• صارفین کی تعداد :
  • 2950
  • 2/15/2015
  • تاريخ :

درفگند از گفتہ رب جليل ( پروین اعتصامی)

درفگند از گفتہ رب جليل ( پروین اعتصامی)

غالباًصبح كا وقت تھا_ابھى اہل مصر محو خواب تھے_مشرق سے پو پھٹ رہى تھي_ماں نے نوزائيدہ بچے اور صندوق كو دريائے نيل كے كنارے لائي،بچے كو آخرى مرتبہ دودھ پلايا_پھر اسے،مخصوص صندوق ميں ركھا(جس ميں يہ خصوصيت تھى كہ ايك چھوٹى كشتى كى طرح پانى پر تيرسكے)پھر اس صندوق كو نيل كى موجوں كے سپرد كرديا_
نيل كى پر شور موجوں نے اس صندوق كوجلدہى ساحل سے دور كرديا_ماں كنارے كھڑى ديكھ رہى تھى _ معاًاسے ايسا محسوس ہوا كہ اس كا دل سينے سے نكل كر موجوں کے اوپر تيررہاہے_اس دقت،اگر الطاف الہى اس كے دل كو سكون و قرار نہ بخشتا تو يقينا وہ زور زور سے رونے لگتى اور پھر سارا راز فاش ہو جاتا،كسى آدمى ميں يہ قدرت نہيں ہے كہ ان حساس لمحات ميں ماںپر جو گزررہى تھي_الفاظ ميں اس كا نقشہ كھينچ سكے مگر _ ايك فارسى شاعرہ نے كسى حد تك اس منظر كو اپنے فصيح اور پر از جذبات اشعار ميں مجسم كيا ہے_

1_مادر موسى (ع) چو موسى (ع) رابہ نيل
درفگند از گفتہ رب جليل

2_خودز ساحل كرد باحسرت نگاہ
گفت كاى فرزند خرد بى گناہ

3_گر فراموشت كند لطف خداى
چون رہى زين كشتى بى ناخداي

4_وحى آمد كاين چہ فكر باطل است
رہرو ما اينك اندر منزل است

5_ماگرفتيم آنچہ را انداختى
دست حق را ديدى ونشاختي

6_سطح آب از گاہوارش خوشتراست
دايہ اش سيلاب و موجش مادراست

7_رودھا از خودنہ طغيان مى كنند
آنچہ مى گوئيم ما آن مى كنند

8_ما بہ دريا حكم طوفان مى دہيم
ما بہ سيل وموج فرماں مى دہيم

9_نقش ہستى نقشى از ايوان ما است
خاك وباد وآب سرگردان ماست

10_بہ كہ برگردى بہ ما بسپاريش
كى تو از ما دوسترمى داريش؟

1_جب موسى (ع) كى ماں نے حكم الہى كے مطابق موسى (ع) كو دريائے نيل ميں ڈال ديا_
2_وہ ساحل پركھڑى ہوئي حسرت سے ديكھ رہى تھى اور كہہ رہى تھى كہ اے ميرے بے گناہ ننھے بيٹے
3_اگر لطف الہى تيرے شامل حال نہ ہو تو ،تو اس كشتى میں کیسے سلامت رہ سكتا ہے جس كا كوئي نا خدا نہيں ہے_
4_حضرت موسى عليہ السلام كى ماںكو اس وقت وحى ہوئي كہ تيرى يہ كيا خام خيالى ہے ہمارا مسافر تو سوئے منزل رواںہے_
5_تونے جب اس بچے كو دريا ميں ڈالاتھا تو ہم نے اسے اسى وقت سنبھال ليا تھا _ تو نے خدا كا ہاتھ ديكھا مگر اسے پہچانا نہيں_
6_اس وقت پانى كى سطح(اس كے ليے)اس كے گہوارے سے زيادہ راحت بخش ہے_دريا كا سيلاب اس كى دايہ گيرى كررہا ہے اور اس كى موجيں آغوش مادر بنى ہوئي ہيں_
7_ديكھوں دريائوں ميں ان كے ارادہ و اختيار سے طغيانى نہيں آتي_وہ ہمارے حكم كے مطيع ہيں وہ وہى كرتے ہيں جو ہمارا امر ہوتا ہے_
8_ہم ہى سمندروں كو طوفانى ہونے كاحكم ديتے ہيں اور ہم ہى سيل دريا كو روانى اور امواج بحر كو تلاطم كا فرمان بھيجتے ہيں_

9_ہستى كا نقش ہمارے ايوان كے نقوش ميں سے ايك نقش ہے جو كچھ ہے،يہ كائنات تو اس كامشتے ازخروارى نمونہ ہے_ اور خاك،پاني،ہوا اور آتش ہمارے ہى اشارے سے متحرك ہيں_
10_بہتر يہى ہے كہ تو بچے كو ہمارے سپرد كردے اور خود واپس چلى جا_ كيونكہ تو اس سے ہم سے زيادہ محبت نہيں كرتی_


متعلقہ تحریریں:

پروین اعتصامی ایک عظیم شاعرہ

پروین اعتصامی کی بیماری اور موت