• صارفین کی تعداد :
  • 2109
  • 6/7/2011
  • تاريخ :

غزوہ بني نضير

غزوہ بني نضير

تاریخ ربیع الاول سنہ ۴ ہجری

مدینہ واپسی کے وقت واقعہٴ بئر معونہ میں بچ جانے والے شخص عمرو بن امیہ کے ہاتھوں بنی عامر کے دو آدمیوں کے قتل نے یک نئی مصیبت کھڑی کر دی کیونکہ اس نے غلطی سے بے قصور افراد کو قتل کر دیا تھا۔ جو عہد و پیمان بنی عامر نے رسول خدا سے کیا تھا اس کے مطابق مسلمانوں کو ان مقتولین کا خون بہا ادا کرنا چاہیے تھا۔ ایک طرف بنی نضیر کے یہودی مسلمانوں کے ہم پیمان تھے اور بنی عامر سے بھی معاہدہ رکھتے تھے۔ لہٰذا اپنے پیمان کے مفاد کے مطابق ان لوگوں کو بھی خون بہا ادا کرنے میں مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے۔

بئر معونہ اور رجیع کے منحوس واقعہ کے بعد جو کہ چند دنوں پہلے پیش آیا تھا، یہودی منافقین کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا مذاق اڑانے لگے تھے اور کہتے تھے کہ جو پیغمبر خدا کا بھیجا ہوا ہوتا ہے وہ شکست نہیں کھاتا، یہ لوگ ہر آن شورش برپا کرنے کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔

اب بنی نضیر کے یہودیوں کی بری نیتوں سے خداوند عالم کے آگاہ کرنے کا بہتین وقت آگیا تھا۔ بنی نضیر سے رسول خدا عہد و پیمان کے مطابق مقتولین کی دیت ادا کرنے میں مدد طلب کرنے کے لیے اپنے چند اصحاب کے ساتھ بنی نضیر کے قلعہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ظاہراً تو رسول خدا کی پیشکش کا استقبال کیا لیکن خفیہ طور پر انہوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا اور یہ ارادہ کرلیا کہ مناسب موقع ہاتھ آیا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور پیغمبر کی شمع حیات کو گل کر دیں۔

آنحضرت ایک گھر کی دیوار کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان لوگوں نے ”عمرو“ نامی ایک شخص کو بھیجا کہ وہ کوٹھے سے ایک پتھر آپ کے سر اقدس پر گرا دے فرشتہ وحی نے رسول خدا کو آگاہ کر دیا۔ آپ اسی حالت میں جس حالت میں ان کے مشکوک افراد کی رفت و آمد کا نظارہ فرما رہے تھے۔ اطمینان سے ان کے درمیان سے اٹھے اور اکیلے ہی مدینہ کی طرف چل دیئے۔ آنحضرت کے اصحاب جو آپ کی تاخیر سے پریشان ہو گئے تھے۔ مدینہ لوٹ آئے۔ رسول خدا نے محمد بن مسلمہ کو بنی نضیر کے پاس بھیجا اور ان لوگوں سے کہلوایا کہ مدینہ کو دس دن کے اندر چھوڑ دیں جب بنی نضیر کے سربرآوردہ افراد نے اس پیغام کو سنا تو ان کے درمیان ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور ہر آدمی اپنا نظریہ پیش کرنے لگا وہ لوگ مدینہ سے نکلنے کی سوچ ہی رہے تھے کہ عبداللہ ابن ابی نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور اپنا دفاع کرو میں دو ہزار افراد کو تمہاری مدد کے لیے بھیجتا ہوں اور بنی قریظہ کے یہودی بھی ہمارا تعاون کریں گے۔

