• صارفین کی تعداد :
  • 2449
  • 10/3/2010
  • تاريخ :

 سید ابن طاؤوس کے اولاد

بسم الله الرحمن الرحیم

سید ابن طاؤوس کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں سب کے سب اعلیٰ مراحل پر فائز تھے لیکن افسوس کی بات ہے کہ باپ کے مقام و منزلت کو کسی نے بھی درک نہ کیا جس کی بناپر مورخوں کی توجہ کا مرکز نہ بن سکے(اس کے علاوہ ممکن ہے کہ مورخوں کی توجہ کا مرکز نہ بننے کی وجہ خود سید ابن طاؤس کی وصیت رہی ہو یعنی آپ نے اولاد سے وصیت کی ہو کہ درباریوں سے رفت و آمد نہ رکھیں جس کے نتیجہ میں شہرت کا باعث نہ بنے ہوں۔)

محمدالمصطفیٰ آپ کے بڑے فرزند تھے ۹/محرم ۶۴۳ھ حلہ میں آپ متولد ہوئے دوسرے فرزند علی تھے جو ۸/محرم ۶۴۷ھ نجف اشرف میں متولد ہوئے ان کی ولادت کے بعد آپ نجف سے کر بلا چلے گئے وہیں ”کشف المحجہ “ جیسی عظیم کتاب اپنی اولاد کے لئے تالیف کی۔

اولاد اناث میں شرف الاشراف اور فاطمہ کا نام تاریخ میں موجود ہے۔ اگرچہ سید ابن طاؤس کی تربیت اولاد کے سلسلہ میں تاریخ خاموش ہے یا بہت مختصر بیان کرتی ہے لیکن دوسرے بہت سے ایسے شواہد ہیں جو بیان کرتے ہیں کہ آپ نے سخت ماحول میں بھی اپنی اولاد کی تربیت بڑے اچھے ڈھنگ سے کی تھی۔

بچے کے سن بلوغ پر پہنچنے کے ایک خاص اہتمام کرنا وخوشی منانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ فرزند کی حق جوئی و پرورش روح میں خاص کوشاں تھے۔ روزسن بلوغ میں کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ آغاز زندگی کے لئے ایک خاص دن ہے، آج ہی کے دن حیوان سے رشتہ منطقع ہوتا ہے اب بندہ استقلال حاصل کرتا ہے ، آج کا دن و ہ عظیم دن ہے کہ خدا اپنی بزرگی و عظمت کے باوجود ہندے سے خطاب کرتا ہے اور اس سے گفتگو کرتا ہے۔

سید ابن طاؤس کی نگاہ میں بلوغ کا دن ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ، آج کے دن سے انسان کو وہ موقعہ فراہم ہوتا ہے کہ تمام پستیوں کو پیچھے چھوڑ کر نیک بختی و سعادت کی طرف قدم بڑھائے سید ابن طاؤس اپنے ایک فرزند سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”اے بیٹا ! میں نے تمہاری بہن شرف الاشراف کو بالغ ہونے سے پہلے ہی جہاں تک ہوا احکام دین یاد کرائے اسے احساس دلایا کہ سن بلوغ ، روز شرافت و کرامت ہے ، یہ ایک فضیلت ہے جو خدا بندے کو عطا کرتا ہے، آج یہ افتخا ر تمہیں بھی نصیب ہواہے۔“

بچوں کی تربیت پر آپ نے جو خاص اہتمام کیا تھا اس کے نتیجہ میں آپ کی دونوں لڑکیاں شرف الاشراف اور فاطمہ کمسنی میں ہی بلند علمی مراتب حاصل کر لیا تھا دونوں حافظ قرآن تھیں ۔سید ابن طاؤوس نے ۶۵۱ھ میں ”سعد السعود“ تحریر کیا اس کتاب میں آپ اپنی لڑکیوں پر فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں ” میری دونوں لڑکیاں حافظ قرآن ہیں۔“ آپ کی تحریر سے لڑکیوں کے تقویٰ و پرہیز گاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے بچوں کی تربیت کا اندازہ بھی لگا یا جا سکتا ہے۔

