• صارفین کی تعداد :
  • 7484
  • 6/17/2009
  • تاريخ :

مسلمان اور سائنس

سائنس

مسلمانوں کا شاندار ماضی ،روشن مستقبل کی دلیل ہے ۔ مسلمانوں کی ذہنی بیداری ہی سیاسی بیداری ہے اور جب سیاسی بیداری پیدا ہوجاتی ہے تو ذہنی بیداری اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ ایک زمانہ تھا مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے ، ذوق عبادت اور عشق الٰہی کو وہ سرمایہ حیات سمجھتے تھے وہ اللہ کو یاد کرتے تھے تو وہ بھی ان کو فراموش نہ کرتا تھا ۔ ان میں جذبہ عمل تھا تو اللہ نے ان کو زمین کی وراثت سونپ دی تھی اور ہر نعمت سے نوازا تھا، وہ دُنیا کے جس کسی حصہ پر قدم رکھتے ،کامیابی ان کے پاﺅں چومتی ، روحانی ‘اخلاقی ‘سیاسی ‘ تمدنی ‘ثقافتی ‘معاشرتی میدان میں انہوں نے وہ کمال حاصل کیا تھا کہ اُس وقت کی دنیا انگشت بدندان رہ گئی اور اُن کو لوگ ساحر کے نام سے پکارنے لگے تھے ۔ دینی علوم کے علاوہ علم طب، فلسفہ ، ریاضیات ، فلکیات ، فن تعمیر ، صنعت،حرفت ، دستکاری ، خلافت ، سیاحت، جغرافیہ ، انجینئرنگ ، فنون لطیفہ ، علم طبیعات ، کلچر وغیرہ میں دنیا نے اُن کو مسلمہ امام مانا تھا ۔

 

دورِ جدید میں سائنس کو جو اہمیت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن تاریخ عالم شاہد ہے کہ وہ دیگر علوم کے ساتھ جدید علم سائنس کی بنیاد علماء اسلام کے مقدس ہاتھوں نے رکھی ہے اور آج یورپ اور دنیا کے بڑے بڑے ممالک سائنس کے میدان میں جو سرگرمیاں دکھا رہے ہیں ان کی نشاندہی مسلمانوں نے آٹھ سو برس پہلے کی تھی بلکہ بعض ایجادات ایسی بھی ہیں جن کے بنانے سے اس وقت بھی اہل دنیا عاجز ہیں ۔مسلمانوں نے اپنے عروج کے زمانے میں جو حیرت انگیز علمی ومادّی ترقیاں اور سائنسی ایجادات دنیا کے سامنے رکھیں وہ اس بات پر پورے شہادت ہے اور ان کے کارناموں کا بین ثبوت ہے جس کا اعتراف نہ صرف یورپی مورخین نے کیا بلکہ دیگر ممالک کے لوگوں نے بھی کیا ہے چنانچہ کمیونسٹ روس 10نومبر 1957ءکو ماسکو ریڈیو کے ایک نشریہ سے بھی اس کا انکشاف کیا کہ روس مصنوعی سیاروں اور دور مار راکٹوں کے نظریہ میں مسلمانوں سائنسدانوں  کا رہین منت ہے ۔

تحریر : سجاد رشید (https://www.kashmiruzma.net )


متعلقہ تحریریں:

اسلا م اور سائنس میں عدم مغایرت

قرآنی تعلیمات اور سائنسی علوم کی ترغیب