منافقین کے لیڈر کے پیغام نے یہودیوں کو ہٹ دھرمی پر باقی رہنے اور اپنا دفاع کرنے کے ارادہ میں اور پکا بنا دیا اور ان کی تشویش ہوئی۔ لہٰذا قبیلہ بنی نضیر کے سردار ”حیی بن اخطب“ نے رسول خدا کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم جانے والے نہیں ہیں آپ کو جو کرنا ہو کر لیجئے۔ رسول خدا نے ان تک کسی طرح کی مدد اور قوت پہنچنے سے پہلے ہی بنی نضیر کے قلعہ کا محاصرہ کرلیا چھ دن محاصرہ میں یہودیوں کا قلعہ کے باہر سے ہر طرح کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ آخر کار ان لوگوں نے منافقین اور بنی قریظہ کی کمک سے مایوس ہو کر مجبوراً اپنے آپ کو لشکر اسلام کے حوالہ کر دیا۔ رسول خدا نے ان کو اس بات کی اجازت دی کہ اسلحہ کے علاوہ اپنے منقولہ اموال میں سے جتنا وہ چاہیں اپنے ساتھ لے جائیں۔

حریص یہودی جو بھی لے جاسکتے تھے انہوں نے اپنے اونٹوں پر لادا یہاں تک کہ گھر کے دروازوں کو چوکھٹ بازو کے ساتھ ساتھ اکھاڑ کر اونٹ پر لاد لیا۔ ان میں سے کچھ لوگ خیبر کی طرف اور کچھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔ دو ان میں سے مسلمان بھی ہوئے۔ یہودیوں کے غیر منقول اموال اور قابل کاشت زمنیں پیغمبر کے ہاتھ آئیں۔ آپ نے انصار کو بلایا ان کی سچی خدمتوں اور ایثار و قربانیوں کو سراہا اور فرمایا کہ مہاجرین تمہارے گھروں میں تمہارے مہمان ہیں ان کی رہائش کا بار تم اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہو۔ اگر تم راضی ہو تو بنی نضیر کے مالِ غنیمت کو میں مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دوں وہ لوگ بھی تمہارا گھر خالی کر دیں؟ ”سعد بن معاذ“ اور ”سعد بن عبادہ“ قبیلہ ”اوس و خزرج“ کے دونوں سرداروں نے جواب دیا اے رسول اللہ مالِ غنیمت کو ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان بانٹ دیجئے اور وہ بدستور ہمارے گھروں میں مہما رہیں۔ رسول اللہ نے بنی نضیر کے تمام اموال اور قابل کاشت زمینوں کو مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دیا اور انصار میں سے صرف دو افراد یعنی ”سہل بن حنیف اور ابو دجانہ“ کو جو کہ بہت زیادہ تہی دست تھے، کچھ حصہ عنایت فرمایا:

بنی نضیر کے یہودیوں کی پیمان شکنی کے بارے میں خاص کر سورہٴ ”حشر“ نازل ہوا۔ (سیرت ابن ہشام)

دہشت گردی کا انتقام

بنی نضیر کے واقعہ کے بعد ”یامین بن عمیر“ جو یہودی سے مسلمان ہو گیا تھا۔ اس سے رسول خدا نے کہا کہ تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا چچا زاد بھائی میرے بارے میں کیا ارادہ رکھتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ میرا خاتمہ کر دے؟ یامین نے ایک شخص کو دس دینار دیئے اور اس سے کہا کہ عمرو بن حجاش (وہی یہودی جس نے رسول خدا کے سر پر پتھر گرانے کا ارادہ کیا تھا) کو قتل کر دے وہ شخص گیا اور اس نے اس ذلیل یہودی کو اس کی سزا تک پہنچا دیا۔ (سیرت ابن ہشام ج۳ ص ۲۰۳)

عنوان : تاريخ اسلام

پيشکش : شعبہ تحرير و پيشکش تبيان

بشکريہ پايگاہ اطلاع رساني دفتر آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي


متعلقہ تحريريں :

پنجشنبہ يکم محرم سنہ ہجري قمري ميں

ابو عزہ شاعر کي گرفتاري

اسلام اور ہر زمانے کي حقيقي ضرورتيں (حصّہ سوّم )

اسلام اور ہر زمانے کي حقيقي ضرورتيں ( حصّہ دوّم )

مدينہ ميں منافقين کي ريشہ دوانياں