• صارفین کی تعداد :
  • 3684
  • 1/4/2010
  • تاريخ :

امام علی نقی علیہ السلام کے اقوال زریں

امام علی نقی علیہ السلام

1. َالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): مَنِ اتَّقىَ اللهَ يُتَّقى، وَمَنْ أطاعَ اللّهَ يُطاعُ، وَ مَنْ أطاعَ الْخالِقَ لَمْ يُبالِ سَخَطَ الْمَخْلُوقينَ، وَمَنْ أسْخَطَ الْخالِقَ فَقَمِنٌ أنْ يَحِلَّ بِهِ سَخَطُ الْمَخْلُوقينَ

(بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی، ج۶۸، ص۱۸۲۔ اعیان الشیعہ سید محسن امین عاملی، ج۲، ص۳۹)۔ 

 امام علی النقی (علیہ السلام): "جو اللہ سے ڈرے گا لوگ اس سے ڈریں گے اور جو اللہ كی اطاعت كرے گا اس كی اطاعت كی جائے گی، اور جو شخص خالق كی اطاعت كرے گا اسے مخلوقین كی ناراضگی كی كوئی پرواہ نہیں ہو گی اور جو خالق كو ناراض كرے گا وہ مخلوقین كی ناراضگی سے بھی روبرو ہونے كے لائق ہے"۔

2. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): السَّهَرُ أُلَذُّ الْمَنامِ، وَ الْجُوعُ يَزيدُ فى طيبِ الطَّعامِ

 (بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی، ج۶۹، ص ۱۷۲)۔ 

امام علی النقی (علیہ السلام): "شب بیداری، نیند كو بے حد لذیذ بنا دیتی ہے اور بھوك غذا كے ذائقہ كو دو چندان كر دیتی ہے"۔

3. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): لا تَطْلُبِ الصَّفا مِمَّنْ كَدِرْتَ عَلَيْهِ، وَلاَ النُّصْحَ مِمَّنْ صَرَفْتَ سُوءَ ظَنِّكَ إلَيْهِ، فَإنَّما قَلْبُ غَيْرِكَ كَقَلْبِكَ لَهُ

(بحار الانوار: ج۷۵، ص ۳۶۹ ح۴۔ اعلام الدین؛ ابو الحسن دیلمی،ص ۳۱۲س ۱۴)۔  

امام علی النقی (علیہ السلام): "جس سے كینہ ركھتے ہو اس سے محبت كی تلاش میں نہ رہو اور جس سے بد گمان ہو اس سے خیر خواہی كی امید نہ ركھو، کیونكہ دوسرے كا دل بھی تمہارے دل كے مانند ہے"۔

4. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْحَسَدُ ماحِقُ الْحَسَناتِ، وَالزَّهْوُ جالِبُ الْمَقْتِ، وَالْعُجْبُ صارِفٌ عَنْ طَلَبِ الْعِلْمِ داع إلَى الْغَمْطِ وَالْجَهْلِ، وَالبُخْلُ أذَمُّ الاْخْلاقِ، وَالطَّمَعُ سَجيَّةٌ سَيِّئَةٌ

(بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی، ج۶۹، ص۱۹۹ح۲۷)۔  

امام علی النقی (علیہ السلام): "حسد نیكیوں كو تباہ كرنے والا ہے، غرور، دشمنی لانے والا ہے، خودبینی، تحصیل علم سے مانع اور پستی و نادانی كی طرف كھینچنے والی ہے اور كنجوسی بڑا مذموم اخلاق ہے، اور لالچ بڑی بری صفت ہے"۔

5. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْهَزْلُ فكاهَةُ السُّفَهاءِ، وَ صَناعَةُ الْجُهّالِ (الدرۃ الباھرہ؛ ص۴۲، س۵۔ بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی، ج ۷۵، ص۳۶۹، ح۲۰)۔  

