• صارفین کی تعداد :
  • 1760
  • 10/25/2010
  • تاريخ :

ساحر کا سب سے بڑا اعزاز عوامی مقبولیت تھی

ساحر لدھیانوی

ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کا انتقال 25  اکتوبر 1980ء کو ممبئی میں ہوا۔ ساحر لدھیانوی کی پیدائش لدھیانہ کے قریب کریم پور کے ایک جاگیردار خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کا نام عبد الحئی رکھا گیا تھا۔ ساحر نے خالصہ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔ کالج کے زمانے سے ہی انہوں نے شاعری کا آغاز کر دیا۔

کہتے ہیں کہ ساحر امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالے گئے اور لاہور آگئے۔

یہاں ترقی پسند نظریات کی بدولت قیام  پاکستان کے بعد 1949ء میں ان کے وارنٹ جاری ہوئے جس کے بعد وہ ہندوستان چلے گئے۔ ہندوستان میں وہ سیدھے بمبئی میں وارد ہوئے۔ ان کا قول مشہور ہے کہ بمبئی کو میری ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں ساحر اور دوسرے ترقی پسند شعرا نے بھانپ لیا تھا کہ فلم ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے اپنی بات عوام تک جس قوت اور شدت سے پہنچائی جا سکتی ہے، وہ کسی اور میڈیم میں ممکن نہیں ہے۔

چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساحر ایک مشن کے تحت بمبئی گئے اگرچہ 1949ء میں ان کی پہلی فلم آزادی کی راہ پر قابلِ اعتنا نہ ٹھہری، لیکن موسیقار سچن دیو برمن کے ساتھ 1950ء میں فلم "نوجوان" میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو ایسی مقبولیت نصیب ہوئی کہ آپ آج بھی آل انڈیا ریڈیو سے انھیں سن سکتے ہیں۔

ساحر کے علاوہ بھی کئی اچھے شاعروں نے فلمی دنیا میں اپنے فن کا جادو جگایا، لیکن ساحر کے علاوہ کسی اور کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ اور اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جو ان کی ادبی شاعری کی مقبولیت کی ہے، یعنی شاعری عوامی لیکن ادبی تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے۔ ایک زمانے میں اردو ادب میں ترقی پسند شاعر اس بات کے قائل نہیں تھے بلکہ وہ شاعری کے ذریعے معاشرے میں انقلاب بپا کرنا چاہتے تھے۔ ترقی پسند شعرا کی جوق در جوق فلمی دنیا سے وابستگی ان کی عوام تک پہنچنے کی اسی خواہش کی آئینہ دار تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ساحر فلمی دنیا میں اپنی آئیڈیالوجی ساتھ لے کر آئے، اور دوسرے ترقی پسند نغمہ نگاروں کے مقابلے میں انھیں اپنی آئیڈیالوجی کو عوام تک پہنچانے کے مواقع بھی زیادہ ملے، جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انھوں نے جن فلم سازوں کے ساتھ زیادہ کام کیا وہ خود ترقی پسندانہ خیالات کے مالک تھے۔ اس سلسلے میں گرودت، بی آر چوپڑا اور یش راج چوپڑا کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ میں صرف ایک مثال دوں گا۔ساحر کتنے بااثر فلمی شاعر تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کم از کم دو ایسی انتہائی مشہور فلموں کے گانے لکھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ان میں گرودت کی پیاسا اور یش راج کی کبھی کبھی شامل ہیں۔ پیاسا کے گانے تو درجہ اول کی شاعری کے زمرے میں آتے ہیں:

