• صارفین کی تعداد :
  • 4007
  • 6/9/2008
  • تاريخ :

بہادر خاتون

مسلمان خاتون

جنگ يرموک ميں روميوں کي تعداد مسلمانوں کے مقابلےميں چار گنا زيادہ تھي، ميدان جنگ ميں ايک خيمے کے اندر مسلمان خواتين ٹہري ھوئيں تھيں، ان کے ذمہ زخميوں کي تيمارداري اور مرہم پٹي تھي، ان کو پاني پلانا ، شہيدوں کي قبريں کھودنا، انکے کفن کا انتظام کرنا وغیرہ وغیرہ ۔

مجاہدين اسلام ميدان جنگ ميں لڑ رے تھے، رومي مسلمان خواتين کو اپنے خيمے ميں تنہا پا کر انکے خيمے پر حملہ آور ہوئے اور چاروں طرف سے انکے خيمے کو گھير ليا۔

اس اچانک حملے سے خواتين بے حد پريشان ہوئيں، چنانچہ ان سے نمٹنے کيلئے وہ حضرت خولہ رضي اللہ تعالي کے پاس آئيں اور ان سے کہا ! اب کيا کريں ہمارے پاس نہ تو ہتھيار ہيں، جو ان بزدلوں کا مقابلہ کريں، اور نہ ہي زھر جسکو کھا کر مرجائيں، اور عزت بچائيں۔

ہمت و شجاعت  والي حضرت خولہ رضي اللہ عنہ نے ان سب کي ہمت بندھائي اور کہا۔

بہنوں اللہ پر بھروسہ رکھو وہي ہماري مدد کريگا، ہمت سے کام لو، اسلام ميں خود کشي حرام ہے، حرام موت کا تصور اپنے ذہنوں سے نکال دو۔ اگر ہمارے پاس ہتھيار نہيں تو کيا ھوا، آؤ ان خيموں کے کھونٹے نکال ليں، اور اللہ کا نام، لے کر ان بزدلوں کافروں پر حملہ کريں، انجام اس پر چھوڑ ديں، جس نے ہم کو پيدا کيا ہے۔

خواتين نے اس تجويز کو پسند کيا اور خيموں کے کھونٹے نکال کر اللہ کا نام لے کر روميوں پر ٹوٹ پڑيں، یہ خاتون  نہايت جرات سے دشمنوں کے حملوں کو روک رہي تھي اور ان پر حملے بھي کر رہي تھيں، انکا ہر وار دشمن کيلئے اللہ کا عذاب ثابت ہو رہا تھا۔

ذرا سي دير ميں تيس مرد رومي خاک و خون ميں تڑپ کر ہلاک ہوچکے تھے، يہ حالت ديکھ کر رومي دستے کے سردار کے اوسان خطا ہوگئے، اس نے اپنےساتھيوں سے کہا! بزدلو عورتوں سے پٹ رہے ہو ان سب کو چاروں طرف سے گھيرا تنگ کرکے پکڑ لو۔

حضرت خولہ (رض) يہ سن کر اللہ کے حضور سر بہ سجود ہو کر دعا کرتي ہيں، اے پرور دگار ہماري حفاظت کر ہم مظلوم ھيں ،کمزور ہيں کمزور ہيں تو طاقت والا ہے تيرے قبضے اور اختيار ميں ہر چيز ہے ہميں ان کافروں سے بچا، اپني رحمت سے ہماري مدد فرما۔

حضرت خولہ( رض ) کي زبان سے يہ الفاظ ادا ہوتے ہي ايک سمت سے نعرہ تکبير کا شور سنائي ديتا ہے، جب آپ نے سجدہ کرکے سر اٹھايا تو ديکھا حضرت خالد بن وليد رضي اللہ تعالي عنہ اور مجاہدين نے پوري شدت سے ان کافروں پرحملہ کيا، دشمنوں کيلئے مجاہدين کے وار سے بچنا مشکل ہوگيا، روميوں نے منظر ديکھا تو وہاں سے نکل بھاگنے ھي ميں خیريت سمجھي اور فرار ہوگئے۔


متعلقہ تحریریں:

   پاک دامني

  ايثار و ہمدردي