• صارفین کی تعداد :
  • 4139
  • 4/28/2009
  • تاريخ :

گر دوستی میں آج بھی اپنا مقام ہے

دوستی

گر دوستی میں آج بھی اپنا مقام ہے
دشمن کی صف میں بھی ھمیں شہرت تمام ہے

 

یہ اسلحے کی تھاپ کسی  اور کو سنا

لشکر کشی تو میرے قبیلے میں عام ہے

 

خیبر ہو کربلا ہو یا ملتان کا قلعہ

ان سب پہ آج بھی میرے آباء کا نام ہے

 

ہو جس کو بھی غرور رگ دشمن پہ وار کا

چپکے سے جاں لٹانا بھی اس کا ہی کام ہے

 

تلوار اور قلم کا حسیں امتزاج ہے

شہباز لامکاں کا یہ ادنی غلام ہے 

 

شاعر کا نام : ڈاکٹر کاشف سلطان

کتاب کا نام : محبت بانجھ رشتہ ہے

پیشکش : شعبۂ تحریرو پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

لکھتا ہوں کہ شاید کوئی افکار بدل دے

رات بھر اکیلا تھا اور دن نکلتے ہی