”میں نے پورے قرآن کو اپنی بیٹی شرف الاشراف کو وقف کردیا وہ حافظ قرآن ہے اس نے بارہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا ہے۔“

”میں نے قرآن کواپنی بیٹی فاطمہ کے لئے وقف کر دیا ہے خدا وند عالم اسے زندہ و سلامت رکھے فاطمہ نے ۹/سال کی عمر سے بھی پہلے قرآن حفظ کر لیا تھا۔“

جب ابن طاؤوس کے خاندان کی بات چل رہی ہے تو مناسب ہے کہ آپ کے بھائیوں کا بھی تذکرہ ہوجائے تاکہ علمی او ر اجتماعی مراحل کا اندازہ ہو سکے ۔

ابو ابراہیم موسیٰ کے چار فرزند ذکور تھے:

          رضی الدین علی بن طاؤس (سید ابن طاؤس) جن کے حالات بیان ہو رہے ہیں۔

          جمال الدین محمد بن طاؤس

          شرف الدین محمد بن طاؤس

          عزالدین حسن بن طاؤس

اگرچہ یہ سب فقاہت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے مومنین کے درمیان ایک خاص مقام و منزلت کے حامل تھے لیکن سید ابن طاؤس اورجمال الدین احمد کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ سید ابن طاؤس کو روحانیت و عرفان میں ایک خاص مقام حاصل تھا ، دعاؤں کی کتابوں میں جہاں بھی ”سید “ یا ”سید ابن طاؤس“ کہا گیا ہے وہاں آپ ہی کی ذات مراد ہے۔

جمال الدین احمد فقہ میں خاص مقام رکھتے تھے جہاں بھی علم رجال یا علم فقہ میں ”ابن طاؤس بیان ہوا ہے وہاں ”جمال الدین احمد“ ہی مراد ہیں۔

سید جمال الدین احمد نے بہت سے علمی میراث چھوڑی ہیں جیسے ”ملاذالعلماء “ چار چلدوں میں ہے ، ”بشری “ چھ جلدوں میں ہے یہ کتاب فقہ شیعہ کا ایک ذخیرہ ہے ان کے علاوہ ”شواہد القرآن“ ، ” عین البصرة“ ، ”مقالہ علویہ“، ” حل اشکال“ اور ”کتاب ازہار“ خاص اہمیت کی حامل ہیں۔

سید جمال الدین نے پوری عمر آثار اہلبیت  کی حفاظت و محققوں کی تربیت میں صرف کر دی ۶۷۳ھ میں آپ نے رحلت فرمائی اور اسی مقدس سر زمین میں سپرد خاک کئے گئے۔

آخر میں یہ بھی ذکر کریں کہ سیدشرف الدین محمد فتح بغداد کے موقعہ پر مغلوں کے ہاتھوں شہید کر دئے گئے اور عز الدین حسن سقوط بغداد سے (۲) دو سال پہلے رحلت فرما گئے۔

ہمارا اسلام ہوا آل طاؤس پر جس دن اس دنیا میں تشریف لائے ، اس دن پر ہمارا سلام ہو جس دن اس زمین سے اٹھائے جائیں گے اور روز قیامت جنت کی سمت بڑھیں گے۔

اسلام ان اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

سید ابن طاؤوس  اور  وزارت شب

سید ابن طاؤوس  اور  پراسرار سفر

سید ابن طاؤوس اور عرفات کا تحفہ

سید ابن طاؤوس اور دشت سامرا کے سوار

اشک ابو جعفر (مسنتصر)

سید ابن طاؤوس  اور  گمراہوں کے لئے ہادی

سید ابن طاؤوس اور بیمار ہر قل

سید ابن طاؤوس اور ندیم ابلیس

سید ابن طاؤوس اور شہر پر فریب پایہ تخت شیطان

سید ابن طاؤوس (علماء سے ارتباط)

سید بن طاؤوس(فقیہ آگاہ)

سید بن طاؤوس ( تحصیل نور)

سید بن طاؤوس (طائر قفس)