• صارفین کی تعداد :
  • 1837
  • 6/8/2011
  • تاريخ :

مدينہ لشکر کفار کے محاصرے ميں

مدينہ لشکر کفار کے محاصرے ميں

کفر کا حملہ آور لشکر ابوسفيان کي سرکردگي ميں خندق کھد جانے کے چھ دن بعد سيلاب کي طرح مدينہ پہنچ گيا۔ انہوں نے شہر کے چاروں طرف اور اپنے آگے ايک بڑي خندق ديکھي تو مسلمانوں کي اس دفاعي ٹيکنيک پر ان کو تعجب ہوا۔ جنگي ديدہ وروں نے کہا يہ فوجي ٹيکنيک محمد نے ايرانيوں سے سيکھي ہے اس ليے کہ عرب اس ڈھنگ سے واقف نہيں ہيں۔ ان لوگوں نے مجبوراً اپنے خيمے خندق کے سامنے لگاليے۔ دشمن کے لشکر کے خيموں سے سارا بيابان سياہ ہوگيا۔ لشکر اسلام نے بھي خندق کے اس طرف خيمے لگا ليے اور دشمن سے مقابلے اور ان کے حملے سے بچنے کے ليے تيار ہوگئے۔

بني قريظہ کي عہد شکني

لشکر احزاب اور اس کے کماندار ابو سفيان جن کے سروں ميں مسلمانوں پر برق رفتاري سے کاميابي حاصل کرنے کا سودا سمايا ہوا تھا، خندق جيسي بڑي رکاوٹ کے سامنے آجانے سے اب راستہ کي تلاش ميں لگ گئے تاکہ لشکر کو خندق کے پار پہنچا سکيں۔

حي بن اخطب يہودي جو قبيلہ بني نضير کا شہر بدر کيا ہوا سردار اور جنگ کي آگ بھڑکانے کا اصلي ذمہ دار تھا۔ خندق کي موجودگي سے سپاہ احزاب کے حملہ کا ناکام ہوت ہوئے ديکھ کر سب سے زيادہ خوف زدہ تھا، وہ کوشش کر رہا تھا ہ جلد سے جلد احزاب کي کاميابي کا کوئي راستہ مل جائے۔ اس نے مدينہ کے اندر سے محاذ کھولنے کا ارادہ کيا۔ اس پروگرام کو عملي جامہ پہنانے کے ليے بني قريظہ کے وہ يہودي جو مدينہ ميں مقيم تے، بہترين وسيلہ تھے۔ اس نے رئيس قبيلہ سے گفتگو کرنے کا ارادہ کيا، قلعہ بني قريظہ کي طرف گيا اور قلعہ کے بند دروازوں کے پيچھے سے گفتگو کي، ليکن قبيلہ بني قريظہ کے سردار کعب بن اسد نے جواب ديا کہ ہم نے محمد سے عہد و پيمان کيا ہے اور ہم يہ معاہدہ توڑ سکتے اس ليے کہ سوائے سچائي اور وفاداري کے ان سے ہم نے اور کچھ نہيں ديکھا ہے۔

حي، کعب کے احساسات کو بھڑکانے ميں کامياب ہو گيا اور اس نے اپنے ليے قلعہ کا دروازہ کھلواليا۔ قلعہ ميں داخل ہوا اور بني قريظہ کے بزرگ افراد کو اس بات پر آمادہ کرليا کہ وہ رسول خدا سے کئے ہوئے اپنے عہد و پيمان کو توڑ ديں اور اپني فوجيں نيز دوسرے سامان حملہ آوروں کو دے ديں۔

عنوان : تاريخ اسلام

پيشکش : شعبہ تحرير و پيشکش تبيان

بشکريہ پايگاہ اطلاع رساني دفتر آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي


متعلقہ تحريريں :

غزوہ بدر موعد

غزوہ بني نضير

سريہ عمرو بن اميہ

بئر معونہ کا واقعہ

رجيع کا واقعہ