• صارفین کی تعداد :
  • 3570
  • 3/23/2009
  • تاريخ :

سورہ یوسف  ۔ع ۔ (32) ویں  آیت کی تفسیر

قرآن کریم

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

اور اب سورۂ یوسف (ع) کی آیت 32 میں ارشاد ہوتا ہے :

" قالت فذالکنّ الّذی لمتنّنی فیہ و لقد راودتّہ عن نفسہ فاستعصم و لئن لّم یفعل ما امرہ لیسجننّ و لیکونا مّن الصّاغرین "

( زلیخا نے ) مصری عورتوں سے کہا : یہی وہ شخص ہے جس کی خاطر تم لوگ میری سرزنش کررہی تھیں یقینا" میں نے اس کو حاصل کرنا چاہا اور اس نے خود کو بچا لیا ( پھر بھی ) اب میں جو کچھ اس کو حکم دوں گی اگر اس نے اس پر عمل نہ کیا تو جیل میں ڈال دیا جائے گا اور ذلیل و رسوا ہوگا ۔

قرآن کریم نے اس آیت میں گنہکاروں کے نفسیات کی بڑے حسین انداز میں ترجمانی کی ہے ایک طرف تو زلیخا نے اپنی نازیبا حرکت پر شوہر کی بدگمانی دور کرنے کے لئے اپنا گناہ حضرت یوسف (ع) کے سرمنڈھنے کی کوشش کی اور خود کو بے گناہ بتایا مگر جب بات نہ بنی اور شوہر پر حقیقت منکشف ہوگئی اور اس نے یوسف (ع) کو بے قصور اور خود اپنی بیوی کو خطاکار قرار دے کر اسے استغفار کی تلقین کرتے ہوئے مسئلہ درگزر کردیا تو گویا اس کوشہ مل گئی اور جب مصری عورتوں نے بات کو ہوا دے کر تادیب و سرزنش کی تو اس نے ان کے سامنے اچانک ہی یوسف (ع) کو بلا لیا اور حسن یوسف (ع) نے ان مصری عورتوں کو اس قدر مدہوش کردیا کہ وہچاقوؤں سے خود اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں تو اب زلیخا کی جرات بڑھی اور اس نے ان کے سامنے اپنے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی بے حیائي پر اصرار کے انداز میں کہا : تم نے ہاتھ کاٹ کر ثابت کردیا ہے کہ میں نے جو اپنی آگ بجھانے کی کوشش کی تھی بلا وجہ نہیں تھی میں اپنی حرکت پر شرمندہ نہیں ہوں ایک مالکن کی حیثیت سے حق رکھتی ہیں کہ جو کچھ بھی کہوں میرا یہ غلام میری ہر خواہش کو پورا کرے اور اگر اس نے میرے کہنے پر عمل نہ کیا تو اس کو جیل میں ڈال دوں گی اور یہ ذلیل و خوار ہوگا زلیخا در اصل اسی مزاج کی ترجمانی کررہی تھی جو آج بھی نام نہاد مہذب دنیا میں اور زیادہ رنگ و روغن کے ساتھ رواج دیا جا رہا ہے کہ

" عشق و محبت میں سب کچھ صحیح ہے حسن و جمال پر فریفتہ ہوجانا عشق کا تقاضا ہے اگر عشق شادی کے مرحلے تک کامیاب نہ ہو سکے تو دوستی کی صورت میں برقرار رکھا جا سکتا ہے چنانچہ عشق و دوستی کے نام پر بے عفتی اور بے حیائی شادی شدہ عورتوں اور مردوں کے درمیان بھی مہذب سوسائٹیوں میں ہنر سمجھی جانے لگی ہے ۔ایسے معاشروں میں قرآن کی ان آیات سے استفادہ کرتے ہوئے الہی اقدار کی وضاحت ضروری ہے تا کہ مہذب ساسائٹیوں کے زہریلے اثرات دیندار مسلمانوں کو متاثر نہ کریں ۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہی ہے کہ زلیخا ایک طرف یوسف (ع) کی بے گناہی کی معترف ہے دوسری طرف اپنے حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں جیل میں ڈال دئے جانے کی دھمکی بھی دے  رہی ہے جو بظاہر اس لئے ہے کہ اس کے غلام آئندہ کسی مخالفت کی جرات نہ کرسکیں ۔

                        اردو ریڈیو تہران