• صارفین کی تعداد :
  • 4004
  • 6/16/2009
  • تاريخ :

اسلام میں شادی بیاہ  ( حصّہ سوّم )

شادی بیاہ

" ویل ڈورانٹ " كہتا ہے:

" اگر لوگ اپنی زندگی كے بہترین اور موزوں سالوں میں شادیاں كرنا شروع كردیں تو بے حیائیاں ، خطرناك بیماریاں ، بے نتیجہ تنہائیاں اور ناگوار گوشہ نشینیاں اور وہ بغاویتں اور سركشیاں جو آج كے دور كو داغدار بنا چكی ہیں ، گھٹ كر نصف رہ جائیں ۔" 1

آج ماضی كے برعكس بہت سی ركاوٹیں شادی كی راہ میں حائل نظر آتی ہیں ۔ ان میں سے ایك ناكافی آمدنی ہے ۔ آج كی دنیا میں جوانوں كے جنسی بلوغ اور اقتصادی بلوغ كے درمیان ایك فاصلہ پیدا ہو گیا ہے اور یہ چیز شادی دیر سے ہونے كا سبب بنتی ہے ۔

جو نوجوان علمی اور صنعتی شعبوں میں اپنی تكمیل چاہتے ہیں انھیں طویل برسوں تك تعلیم حاصل كرنی پڑتی ہے تاكہ وہ كچھ كمائی كرسكیں اور اپنے خاندان تك تعلیم حاصل كرنی پڑتی ہے تاكہ وہ كچھ كمائی كرسكیں اور اپنے خاندان كی ضروریات پوری كرسكیں ۔ لیكن تعلیم كے اس درمیانے عرصے میں ان پر جنسی خواہشات غالب آنے لگتی ہیں اور انھیں فساد اور بگاڑ كے تنگ راستے پر ڈال دیتی ہیں ۔

" ویل ڈورانٹ " لكھتا ہے:

" ماضی كی طرح اس دور میں بھی جنسی بلوغ كی منزل جلد آتی ہے جب كہ اقتصادی بلوغ كی منزل دیر میں آتی ہے ۔ ایك دیہاتی زندگی میں ، شہوتوں كو قابو میں ركھنا ، معقول اور عملی دكھائی دیتا ہے ۔ لیكن ایك صنعتی معاشرے میں شادی كو تیس سال كی عمر تك ٹالنا ایك مشكل اور غیر فطری كام معلوم ہوتا ہے۔ شہوت اپنا سر اٹھاتی ہے اور اسے قابو میں ركھنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ "2

پھر بعض لوگ شادی كے مختلف رسوم اور رواج كو اتنی اہمیت دیتے ہیں كہ تھوڑی مدت كے اندر شادی كے انتظامات كرنا ان كے لئے مشكل ہوتا ہے اور وہ اس كے لئے زیادہ وقت لینا چاہتے ہیں ۔ یہ چیز بھی نوجوان نسل كو اكثر گناہوں میں آلودہ كردیتی ہے ۔

حوالہ جات :

1. لذات فلسفہ ص 184 ۔

2. لذات فلسفہ ۔

مجلس مصنفين اداره در راه حق (قم ايران)

ترجمه: محمد خالد فاروقى  (https://www.alhassanain.com  )


متعلقہ تحریریں:

شادی جسم و جان اور قسمت و سر نوشت کا ملاپ (حصہ اول)

شادی جسم و جان اور قسمت و سر نوشت کا ملاپ (حصہ دوم)

شادی کیلئے مناسب عمر