• صارفین کی تعداد :
  • 9246
  • 2/24/2016
  • تاريخ :

اسلام میں ماں کا مقام و مرتبہ

مسلمان خاتون


حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ایمان کی جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم و محترم مقام عطا کیا، اور ایک بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا، اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بلکہ اسے وراثت میں حقدار ٹھہرایا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا میں عورت کے تمام روپ اور کردار کو اپنی زبانِ مبارک سے یوں بیان فرمایا کہ جس دور میں عورت ہو، جس مقام پر ہو اور اپنی حیثیت کا اندازہ کرنا چاہے تو وہ ان کرداروں کو دیکھ کر اپنی حیثیت کو پہچان سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
وعن انس رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلی الله عليه وأله وسلم : خير نساء العالمين أربع : مريم بنت عمران، وخديجة بنت
خويلد، و فاطمة بنت محمد صلی الله عليه وأله وسلم ، وآسية إمرأة فرعون،
(ابن حبان، الصحيح، 15 : 401، رقم : 6951)
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دونوں جہانوں کی عورتوں میں بہترین عورتیں چار ہیں، حضرت مریم بنت عمران علیھماالسلام، (اُم المومنین) حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا اور فرعون کی بیوی آسیہ علیہاالسلام ۔‘‘
اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عورتوں کی طرف اشارہ فرما کر حقیقت میں چار بہترین کرداروں کی نشاندہی فرما دی، اور وہ کردار جس سے اﷲ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہوئے اور اس مقام سے سرفراز فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا، وہ کردار کیا ہے۔
ایک ماں کا کردار حضرت مریم بنت عمران علیھما السلام
ایک عظیم بیوی کا کردار حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا
ایک عظیم بیٹی کا کردار حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا
ایک عظیم عورت کا کردار حضرت آسیہ علیہا السلام
اسلام نے عورت کو ماں ھونے کی صورت میں ایک خاص درجہ کے اکرام و احترام سے نوازا ہے اور اس کا خصوصی خیال رکھنے اور خدمت و حسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے ۔ ارشاد الہی ہے :
{ تیرے رب کا یہ فیصلہ صادر ھو چکا ہے کہ تم لوگ اسکے سوا کسی کی عبادت ہرگز نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو } ( بنی اسرائییل : 23 )
بلکہ ماں کے ساتھ حسن سلوک کو والد سے بھی زیادہ اہمیت دی ۔ چنانجہ صحیح بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک آدمی آیا او اس نے عرض کیا :
{اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! میں کس کے ساتھ نیکی و حسن سلوک کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اس کے بعد ؟ تو فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ۔ اس نے عرض کیا : اسکے بعد ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ۔ اور اس نے کہا : اسی کے بعد : تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اپنے باپ کے ساتھ } ( متفق علیہ ) ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

عورت کي بھلائي ومصلحت

اسلامي بيداري کي تحريک ميں خواتين کا کردار