• صارفین کی تعداد :
  • 1643
  • 8/30/2009
  • تاريخ :

امریکہ کا خود ساختہ زخم

نائن الیون کا سانحہ

نائن الیون کا سانحہ القاعدہ کا کیا دھرا نہیں لگتا کیونکہ اس کے پاس اتنی ٹیکنالوجی، اتنی مہارت اور امریکہ کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اندر اس کا اتنا بڑا نیٹ ورک نہیں ہے کہ دنیا کی سپرپاور امریکہ میں دن دہاڑے، اتنی آسانی سے اور بلاروک ٹوک وہ آپریشن کرسکے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کے بعد عالم اسلام پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ میں نائن الیون کے واقعہ کو اسلام کے بنیادی اصولوں کے منافی سمجھتا ہوں۔ اسلام بے گناہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو ہلاک کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا چنانچہ نائن الیون کا سانحہ کھلم کھلا دہشت گردی کی ذیل میں آتا ہے۔ ان تکنیکی اعتراضات کا جواب  مغرب کے تکنیکی ماہرین کی طرف سے دستاویزی فلموں اور کتابوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے اور جو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ سارا کیا دھرا کسی اور کے عالمی ایجنڈے کا حصہ تھا جس کا ملبہ القاعدہ پرڈالنے کی کوشش کی گئی تاکہ بعد میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام کا جواز حاصل ہوسکے۔

چنانچہ میں اپنے کالم  میں شہری آزادیوں کے لئے کام کرنے کی شہرت رکھنے والے دانشور تھیری میسن (Thiery Meyssan) کی کتاب ”نائن الیون… ایک عظیم جھوٹ“ (9/11......The big Lie) میں درج کچھ تحفظات کا حوالہ دوں گا ۔

تھیری میسن کثیر الجہات یورپین مصنف ہیں ۔ ان کی کتاب”نائن الیون…ایک عظیم جھوٹ“ لندن سے شائع ہوئی۔ ان کی شہرت شہری آزادیوں کے لئے کام کرنے والے ایک شخص کی ہے۔ وہ ایک ماہنامے کے بھی ایڈیٹر ہیں اور تحقیقاتی رپورٹنگ کے حوالے سے بھی وہ معروف ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں جو ان کی مثبت پہچان کا باعث ہیں۔ تھیری میسن نے9/11کے سانحہ پر امریکہ کے سرکاری موٴقف کہ یہ القاعدہ کا کیا دھرا ہے ، کو بہت موٴثر انداز میں چیلنج کیا۔ ان کی متذکرہ کتاب تمام تر ان دستاویزات پر مبنی ہے جو وائٹ ہاؤس اور امریکہ کے محکمہ دفاع نے جاری کیں۔ ان دستاویزات کے تجزئیے کے بعد مصنف اس نتیجے پر پہنچے کہ9/11 دراصل”امریکہ کا خود ساختہ زخم“ ہے جس کی پلاننگ بہت پہلے سے کی جا چکی تھی۔ مصنف نے اپنی کتاب میں جن نکات کی نشاندہی کی ہے ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

مصنف اس حوالے سے اپنی حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ور اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس امریکی افواج کس طرح اپنے دفاعی مرکز کے دفاع میں مکمل طور پر ناکام رہیں، چنانچہ وہ اس سلسلے میں مختلف سوال اٹھاتا ہے۔

مصنف کے مطابق پینٹاگون کے بارے میں جو پریس ریلیز شائع کی گئیں ان میں حملہ آور کو کبھی ایک ہیلی کاپٹر اور کبھی بوئنگ طیارہ قرار دیا گیا۔

تحریر : عطاالحق قاسمی ( روزنامہ جنگ )


متعلقہ تحریریں:

نہرو کے دور حکومت میں داخلی امن وامان اور خارجہ پالیسی

نہرو کی تعلیمی اور معاشرتی اصلاحات