امام علی النقی (علیہ السلام): "دوسروں کا مذاق اڑانا بے وقوفوں كا شیوہ اور جاہلوں كا پیشہ ہے"۔

6. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): النّاسُ فِي الدُّنْيا بِالاْمْوالِ وَ فِى الاْخِرَةِ بِالاْعْمالِ (اعیان الشیعۃ؛ سید محسن امین عاملی، ج۲، ص۳۹۔ بحار الانوار: ج۱۷)۔ 

امام علی النقی (علیہ السلام): "لوگوں كی حیثیت دنیا میں مال سے اور آخرت میں اعمال سے ہے"۔

7. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): أهْلُ قُمْ وَ أهْلُ آبَةِ مَغْفُورٌ لَهُمْ، لِزيارَتِهِمْ لِجَدّى عَلىّ ابْنِ مُوسَى الرِّضا (عليه السلام) بِطُوس، ألا وَ مَنْ زارَهُ فَأصابَهُ فى طَريقِهِ قَطْرَةٌ مِنَ السَّماءِ حَرَّمَ جَسَدَهُ عَلَى النّار

(عیون اخبار الرضا(ع)؛ شیخ صدوق رہ، ج۲، ص۲۶۰، ح۲۲)۔

امام علی النقی (علیہ السلام): "قم اور آبہ كے لوگوں كی مغفرت ہو چكی ہے كیونكہ وہ لوگ طوس میں میرے جد بزرگوار حضرت امام علی رضا علیہ السلام كی زیارت كو جاتے ہیں۔ آگاہ رہو كہ جو بھی ان كی زیارت كرے اور راستے میں آسمان سے ایك قطرہ اس پر پڑجائے (كسی مشكل سے دوچار ہو جائے) تو اس كا جسم آتش جہنم پر حرام ہو جاتا ہے"۔

8. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْغَضَبُ عَلى مَنْ لا تَمْلِكُ عَجْزٌ، وَ عَلى مَنْ تَمْلِكُ لُؤْمٌ

 (مستدرك الوسائل؛ میرزا حسین نوری، ج۱۲، ص۱۱، ۱۳۳۷۶)۔ 

امام علی النقی (علیہ السلام): "جس پر تمہارا بس نہیں چلتا اس پر غصہ کرنا عاجزی ہے اور جس پر بس چلتا ہے اس پر غصہ کرنا پستی ہے"۔

9. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): يَاْتى عَلماءُ شيعَتِنا الْقَوّامُونَ بِضُعَفاءِ مُحِبّينا وَ أهْلِ وِلايَتِنا يَوْمَ الْقِيامَةِ، وَالاْنْوارُ تَسْطَعُ مِنْ تيجانِهِمْ

(بحار الانوار؛ ج۲، ص۶، ضمن ح۱۳)۔

امام علی النقی (علیہ السلام): "ہمارے شیعہ علماء جو ہمارے ناتوان محبین اور ہماری ولایت كا اقرار كرنے والوں كی سرپرستی كرتے ہیں بروز قیامت اس انداز میں وارد ہوں گے كہ ان كے سر كے تاج سے نور كی شعاعیں نكل رہی ہوں گی"۔

10. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): إنَّ لِشيعَتِنا بِوِلايَتِنا لَعِصْمَةٌ، لَوْ سَلَكُوا بِها فى لُجَّةِ الْبِحارِ الْغامِرَةِ

(بحار الانوار؛ ج۵۰، ص۲۱۵، ح۱، س۱۸)۔

امام علی النقی (علیہ السلام): "ہمارے شیعوں كیلئے ہماری ولایت پناہ گاہ ہے جسكے ذریعے وہ گہرے سمندروں كی موجوں پر بھی چل سكتے ہیں"۔

                                بشکریہ اسلام ٹائمز


متعلقہ تحریریں :

بلا تحقيق کچھ مت بولو

پاک صاف دل تو اللہ کا گھر ہے