• صارفین کی تعداد :
  • 3597
  • 10/24/2009
  • تاريخ :

پاک صاف دل تو اللہ کا گھر ہے

الله

حضرت شیخ عبدلقادر جيلاني رحمہ اللہ کي خدمت ميں ايک طالب علم بہت دور دراز کا سفر کرکے حاضر ہوا، ديکھا تو مالدار ہيں، نوابوؤ کے سے کارخانے ہيں ، اميروں کي سي بارگاہ نوکر چاکر۔

اس شخص نے اپنے دل ميں کہا کہ يہاں خدا پرستي کا کيا ذکر ہے،لين چونکہ دور سے آيا تھا اس لئے قيام کيا، دونوں وقتت شيخ کي خدمت ميں جاتا۔

ايک روز شيخ کے نام کسي خادم کا خط آيا کہ فلاں جہاز جس پر دو لاکھ روپے کا مال تجارت کو جاتا تھا، ڈوب گيا، يہ سنکر شيخ نے فرمايا الحمد اللہ پھر چند روز کے بعد اسي خادم کا خط آيا کہ وہ جہاز جو مال تجارت لے کر ڈوبا تھا نکل آيا اور مال کو بھي نقصان نہیں پہنچا۔

شیخ نے سن کر فرمايا الحمد اللہ تب تو طالب سے رہا نہ گيا، اور پوچھا اگر ارشاد ہو تو ايک شبہ عرض کروں۔ فرمايا کرو۔

اس نے عرض کيا حضرت يہ مال تجارت دو حال سے خالي نہيں، مال حلال ہے يا مال حرام، اگر حلال ہےتو اس کے تلف پر الحمد اللہ کہنا کيا معني ؟

اور اگر حرام ہتو اس کي بچ جانے پر شکر کيسا؟

شيخ نے مسکرا کر کہا مال تو حلال و طيب ہے، ليکن شکر نہ ضائع ہونے پر تھا نہ ہي بچ جانے پر، جب مجھ کو تلف کي خبر ہوئي تو ميں نے اپنے دل کي حالت پر نظر کي کہ ديکھوں اس نقصان نے کيا اثر پيدا کيا، غور کيا تو معلوم ہوا کہ دل پر مطلق اثر نہيں ، پھر بچ جانے کے وقت بھي دل کا وہي حال پايا۔

پس ميں نے دونوں حالتوں ميں اس بات شکر کيا الحمد اللہ دنيا کا نفع و نقصان ميري نظر ميں ہيچ ہے، بے شک دنيا کے تعلقات ميں آلودہ رہ کر بےتعلق رہنا مرداہ حق کا کام ہے۔

دوستو۔۔۔ جو ہر حال میں اللہ کے فيصلے پر راضي رہتا اس کي دنيا اس کيلئے جنت کا نمنونہ بن جاتي ہے۔

 

ہر حال میں راضي برضا ہوتو مزہ ديکھ

دنيا ہي ميں رہتے ہوئے جنت کا مزہ ديکھ


متعلقہ تحریریں :

کامیاب لوگوں کی باتیں

راز مؤفقیت