• صارفین کی تعداد :
  • 2362
  • 1/31/2011
  • تاريخ :

ابن شہر آشوب كی ہجرت

بسم الله الرحمن الرحیم

مستضی كی خلافت كے شروع كے زمانے میں ( ۵۴۷ء تا ۵۶۶) ابن شہر آشوب بغداد میں تھے اور مستضی حنبلی علماء كے اقتدار اور عقائد كو وسعت دینے اور افكار كی تقویت كی كوششیں كر رہا تھا ۔ آہستہ آہستہ مخالفین ابن شہر آشوب كے كاموں سے بے توجہی دكھانے اور آپ كی تضعیف كر نے لگے تھے۔ لہٰذا آپ كے لئے اب بغداد كام كی مناسب جگہ نہیں رہ گیا تھا، آپ بغداد كوترك كركے ایك تاریخی اور علماء كے شہر حلّہ كی طرف آگئے ۔ ابن شہر آشوب ۵۶۷ میں حلّہ میں اپنی كرسی تدریس پر رونق افروز ہوئے اور شاگردوں كی تعلیم وتربیت كاكام شروع كردیا كئی سالوں تك تدریس كرنے كے بعد حلّہ كو خیر باد كہا اور موصل تشریف لائے وہاں ایك طویل اقامت كے بعد آخر كارآپ نے شہر حلب (ستاروں كا شہر) كی طرف ہجرت كی ۔

صاحب روضات الجنات فرماتے ہیں: ابن شہر آشوب كے عراق سے حلب آجانے كی علت یہ تھی كہ مذكورہ شہر ان ایام میں معززین و رجالی حضرات كا گڑھ تھااور وہاں كے لوگ امامی مذہب والوں كے ساتھ عموماً اچھے اخلاق سے پیش آتے تھے اور اس لحاظ سے بھی كہ حلب كا ضلع آل حمدان كے زیر نظر تھا جو كہ خود امامیہ مذہب سے تھے وہاں كے لوگ شیعہ علماء كے لیے خاص احترام كے قائل تھے۔

محمد رحیم بیگ محمدی

مترجم: سید شان حیدر زیدی

(گروہ ترجمہ سایٹ صادقین)


متعلقہ تحریریں:

 سید ابن طاؤوس کے اولاد

میراث باقیہ کارنامہ سید ابن طاؤوس

سید ابن طاؤوس اور شکوہ

سید ابن طاؤوس  اور  وزارت شب

سید ابن طاؤوس  اور  پراسرار سفر