• صارفین کی تعداد :
  • 9156
  • 1/10/2009
  • تاريخ :

محنت کی عظمت

hans kristian anderson

ہينس کرسچن اينڈرسن ڈنمارک کے ايک چھوٹے سے قصبے ميں پيدا ہوا ۔اس کا باپ ايک غریب مگر رحم دل انسان تھا ۔ ہينس بچپن ميں اپنے باپ سے گھنٹوں قصے کہانیاں سنتا ، ہينس کے باپ نے کہانیوں ميں اس کی دلچسپی کو ديکھتے ہوئے اپنی غربت کے باوجود اسے چھوٹا سا پتلی تھيٹر بنا کر دیا تاکہ وہ ان انوکھی کہانیوں پہ ڈرامے بنائے۔ بدقسمتی سے اس کے والد کی بہت جلد وفات ہو گئی اور اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی۔

ہينس کی پڑھائی اور دوسری سرگرمیوں ميں دلچسپی بالکل ختم ہو چکی تھی سکول ميں بھی وہ نالائق بچہ مشہور تھا۔ ہينس کی واحد دلچسپی کہانیاں اور ڈرامے لکھنا تھا وہ ان کہانیوں کو اپنے تھيٹر کے لیے تیار کرتا ۔

ہينس کی آواز بہت خوبصورت تھی وہ جب گنگناتا تو اردگرد کے لوگ اس کے لہجے کے سوز سے چونک اٹھتے۔

 

سال 1819 کے ايک عام سے دن ميں اس نے ملک کے دارلحکومت کوپن ہیگن جانے کا فيصلہ کر لیا تاکہ وہاں ڈانس کی تعلیم حاصل کر سکے ،اس کا خیال تھا کہ وہ اچھے سنگر کے ساتھ ساتھ اچھا ڈانسر بھی بن سکتا ہے۔

اس نے اپنے سامان کی چھوٹی سی پوٹلی اٹھائی اور تمام جمع شدہ رقم جيب ميں رکھ کر سفر کے لیے نکل کھڑا ہوا۔

کوپن ہيگن ميں اس فنکار کے ساتھ لوگوں نے بہت عجیب سلوک کیا ۔ رائل تھيٹرکے پرنسپل نے کہا کہ وہ بہت پتلا اور لمبا ہے -

 

اس لیے وہ ڈانس کے لیے موزوں نہیں،ليکن ہينس نے ہمت نہ ہاری اور موسیقی کی تربیت حاصل کرنے کا ارادہ کیا ليکن يہاں بھی اس کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

ہينس نے کہیں بھی داخلہ نہ ملنے پر پھر سے کہانیاں لکھنے کی جانب توجہ دی اور رائل تھيٹر کے لیے دو ڈرامے لکھے،

ان ميں سے ايک تھيٹر کے مالک کو کافی پسند آيا تو اس نے ہينس کو بلا بھيجا اور اس کے کام سے خوش ہو کر اسے اپنے تھيٹر ميں داخلہ دے دیا۔ لیکن يہاں بھی وہ اساتذہ اور طالبعلموں کے مذاق کا نشانہ بنتا رہا۔

لندن کے دورے کے دوران وہ چارلس ڈکن سے ملا ۔جب وہ اٹلی سے واپس لوٹا تو اس نے ايک کاميا ب ناول لکھا جس کا نامفThe improvistore  تھا ۔ اس ميں ايک نوجوان شاعر کو زندگی ميں پيش آنے والی مشکلات کا بتايا گیا تھا۔

جلد ہی ہينس بچوں کا نامور اور پسندیدہ ادیب بن گیا۔ اب لوگ اسے پروفيسر ہينس کرسچین اينڈرسن کے نام سے پکارتے ۔

 

1875ميں جب اس کی وفات ہوئی تو وہ قومی ہیرو کی حيثیت اختیار کر چکا تھا۔اس کی خدمات کے صلے ميں کوپن ہيگن کے مشہور پارک ميں اس کا مجسمہ نصب کیا گیا ۔اور جہاں وہ پيدا ہوا تھا وہاں میوزیم قائم کیا گیا۔

ہينس نے زندگی ميں بہت سی مشکلات اٹھائیں اور ثابت قدمی سے آگے بڑھنے کے جذبے نے اسے ايک عظیم انسان بنا دیا۔


متعلقہ تحریریں :

 سبق آموز کہانی

بے زباں پر رحم

بہادر خاتون