• صارفین کی تعداد :
  • 2069
  • 7/9/2011
  • تاريخ :

عدت  کا فلسفہ

سوالیہ نشان

عدت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس دوران اس بات کی یقین دہانی ہوجائے کہ عورت ماں تونہیں بننے والی۔ اس بات کی یقین دہانی ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اسی پر بچے کے خاندان اور نام ونسب کا انحصار ہوتا ہے۔ سورۃ احزاب یہ الفاظ کہ

 " فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ "

 (یعنی جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کرو اور انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان کے بارے میں تم پر کوئی عدت واجب نہیں جس کا تم ان سے مطالبہ کرو۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اگر حمل کا امکان ہو تو عورت پر شوہر کی طرف سے عدت کی پابندی کا اطلاق ہوتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ  : < وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاٴَنفُسِہِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ> ”مطلقہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں گی، (اور عدہ رکھیں گی)“۔

اسی طرح اگر عورت عمر کے اس حصے میں ہے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہوتا کہ وہ بچہ پیدا کرسکتی ہے یا سائنٹیفک طریقوں سے یہ معلوم ہوجائے کہ عورت امید سے نہیں تو پھر اس پر عدت کی پابندی عائد نہیں ہوتی۔

یہاں پر سوال یہ ہوتا ہے کہ اس اسلامی قانون کا فلسفہ کیا ہے؟

چونکہ طلاق کے ذریعہ معمولاً گھر اجڑنے لگتا ہے اور معاشرہ کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسلام نے ایسا قانون پیش کیا ہے تاکہ آخری منزل تک طلاق سے روک تھام ہو سکے، ایک طرف تو ”اس کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ قابل نفرت“ قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف شادی بیاہ کے مسائل میں اختلاف کی صورت میں طرفین میں صلح و مصالحت کے اسباب فراہم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ حتی الامکان اس کام سے روک تھام ہو سکے۔

عدت کے دوران نہ تو عورت کو اپنے شوہر کا گھر چھوڑنا چاہیے اور نہ ہی اس کا شوہر یا اس کے گھر والے اس بات کا کوئی حق رکھتے ہیں کہ اسے گھر سے نکل جانے کو کہیں ۔ بیوی کے شوہر ہی کے گھر میں عدت گزارنے میں یہ حکمت ہے کہ ہوسکتا ہے کہ دونوں میں صلح کا امکان پیدا ہوجائے اور گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔ لیکن اگر بیوی نے کسی بدکاری کا ارتکاب کیا ہے تو نہ تو شوہر کی طرف سے اسے گھر میں رہنے کا مطالبہ کرنا چاہیے اور نہ ہی اسلام کی طرف سے اسے اس بات کا کا پابند کیا گیا ہے۔


متعلقہ تحریریں:

فلسفہٴ قربانی (حصّہ ششم)

فلسفہٴ قربانی (حصّہ پنجم)

فلسفہٴ قربانی (حصّہ چهارم)

فلسفہٴ قربانی (حصّہ سوّم)

فلسفہٴ قربانی (حصّہ دوّم)