش قيمت جھاڑ اور فانوس لٹک رہے تھے۔ وہ اس اسٹيش کي مسحور کن خوبصورتي ميں کھويا ہوا تھا کہ پيچھے کھڑے ہوئے ايک مسافر نے اسے کندھے سے پکڑ کر اپني طرف متوجہ کرنے کي کوشس کيے اس نے مڑ کر ديکھا تو ايک پاکستاني حصرت جن کي صورت سے وہ قطعا نا آشنا تھا کھڑے مسکرا رہے تھے؟

آپ کا نام سنان ہي ہے نے اس نے اثبات ميں سر ہلايے آپ کسي زمانے ميں لاہور کے نيشنل کالج آف آرٹس ميں بڑي باقاعدگي سے آيا کرتے تہے۔ سنان کو ياد آيا کہ وہ اس کالج ميں ايک دوست تنوير کے پاس اپنے گھر کا نقشہ بنوانے کي غرص سے جايا کرتا تھے تنوير کو انہي دنوں لاہور کے چڑيا گھر کا نقشہ بنانے کا ٹھيکہ بھي مل گيے چنانچہ جب سنان کے گھر کا نقشہ مکمل ہوا تو تنوير کي غير حاضر دماغي کي وجہ سے باورچي خانے کي بجائے کي بجائے وہاں ريچھوں کے پنجرے کا نقشہ بن گيا اور سنان کا باورچي خانہ چڑيا گھر کے نقشے ميں منتقل ہو گيے اي لئے تو شايد آج کل يہ کہا جا رہا ہے کہ لاہور کے چريا گھر ميں جانوروں کو گھر کا سا ماحول ميسر ہے۔ بہر حال سنان يہ فيصلہ نہ کر سکا کہ ان حضرت کا نيشنل کالج آف آرٹس سے کيا تعلق ہو سکتا ہے۔

مجھے افسوس ہے کہ ميں اپ کو پہچان نہيں پايے سنان نے شرمندہ ہو کر کہے مجھے کہاري کہتے ہيں ان صاحب نے نہايت انکساري سے اپنا تعارف کروايا ايک روز آرکي ٹيکچر کے ليکچرار تنوير صاحب کے کمرے ميں آپ سے ملاقات ہوئي تھي۔ آہا کہاري صاحب سنان نے بڑي گرمجوشي سے ہاتھ ملايے پہچان وہ اب بھي نہيں پايا تھا. بھئي بڑي خوشي ہوئي آپ سے مل کر کہاري صاحب تو آپے سے باہر ہو رہے تھے مدتوں بعد کسي آشنا صورت سے واسطہ پڑا ہے.شايد يہ صاحب تنوير کے ہاں چڑيا گھر کي تعمير نو کے ٹھيکے کے لئے آيا کرتے تھے۔ سنان کو ياد آ گيا ۔ اور سنائيے کہاري صاحب آپ کے چڑيا گھر کا کيا حال ہے۔ سنان نے سوشل ہونے کي کوشس کي، چڑيا گھر کہاري صاحب نے حيرت زدہ ہو کر پوچھے جي ہاں چڑيا گھر بندروں اور ريچھوں کے پنجرے و غيرہ؟

بندروں کہاري صاحب باقاعدہ ہنسنے لگے آپ مجھے پہچان نہيں سکے ميرا پيشہ تو مصوري ہے۔ پچھلے چند ماہ سے پاکستان کے ايک صنعتي ادارے کے توسط سے پيرس ميں مقيم ہوں اور يہاں پاکستاني دستکاريوں کو فروغ دينے کے لئے کوشان ہوں ?سنان بے حد شرمندہ ہوا اور بھر پور معزرت کيے کيا آپ بھي يہ مصوري وغيرہ کے سلسلے ميں پيرس آئے ہيں۔ کہاري صاحب نے سنان کے بغل ميں دابي ہوئي تصوير کي طرف اشارہ کرتے ہوئے دريافت کيے اوہ يہ تصوير سنان نے ہنس کر کہا پندرہ فرانک اٹھے ہيں اس پر اور پھر اپني سياحت کے بارے ميں بتاي?اب کيا پروگرام ہے۔ لودر کے عجائب گھر ميں جانے کا خيال تھ؟

چھوڑئيے صاحب کہاري صاحب نے خوشدلي سے کہا پچھلے پہر تو عجاب گھر سياحوں سے ٹھسا پڑا ہوتا ہے ھجوم کي وجہ سے آپ کو تصويروں کے فريم اور مجسموں کي ٹانگون کے سوا کچھ نظر نہ آئے گے صبح سويرے جا کر ديکھئے اور اس وقت ميرے ساتھ چل کر ميرے کمرے ميں کافي کي ايک پيالي پيچئے ؟