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا

یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

اسی طرح کبھی کبھی میں "کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے" کے علاوہ "میں پل دو پل کا شاعر ہوں" ایسے گانے ہیں جو صرف ساحر ہی لکھ سکتے تھے۔ظاہر ہے کہ کسی اور فلمی شاعر کو یہ چھوٹ نہیں ملی کہ وہ اپنے حالاتِ زندگی پر مبنی نغمے لکھے۔ بعد میں انھوں نے کئی بی گریڈ موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں ٰخیام کے علاوہ روی، این دتا اور جے دیو شامل ہیں۔ اور ان درجہ دوم کے موسیقاروں کےساتھ بھی ساحر نے کئی لافانی نغمے تخلیق کیے، جیسے روی کے ساتھ، ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی، نیلے گگن کے تلے، چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو"و غیرہ، این دتا کے ساتھ "میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی"، "میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں" اور "دامن میں داغ لگا بیٹھے"، وغیرہ اور جے دیو کے ساتھ "ابھی نہ جاو چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں"،"میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا"، "رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی" وغیرہ شامل ہیں۔ساحر اور مجروح سلطان پوری کا نام اکثر ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے، لیکن میرے خیال سے دونوں شعرا کا پس منظر ایک جیسا ہونے کے باوجود ساحر مجروح سے کہیں بہتر فلمی شاعر تھے۔ مجروح کی فلمی نغمہ نگاری اکثر کھوکھلی نظر آتی ہے، وہ شاعری کے ادبی پہلو سے مکمل انصاف نہیں کر پاتے۔ جو کام ساحر بہت سہولت سے کر گزرتے ہیں، وہاں اکثر مجروح کی سانس قدم اکھڑنے لگتی ہے۔ مجروح کی فلمی بولوں کی ایک نمایاں بات یہ ہے کہ وہ سننے میں بہت بھلے لگتے ہیں لیکن جوں ہی کاغذ پر لکھے جائیں، ان میں عیب نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ساحر کی فلمی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نک سک سے درست اور عام طور پر ادبی لحاظ سے بے عیب ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کاغذ پر لکھنے کے معیار پر بھی پورا اترتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اور فلمی گیت نگار کے گیتوں کے اتنے ایڈیشن نہیں چھپے جتنے ساحر کے "گاتا جائے بنجارا" اور "گیت گاتا چل" کے۔

ایک اور فلمی شاعر شکیل بدایونی ہیں جن کا نام ساحر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ لیکن دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ شکیل کے ہاں بعض جگہ عروض کی غلطیاں بھی نظر آتی ہیں، مثال کے طور پر وہ لفظ "نہ" کو بر وزنِ "نا" بھی باندھ جاتے ہیں، جو عروض کے اعتبار سے غلط ہے۔ اس کے علاوہ شکیل کے ہاں زبان و بیان کی کوئی تازگی نظر نہیں آتی، وہی لگی بندھی تشبیہات، پامال استعارات اور استعمال شدہ ترکیبوں کی بھرمار شکیل کا خاصہ ہے۔ ساحر کی زندگی میں ہی ان کے بارے میں گرو دت نے فلم ”پیاسا“ بنائی تھی، جس کا محور ایک شاعر کی کربناک زندگی تھی اور یہ فلم ساحر ہی کے اردگرد ہی گھومتی تھی۔ اس فلم کے نغمے بھی ساحر نے ہی لکھے تھے اور اس کے تمام نغمے بے حد مقبول ہوئے تھے۔ خاص طور پر ’ہم آپ کی آنکھوں میں اس دل کو بسا دیں تو، ”جانے کیا تو نے کہی‘ اور ’یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا، یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے‘عشق میں دوبار ناکامی کے بعد ساحر لدھیانوی بالکل ٹوٹ گئے اور پھر انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی۔ ان کی جدو جہد کا دور لاہور سے شروع ہو تا ہے۔

1943 ء میں وہ لاہور گئے تھے اور اسی زمانے میں انہوں نے اپنا مجموعہ ”تلخیاں“ مرتب کر ڈالا تھا، لیکن اس نئے شاعر کو دو برسوں تک کوئی پبلشر نہیں مل سکا جو کتاب شائع کرتا۔ بالآخر 1945ء میں تلخیاں شائع ہوئی تو ادبی حلقوں میں اس کی دھوم مچ گئی۔

لاہور کے دوران قیام ساحر اس دور کے مشہور ادبی رسائل ادبِ لطیف، شاہکار، پریت لڑی اور سویرا سے وابستہ رہے۔ اسی زمانے میں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین میں سرگرم ہوئے۔ ساحر لدھیانوی کو بہت سے انعامات اور اعزازات بھی ملے۔ لیکن سب سے بڑا اعزاز عوامی مقبولیت تھی۔

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں


متعلقہ تحریریں:

ڈاکٹر محمد باقر

مولوی اسما عیل میرٹھی

جوش ملیح آبادی کی یاد میں

اردو کا منفرد شاعر یاس یگانہ چنگیزی

سید عابد علی عابد

فراق گورکھپوری کے نواسے بھی شاعری کرتے ہیں

حکیم الامت علامہ اقبال (رح) مرد عمل تھے

ڈپٹی نذیر احمد

پطرس بخاری بحیثیت مزاح نگار

اردو کے مشہور ڈرامہ نگار اور شاعر آغا محمد شاہ کا انتقال