کہاري کيدعوت ميں اتنا خلوص تھا کہ سنان انکار نہ کر سک?لودر بعد ميں ديکھ ليں گے۔ اس نے سوچا اور کہاري کے ساتھ چل ديے کہاري کے چھورے سے کمرے پر اچھے خاصے عجائب گھر کا گمان ہوتا تھے پاکستاني دستکاريوں کے نمونے مغل طرز مصوري کي لاتعداد تصاوير پيرس کي تاريخي عمارتوں کے پنسل اسکيچ رنگوں کے ڈبے خالي کينوس اور خالي بوتليں؟

کہاري نے سنان کو اپني بنائي ہوئي تصاوير اور مٹي کي نقش شدہ اينٹيں دکھائيں جنہيں پيرس کے فن پرست حلقوں نے بے حد سراہا تھ?اس کام سے فارغ ہو کر اس نے ايک کونے ميں رکھے ايک شوو پا کافي تيار کي اور وہ دونں وہيں قالين پر بيٹھ کر باتين کرنے لگے؟

آخر پيرس ميں ايسي کونسي کشش ہے کہ دنيا جہاں کے مصور يہاں کھنچے چلے آتے ہيں۔ مجھے تو ابھي تک اس شہر ميں کوئي خاصي بات نظر نہيں آتي سنان نے کافي کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہاري سے پوچھ؟

فن کے بارے ميں يہاں کے لوگوں کا خوشگوار رويہ حکومت کي طرف سے مراعات اور سرپرستي يہاں کا ماحول اور پھر پيرس کي تاريخي عمارتيں جو کينوس پر منتقل ہو کر اور بھي ديدہ زيب ہو جاتي ہيں۔ مصور بھي ايک شاعر کي طرح ہوتا ہے - وہ چاہے اپنے فن کے ذريعے سے دو وقت کي روٹي کھانے ميں ناکام ہو جائے مگر وہ داد ضرور چاہتا ہے۔ اہل پيرس اس معاملے ميں وسيع القلب واقع ہوتے ہيں اور يہي چيز مصوروں کو يہاں کھينچ لاتي ہے؟

کافي ختم کرنے کے بعد کہاري نے اسے پاکستاني موسيقي کے ريکارڈ سنوانے کے دوران ميں يکدم دروازے پر دستک ہوئي اور ساھي ہي ايک شوخ و شنگ قسم کي نوجوان فرانسيسي لڑکي مسکراتي ہوئي کمرے ميں داخل ہوئيل اس نے سنان کو ايک نظر ديکھا اور پھر کہارے سے مخاطب ہو کر فرانسيسي ميں کچھ کہ?کہاري نے ہنستے ہوئے اسي زبان ميں کچھ کہا ?کہاري نے ہنستے ہوئے اسي زبان ميں جواب ديا اور لڑکي اسي وقت باہر نکل گئي ؟

آپ نے بھي رکھي ہے سنان نے سنجيدگي سے پوچھا،

کيا چيز؟

يہ لڑکي؟

لاحول ول?کہاري صاحب باقاعدہ شرما گئے۔ آپ کو کيسے خيال آيا؟

ميرا خيال تھا کہ پيرس ميں رہنے والے تمام مصوروں کي بود و باش کا يہ لازمي حصہ ہے؟

نہيں صاحب يہ بيچاري تو مالک مکان کي لڑکي ہے ؟پوچھنے آئي تھي کہ تمہارے دوست دوپہر کا کھانا تو کھائيں گے دوپہر کے کھانے کے بعد پھر کافي چلي اور پھر شام تک پاکستان اور پيرس کے بارے ميں گپ شپ ہوتي رہي?تقريبا چھ بجے کے قريب سنان کہاري صاحب کي مہمان نوازي کا شکريہ ادا کرنے کے بعد ٹرام کے ذريعے واپس مومارت آگي?اس نے ان سے پيرس سے روانگي سے قبل ملاقات کا وعدہ بھي کيا ؟اب اس کا ارادہ تھا کہ دريائے سين کے کنارے پاسکل کي تلاش ميں نکلنے سے قبل اپنا کيمرہ کمرے ميں رکھ آئے اور شام کي خنکي کے پيش نظر کوئي اوني چيز بھي پہن لے۔۔۔؟

جاری ہے

تحریر: مستنصر حسين تارڑ


متعلقہ تحریریں :

گنڈاسا (حصّہ چهارم)

شعر  حضرت زهرا (عليهاالسلام) کی شان میں

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (پانچواں حصّہ)

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (چوتها حصّہ)

گنڈاسا (حصّہ سوّم)